"آیت اللہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

22 بائٹ کا ازالہ ،  1 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← عبد اللہ؛ تزئینی تبدیلیاں
م (خودکار صفائی+صفائی (14.9 core))
م (خودکار: خودکار درستی املا ← عبد اللہ؛ تزئینی تبدیلیاں)
== تاریخ ==
 
[[اہل تشیع]] میں خصوصاً تاریخ کے ہر دور میں فقہا اور اہل علم حضرات کو مختلف قسم کے خطابات اور القابات دیے جاتے رہے ہیں جیسے کہ: مفید، صدوق، شیخ الطائفہ، شیخ الاسلام، حجۃ اللہ، حجۃ الاسلام اور ملا وغیرہ۔ اِن اعزازی خطابات کا مقصد متعلقہ اشخاص کی خصوصی تعظیم و تکری کے علاوہ اُن کے علمی و فکری پائے کا اِظہار کرنا ہوتا تھا۔ اِنہی القابات میں آیت اللہ بھی شامل ہے۔ بعض ماخذوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے یہ خطاب جمال الدین حسن بن یوسف بن مطہر حلّی المعروف بہ [[علامہ حلی]] (متوفی 27 دسمبر 1325 ء) کو دِیا گیا۔ [[ابن حجر عسقلانی]] اُنہیں ’’'''آیۃ فی الزکاء'''‘‘ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔<ref>[[ابن حجر عسقلانی]]: لسان المیزان، جلد 2، صفحہ 317۔ مطبوعہ [[بیروت]]، [[لبنان]]، [[1390ھ]]</ref> چنانچہ شرف الدین شولستانی، شیخ بہاء الدین عاملی اور [[محمد باقر مجلسی]] نے اپنے شاگردوں کو جو اِجازت نامے لکھ کر دیے، اُن میں وہ [[علامہ حلی]] کو ’’آیۃ اللہ فی العالمین‘‘ لکھتے ہیں۔<ref>[[محمد باقر مجلسی]]: [[بحار الانوار]]، جلد 1، صفحہ 104 تا 107۔ مطبوعہ [[بیروت]]، [[لبنان]]، [[1303ھ]]</ref>
 
=== [[چودہویں صدی|چودہویں صدی ہجری]] میں اِس لقب کا اطلاق ===
[[محمد باقر مجلسی]] نے اپنے مشائخ میں سے شمس الدین محمد بن مکی کے لیے بھی یہ لقب اِستعمال کیا ہے۔ تاہم اِس کے بعد سے چودہویں صدی ہجری کی ابتدا تک کسی اور کے لیے یہ لقب اِستعمال نہیں کیا گیا۔ چودہویں صدی ہجری کی ابتدا میں سب سے پہلے یہ لقب [[مرزا حسین نوری طبرسی]] (متوفی [[1902ء]])نے [[سید محمد مہدی بحر العلوم]] کے لیے اِستعمال کیا۔ اِس کے کچھ عرصہ بعد [[شیخ عباس قمی]] (متوفی [[21 جنوری]] [[1941ء]])نے یہی لقب [[مرتضیٰ انصاری]] (متوفی [[18 نومبر]] [[1864ء]])، شیخ حسین نجفی اور [[سید محمد حسن شیرازی]] کے لیے اِستعمال کیا۔<ref>[[مرزا حسین نوری طبرسی]] : مستدرک الوسائل، جلد 2، صفحہ 397۔ جلد 3، صفحہ 222۔</ref> حالانکہ اِس سے قبل تمام فقہا و علما کو حجۃ الاسلام کہا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ شیعی مؤرخین اِس لقب کا اطلاق ملا کاظم خراسانی، حاجی مرزا حسین نوری طبرسی (متوفی [[1902ء]])، مرزا خلیل اور شیخ عبداللہعبد اللہ ماژندرانی وغیرہ پر بھی کرنے لگے۔ جبکہ اِس سے قبل اِن سب کے لیے حجۃ الاسلام کا لقب اِستعمال ہوتا تھا۔ [[1922ء]]<nowiki/>میں [[قم]] میں شیخ عبدالکریم حائری کی کوششوں سے حوزہ علمیہ کی بنیاد پڑی تو اُس کی مرکزیت قائم ہوجانے کے بعد اِس درسگاہ میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے الے علما اور فقہا کو یہ خطاب دِیا جانے لگا۔ وہ چند فقہا یا علما جنہوں نے زیادہ مرکزیت حاصل کرلی تھی، اُنہیں ’’'''آیت اللہ العظمیٰ'''‘‘ قرار دِیا جانے لگا۔ [[بیسویں صدی|بیسویں صدی عیسوی]] میں اِس لقب سے سب سے زیادہ شہرت [[آیت اللہ خمینی]] (متوفی [[1989ء]])نے پائی۔
 
== مشہور آیت اللہ ==
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
[[زمرہ:آیت اللہ]]
 
[[زمرہ:آیت اللہ| ]]
[[زمرہ:اسلامی القابات]]
[[زمرہ:سیاسی اصطلاحات]]
[[زمرہ:مذہبی اصطلاحات]]
[[زمرہ:مذہبی قائدین کے کردار]]
{{حوالہ جات}}
102,783

ترامیم