"اسلام" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: خودکار درستی املا ← جس؛ تزئینی تبدیلیاں
م (BukhariSaeed (تبادلۂ خیال) کی ترامیم Hindustanilanguage کی گذشتہ ترمیم کی جانب واپس پھیر دی گئیں۔)
(ٹیگ: استرجع)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← جس؛ تزئینی تبدیلیاں)
}}
{{اسلام}}
اسلام ایک {{ٹ}} [[توحیدیت|توحیدی]] {{ن}} مذہب ہے جو [[اللہ]] کی طرف سے آخری [[رسول]] و [[پیغمبر|نبی]]، [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب]] {{درود}} کے ذریعے [[انسان|انسانوں]]وں تک پہنچائی گئی آخری الہامی [[کتاب]] ([[قرآن]] مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، [[610ء]] تا [[632ء]] تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد {{درود}} پر اللہ کی طرف سے اترنے والے [[الہام]] (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں [[نازل]] ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن)<ref name=mawdudi>Is the Qur'an for Arabs Only? By Abul A'la Mawdudi [http://www.islamonline.net/english/Quran/2005/05/article01.shtml آن لائن موقع]</ref> اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی {{د2}}24%{{دخ2}} حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 [[ارب]] افراد<ref>مسلم آبادی [http://dimension.ucsd.edu/CEIMSA-IN-EXILE/archives/bull-345.html 1.6 ارب] اور [http://www.islamicpopulation.com/ 1.82 ارب کا بیان]</ref> اس کو پڑھتے ہیں ؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریبا{{دوزبر}} 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 [[کروڑ]]، [[عجم|غیر عرب]] یا عجمی<ref>Learning Arabic at Berkeley By Sonia S'hiri [http://ls.berkeley.edu/new/02/arabic.html اسی کروڑ]</ref> ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فرد{{زیر}} واحد (محمد {{درود}}) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی [[شریعت]]<ref name=mawdudi/> ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔
 
== لغوی مطلب ==
== اجزائے ایمان ==
{{اصل|اجزائے ایمان}}
اجزائے ایمان سے مراد ان عقائد کی ہوتی ہے کہ جن پر کامل اعتقاد اسلام میں [[ایمان]] (اللہ پر یقین) کی تکمیل کے لیے ضروری ہوتا ہے، عام طور ان میں چھ اجزا کا ذکر زیادہ ہوتا ہے<ref>basic articles of faith [http://www.bbc.co.uk/religion/religions/islam/beliefs/beliefs.shtml صفحہ آن لائن]</ref> جن پر اھل سنی اور اھل تشیع اقرار رکھتے ہیں۔
{| style="float: right; border-top:1px solid #bfb6a3; border-right:1px solid #bfb6a3; border-bottom:1px solid #bfb6a3; border-left:1px solid #bfb6a3;" cellpadding="5" cellspacing="0"
|-
|}
{{Clear}}
بالائی جدول میں بیان کردہ ان اجزا کے لیے چھ کا عدد ناقابل{{زیر}} تحریف نہیں ہے یعنی اجزائے ایمان میں وہ تمام اجزا شامل ہو سکتے ہیں جو کسی شخص کو دل اور زبان سے اللہ کا اقرار کرنے میں معاون ہوں ۔<ref>fundamental articles of faith [http://www.islam101.com/dawah/articlesOfFaith.htm صفحہ آن لائن]</ref> مثال کے طور پر مشہور [[کلمہ]]، [[ایمان مفصل]] (عکس 1) میں ان کی تعداد چھ کی بجائے سات ہو جاتی ہے۔
[[فائل:MUFASSIL.PNG|دائیں|تصغیر|400px|عکس 1۔ ایمان کے اجزا (بالائی سرخ لکیر) کو بیان کرنے والا ایک مشہور کلمہ جسے [[ایمان مفصل]] کہا جاتا ہے۔]]
{{Clear}}
== ارکانِ اسلام ==
{{اصل|ارکان اسلام}}
ارکان اسلام کو اعتقادات{{زیر}} دین یا [[دیانہ]] (creed) سمجھا جاسکتا ہے، یعنی وہ اطوار کہ جو عملی [[حیات|زندگی]] میں ظاہر ہوں ؛ بعض اوقات ان کو دین کے پانچ ستون بھی کہا جاتا ہے کیونکہ [[بشری شماریات]] (demography) کے اندازوں کے مطابق 85 فیصد<ref>اسلام کی آبادیات [[اسلام بلحاظ ملک|آن لائن صفحہ]]</ref> (اور بعض ذرائع کے مطابق اس سے بھی زیادہ)<ref>کتنے شیعہ موجود ہیں؟ [http://islamicweb.com/beliefs/cults/shia_population.htm آن لائن صفحہ]</ref> مسلم افراد، پانچ (5) ارکانِ اسلام پر ہی یقین رکھتے ہیں <ref>islamicity میں اسلام کے پانچ ارکان [http://www.islamicity.com/mosque/pillars.shtml آن لائن صفحہ]</ref> جبکہ {{د2}} 15% {{دخ2}} (اور بعض ذرائع کے مطابق اس سے بھی کم) ایسے ہیں جو اس 5 کے عدد سے انحراف کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا سطور میں شماریاتی تناسب سے حوالۂ مقصود بالترتیب، [[اہل سنت|سنی]] اور [[اہل تشیع|شیعہ]] تفرقوں کی جانب ہے۔
{| style="margin-top:1em; margin-bottom:1em; border-top:1px solid #bfb6a3; border-right:1px solid #bfb6a3; border-bottom:1px solid #bfb6a3; border-left:1px solid #bfb6a3;" cellpadding="5" cellspacing="0"
|-
== تاریخِ اسلام ==
{{اصل|تاریخ اسلام}}
610ء میں قرآن کی پہلی صدا کی بازگشت ایک صدی سے کم عرصے میں [[بحر اوقیانوس]] سے [[وسط ایشیا]] تک سنائی دینے لگی تھی اور [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|پیغمبرِ اسلام]] کی وفات (632ء) کے عین سو سال بعد ہی اسلام [[732ء]] میں [[فرانس]] کے شہر [[تور]] (tours) کی حدود تک پہنچ چکا تھا۔
=== خلافت راشدہ ===
{{اصل مضمون|خلافت راشدہ}}
1258ء میں چنگیز کے پوتے سے بچ نکلنے والے عباسیوں نے مصر میں [[مملوک]]وں کی سلطنت ([[1250ء]] تا [[1517ء]]) میں خلفیہ کا لقب اختیار کر کے عباسی (فرار ہوجانے والی) خلافت کو مملوکوں کی [[سلطنت عثمانیہ|عثمانیوں]] کے [[سلیم اول]] کے ہاتھوں شکست ہونے تک (1517ء) نام دکھاوے کی طرح قائم رکھا اور پھر سلیم اول نے آخری مصری عباسی خلیفہ، [[المتوکل ثانی|محمد المتوکل ثانی]] ([[1509ء]] تا [[1517ء]]) کے بعد خلیفہ کا لقب اس سے اپنے لیے حاصل کر لیا۔ [[ھاشم المعتد باللہ|ھاشم ثانی]] کے بعد [[خلافت قرطبہ]] ([[756ء]] تا [[1031ء]]) ختم ہوئی اور [[اندلس|الاندلس]] چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گیا۔ [[دولت مرابطین]] کے [[یوسف بن تاشفین]] نے [[1094ء]] میں اسے پھر متحد کیا لیکن اس کے بعد [[دولت موحدین|دولت موحدون]] آئی اور [[معرکہ العقاب]] (1212ء) میں ان کی شکست پر دوبارہ اندلس کا شیرازہ بکھر گیا اور [[1492ء]] میں [[ابو عبد اللہ]] اندلس کو [[سقوط غرناطہ|مسیحیوں کے حوالے]] کر کہ [[مراکش]] آگیا۔ ادھر مشرق کی جانب [[مملوک]]وں سے [[سلطنت غزنویہ]] ([[986ء]] تا [[1186ء]]) اور [[سلطنت غوریہ]] ([[1148ء]] تا [[1215ء]]) نے خلافت کو طوائف بنانے میں اپنا کردار ادا کیا، اس کے بعد [[خلجی خاندان]] اور [[تغلق]] خاندان آئے اور [[1526ء]] میں [[سلطنت دہلی]]، [[مغلیہ سلطنت|سلطنت مغلیہ]] بن گئی۔
 
=== استعماریت تا حال ===
== اجمالی جائزہ ==
[[جغرافیہ|جغرافیائی]] اعتبار سے [[مسیحیت]] اور [[یہودیت]] کی طرح اسلام بھی ان ہی علاقوں سے دنیا میں آیا کہ جن کو [[مشرق وسطیٰ|مشرقی وسطٰی]] کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسلام میں حضرت [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد]]{{ص}} کے ساتھ دیگر تمام انبیا پر ایمان رکھا جاتا ہے اور ان میں [[قرآن]] ہی کی [[سورۃ|سورت]] [[فاطر|35 (فاطر)]] کی [[آیت]] 24 کے مطابق، قرآن میں درج [[سانچہ:انبیاء اسلام|25 انبیاء و مرسال]]<ref name="messengers">islam web: fatwa 84425; number of messengers in quran [http://www.islamweb.net/ver2/Fatwa/ShowFatwa.php?lang=e&Id=84425&Option=FatwaId آن لائن مضمون]</ref> کے علاوہ ان میں وہ تمام بھی شامل ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں آتا، مثال کے طور پر [[گوتم بدھ|سدھارتھ گوتم بدھ مت]] اور دیگر مذاہب کی ابتدا کرنے والے<ref name="آن لائن مضمون">islam and buddhism by harun yahya [http://www.harunyahya.com/buddhism05.php آن لائن مضمون]</ref>، قرآن کی رو سے یہ تمام اشخاص خدا کی طرف سے وہی پیغام اپنی اپنی امت میں لائے تھے کہ جو آخری بار قرآن لایا، مگر ان میں تحریف پیدا ہو گئی۔
* یقیناً ہم نے بھیجا ہے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ <br/>اور نہیں ہے کوئی امت مگر ضرور آیا ہے اس میں کوئی منتبہ کرنے والا۔ <small>(قرآن؛ 35:24)</small>
تقدم{{زیر}} زمانی کے لحاظ سے تمام توحیدیہ مذاہب میں جدید ترین کتاب ہونے کے باوجود عقیدے کے لحاظ سے قرآن قدیم ترین الہامی کتاب سمجھی جاتی ہے اور عرب و عجم سمیت تمام دنیا کے مسلمانوں میں عربی ہی میں اسے پڑھا جاتا ہے، جبکہ اس کے متعدد لسانی تراجم کو (ساتھ درج عربی کے لیے) محض تشریح کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔<ref>what everyone needs to know about islam by John Esposito</ref> اسلام میں جن باتوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے انکا ذکر [[اسلام#اجزائے ایمان|اجزائے ایمان]] کے قطعے میں آچکا ہے، ان کے علاوہ [[توحید]] ([[شرک]] سے پ رہی ز) اور [[تخلیق]] بھی ان اجزاء میں بیان کیے جاسکتے ہیں۔ عبادات میں [[نماز]]ِ پنجگانہ و نمازِ [[جمعہ]] کے علاوہ [[عید]] و [[بقرعید]] وغیرہ کی نمازیں قابلِ ذکر ہیں ؛ نمازوں کے علاوہ تمام [[اسلام#ارکانِ اسلام|ارکانِ اسلام]] عبادات میں ہی شمار ہوتے ہیں۔ اہم تہواروں میں [[عید]]الفطر و [[بقرعید|عید الاضحٰی]] شامل ہیں۔ روزمرہ زندگی میں اسلامی آداب{{زیر}} زندگی پر قائم رہنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں معاشرے کے مختلف افراد کے حقوق، مناسب لباس، بے پردگی سے بچاؤ اور [[اسلامی آداب|آداب و القاب]] کا خیال رکھا جاتا ہے ؛ خرد و نوش میں [[حلال]] و [[حرام]] کی تمیز ضروری ہے۔ ایمان، سچائی اور دیانت ہر شعبۂ زندگی میں ملحوظ خاطر رکھنے کی تاکید کی جاتی ہے ؛ کام کاج اور فرائض منصبی کو درست طور پر ادا کرنا اور محنت کی عظمت کے بارے میں متعدد احادیث بیان کی جاتی ہیں
از روئے قرآن، اسلام کی بنیادی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ محمد صل للہ علیہ والہ وسلم سے قبل جتنے بھی مذاہب اس دنیا میں آئے وہ فی الحقیقت اسلام تھے اور جو عقائد محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کی جانب سے انسانوں کو سکھائے گئے محمد صل للہ علیہ والہ وسلم سے گذشتہ تمام انبیا نے بھی ان ہی عقائد کی تبلیغ کی تھی۔ [[سورۃ|سورت]] [[النساء]] میں درج ہے ؛
* بے شک ہم نے وحی بھیجی ہے تمہاری طرف جیسے وحی بھیجی تھی ہم نے [[نوح علیہ السلام|نوح]] علیہ السلام اور ان نبیوں کی طرف جو اس کے بعد ہوئے اور وحی بھیجی ہم نے [[علیہ السلام]]، [[اسماعیل علیہ السلام]]، [[اسحاق علیہ السلام]]، [[یعقوب علیہ السلام]] اور اوالاد{{زیر}} یعقوب علیہ السلام کی طرف اور [[عیسیٰ علیہ السلام]]، [[ایوب علیہ السلام]]، [[یونس علیہ السلام]] [[ہارون علیہ السلام]] اور [[سليمان علیہ السلام]] کی طرف اور دی ہم نے [[داؤد علیہ السلام]] کو [[زبور]]۔ قرآن 04:163
مذکورہ بالا [[آیت]] سے دوسرے مذاہب کے بارے میں اسلام کے نظریے کی وضاحت سامنے آجاتی ہے۔
=== اسلام میں انبیا ===
[[قرآن]] ہی کی [[سورۃ|سورت]] [[فاطر|35 (فاطر)]] کی [[آیت]] 24 کے مطابق، قرآن میں درج [[سانچہ:انبیاء اسلام|25 انبیاء و مرسال]]<ref name="messengers"/> کے علاوہ اسلامی عقائد کے مطابق ایسے انبیا اکرام بھی ہیں کہ جن کا ذکر قرآن میں نہیں آتا، [[اسلام#اجمالی جائزہ|قطعہ بنام اجمالی جائزہ]] میں درج آیت سے یہ بات عیاں ہے کہ ہر امت میں نبی (یا انبیا) بھیجے گئے، اس سلسلے میں ایک [[حدیث]] بھی [[مسند]] [[احمد بن حنبل]] اور [[فتح الباری بشرح صحیح البخاری]] میں آتی ہے کہ جس میں پیغمبران کی تعداد 124000 بیان ہوئی ہے۔<ref>فتح الباری بشرح صحیح البخاری [http://hadith.al-islam.com/Display/Display.asp?hnum=1&doc=0 آن لائن]</ref><ref>پاکستان لنک نامی ایک موقع [http://www.pakistanlink.com/Religion/2005/09232005.htm آن لائن بیان]</ref><ref>دارالافتاء پر ایک بیان [http://www.askimam.org/fatwa/fatwa.php?askid=2275f3a4dd6e2da72db0f8a0232ac702 آن لائن موقع]</ref>؛ ظاہر ہے کہ ان میں ان مذاہب کے وہ اشخاص منطقی طور پر شامل ہو جاتے ہیں کہ جن کو آج ان مذاہب کی ابتدا کرنے والا یا ان مذاہب کا خدا مانا جاتا ہے ؛ مثال کے طور پر [[گوتم بدھ|سدھارتھ گوتم بدھ مت]] اور دیگر مذاہب کی ابتدا کرنے والے<ref name="آن لائن مضمون"/>، گوتم بدھ کے بارے میں بعض علما کا خیال ہے کہ یہ پیغمبر [[ذو الکفل علیہ السلام]] ([[الانبیاء]] آیت 85) کی جانب اشارہ ہے اور ''kifl'' اصل میں [[سنسکرت]] کے لفظ ''(Kapilavastu)'' کو تشبیہ ہے،<ref name=tanzeem>تنظیم اسلامی کی ویب سائٹ پر بیان القرآن؛ [http://www.tanzeem.org/online/Dorah/ Surah An-Nisa (Ayat 158-176)] (پیڈی ایف فائل)</ref> گو یہ خیال [[اہل سنت|سنی]]<ref name=tanzeem/> اور [[اہل تشیع|شیعہ]] <ref>ایک شیعہ موقع پر ایک لاکھ چوبیس ہزار کے عدد کا ذکر [http://www26.brinkster.com/sdolshah1/udfd.html آن لائن مضمون]</ref> کے علاوہ خود [[بدھ]] مذہب والوں میں بھی پایا جاتا ہے<ref>قرآن میں گوتم بدھ کے بارے میں بدھ موقع [http://www.buddhistchannel.tv/index.php?id=6,6867,0,0,1,0 آن لائن]</ref> لیکن چونکہ گوتم بدھ کا نام براہ راست قرآن میں نہیں آتا اس لیے متعدد علما اس وضاحت کو تسلیم نہیں کرتے۔ قرآن کی رو سے یہ تمام اشخاص خدا کی طرف سے وہی پیغام اپنی اپنی امت میں لائے تھے کہ جو آخری بار قرآن لایا، مگر ان میں تحریف پیدا ہو گئی۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار کی تعداد کے بارے میں متعدد نظریات دیکھنے میں آتے ہیں اور بہت سے علما کے نزدیک یہ عدد کوئی معین یا ناقابل ترمیم نہیں ہے<ref>darul ifta; question [http://www.darulifta-deoband.org/viewfatwa.jsp?ID=12813 آن لائن ربط]</ref>
 
== اسلام پر انتقاد ==
{{اسماء وشخصیات قرآن}}
 
[[زمرہ:اسلام| ]]
[[زمرہ:610ء کی تاسیسات]]
[[زمرہ:ابراہیمی مذاہب]]
102,783

ترامیم