"بچوں کی قربانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب+صفائی (14.9 core): + زمرہ:مذہب اور تشدد
(درستی)
م (خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب+صفائی (14.9 core): + زمرہ:مذہب اور تشدد)
 
'''بچوں کی قربانی''' بچوں کی رسمی قربانی کا نام ہے۔ اس کا مقصد کسی [[معبود]] کی رضامندی یا کسی [[مافوق البشر]] جان دار کی خوش نودی حاصل کرنا ہے کہ تاکہ کوئی مطلوبہ نتیجہ حاصل ہو سکے۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے [[انسانوں کی قربانی]] ہے۔ اس رسم کو پوری تاریخ میں قابل لحاظ حد تک تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ بہ طور ان اصحاب کے لیے ایک ہتھیار کا کام کرتا ہے جو [[مذہب کی تنقید]] سے جڑے ہوئے ہیں۔ بچوں کی قربانی اُس خیال کی انتہائی توسیع سمجھی گئی ہے اور اس کا اہم عنصر جو قربانی ہے، اس کا انجام دینے والا اپنے آپ میں عقائد کی رو سے خدا ترس سمجھا جاتا ہے۔<ref>{{cite web|url=http://penelope.uchicago.edu/Thayer/E/Roman/Texts/secondary/SMIGRA*/Sacrificium.html|title=LacusCurtius • Greek and Roman Sacrifices (Smith's Dictionary, 1875)|publisher=|accessdate=5 اگست 2015}}</ref>
 
== بچوں کی قربانی کے پس پردہ تصورات ==
بچوں کی قربانی چوں کہ عالمی سطح پر انجام پائی ہے، اس لیے اس کے پس پردہ تفصیلات کے حساب سے مختلف رہے ہیں۔ اہم عناصر عقائد اور مذہبی فریضے کی انجام دہی رہے ہیں۔ بھارت جیسے ملک میں جہاں آج بھی کم ہی سہی مگر قانونی روک ٹوک کے باوجود بچوں کی قربانی رائج ہے، اس کے پس پردہ چند تصورات اس طرح رہے ہیں:
 
* کالی جیسی کئی ہندو دیویوں کے آگے بلی چڑھانے کی رسوم صدیوں سے چلی آ رہی ہیں۔ اس میں انسان، نو مولود بچے، غیر شادی شدہ لڑکیاں، بکرے اور بھینس وغیرہ سب ہی شامل ہیں۔ اس بلی یا قربانی کو تبرک اور خیر و برکت کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ کسی کام کے حصول کے لیے اسے ضروری، خطاؤں کا کفارہ اور مستقبل کی فتح اور کامیابی کے لیے ماحول کو سازگار بنانے میں اس قربانی کو معاون سمجھا جاتا ہے۔
* دنیا کے ہر حصے میں چوپایوں اور یہاں تک کہ انسان تک کی بلی دینے کا رواج کبھی نہ کبھی ضرور رہا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی حصہ ایسا نہیں ہے، جہاں بلی کی رسم نہیں تھی یا اسے کسی نہ کسی طرح انجام نہیں دیا گیا ہو۔ اس کے اسباب پر اگر غور کیا جائے تو ایک سوچ یہ نکل کر آتی ہے کہ ایک زندگی کو مارنے کا مقصد یہ نہیں کہ اس سے کوئی بھگوان خوش ہوگا۔ اس کا بھگوان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کا مقصد ہے جسم کو ختم کرکے، زندگی کو چلانے والی توانائی کو باہر نکالنا اور اس توانائی کا ایک خاص مقصد کے لیے استعمال کرنا۔ یہ طریقہ اگر چیکہ بے رحمانہ اور غیر مہذبانہ تھا، مگر پھر بھی توانائی کی روانی اور خدا سے اس کے دوسرے سمت روانہ کرنے کی ایک طرح کی التجا تھی۔
* بچوں کی بلی کے حامیوں کا یہ بھی دعوٰی ہے ہر انسان کو زندگی میں کچھ نہ کچھ قربانی دینا ہی پڑتا ہے۔ یہ بھلے ہی بچے کی پیدائش کے وقت ماں کے جسم سے خون کا بہنا ہو یا اس کے لیے ماں کا اپنی نیند چین کو قربان کرنا ہو۔ ایک باپ بھی اسی طرح اولاد کی خوشی کے لیے کئی قربانیاں دیتا ہے۔ کچھ لوگوں اس جذبہ ایثار کو بلی اور قربانی کے جواز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔<ref>[http://isha.sadhguru.org/blog/hi/yog-dhyan/kali-mandir-kyon-di-jaati-hai-bali/ काली मंदिर : क्याें चढ़ाई जाती है बलि?]</ref>
 
== بچوں کی قربانی کی تاریخ ==
بچوں کی قربانی کی تاریخ ہزاروں سالوں سے چلتی آئی ہے۔ یہ کئی ملکوں کو تہذیبوں میں رائج رہی ہے۔ چوں کہ بچے عمومًا اپنا دفاع خود نہیں کرتے، اس لیے بالغوں کے مقابلے یہ عمل ان بچوں کے لیے سہل ہے۔ تاہم اس رسم و رواج میں ماں باپ کی کئی بار مرضی شامل رہی بھی اور کبھی کبھی یہ عمل جبری طور پر بھی انجام پایا ہے جس میں ماں باپ کی مرضی کا کچھ عمل دخل نہیں تھا۔ حالاں کہ بیشتر ممالک میں یہ رسم اب مفقود ہے، تاہم بھارت جیسے کچھ ممالک میں یہ رسم آج بھی گاؤں دیہاتوں اور قبائل میں پائی جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی بچوں کی قربان گاہ کی دریافت [[2011ء]] میں پیرو میں ہوئی۔ اس مقام پر شاید 140 بچوں کو قربان کیا گیا تھا۔<ref>[https://www.bbc.com/urdu/world-43934625 140 سے زائد بچوں کی قربانی]</ref> ماہرین کے مطابق قربان کیے جانے والے ان بچوں کی عمر پانچ سے 14 برس کے درمیان تھی۔ اسی طرح کے شواہد قدیم [[میکسیکو]] میں ملے۔
 
== مزید دیکھیے ==
* [[بچہ کشی]]
* [[مادہ بچہ کشی]]
* [[بھارت میں بچہ کشی]]
* [[انسانی قربانی]]
* [[بھارت میں بچوں کی قربانی‏قربانی]]
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
 
[[زمرہ:بچوں کی قربانی]]
[[زمرہ:مذہب اور تشدد]]