"صادق محمد خان سوم" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
'''نواب [[صادق محمد]] خان سوم''' (سعادت یار خان) (وفات 1861ء) [[ریاست بہاولپور]] کے ساتویں نواب تھے۔ آپ [[محمد بہاول خان سوم]] کے بیٹے تھے۔ آپ کو نواب نے اپنی زندگی میں [[ولی عہد]] نامزد کیا تھا۔ آپ نے صرف چار ماہ حکمرانی کی اس کے بعد آپ کو صاحبزادہ حاجی خان (نواب [[فتح محمد خان]]) نے معزول کر کے قید کر لیا تھا۔
 
== سلسلہ نسب ==
 
== ولی عہدی ==
بورڈ آف کنٹرول کے ارکان مسٹر Hansel اور مسٹر جان لارنس کی دعوت پر نواب محمد بہاول خان سوم، صاحب زادہ سعادت یار خان، مبارک خان، محمد خان اور ریاست کے دیگر امرا کے ہمراہ (1100 پیدل، 400 سواروں اور 2 توپوں سمیت ) ملتان کے دورے پر آیا۔ 31 دسمبر 1851ء کو [[لارڈ ڈلہوزی]] سے ملاقات کی جس میں ملتان مہم میں خدمات انجام دینے پر نواب محمد بہاول خان سوم کا شکریہ ادا کیا گیا۔ اس ملاقات میں نواب نے ایک خریطہ پیش کیا جس میں چار درخواستیں کی گئی تھیں
# صاحبزادہ حاجی خان کی بجائے سعادت یار خان کو اس کا وارث تسلیم کیا جائے
# نواب محمد بہاول خان سوم کو ایک لاکھ روپے سالانہ وظیفے کی بجائے زمین بطور جاگیر دی جائے
== کابینہ ==
نواب صادق محمد خان سوم نے درج ذیل تقرریاں کیں۔
* [[وزیر اعظم]] : منشی چوکاس رائے
* توشہ خان کا نگران : لالہ سلامت رائے
* میر منشی : لال خان چند
* دیوان کا چیف : ملا جیون
* ناظم [[خان پور]] : معزالدین خاکوانی
 
== زوال کے اسباب ==
نواب صادق محمد خان سوم کا طرز عمل جلد ہی اس کے زوال کا سبب بن گیا۔
# نواب صادق محمد خان سوم نے اپنے باپ کی زندگی میں ہی صاحب زاده حاجی خان (نواب [[فتح محمد خان]]) کو دین گڑھ قلعے میں نظر بند کروادیا تھا اور اپنی دستار بندی کے اگلے دن ہی اس نے اسے دراوڑ سے 18 میل جنوب کی طرف [[فتح گڑھ]] بھجوا دیا اور نہایت سخت رویہ اپنایا۔ اسے زندہ رہنے کے لیے روزانہ صرف ایک بہاولپوری روپیہ اور بارہ چھٹاک آٹا دیا جاتا تھا۔ صرف ایک خادم اس کی خدمت پر مامور تھا اور ایک محافظ ہر وقت ننگی تلوار لیے اس کے سر پرپہرہ دیتا رہتا۔ اس سلوک نے داؤد پوتروں میں نفرت کی آگ کو ہوا دی۔
# صاحبزادہ حاجی خان کے دیگر بھائیوں کو بھی محصور اور زیرنگرانی رکھا گیا۔
# 11 محرم کونواب صادق محمد خان سوم نے متعدد حکام کو برطرف کیا جن میں کیپٹن ہول بھی شامل تھا جس نے ملتان میں ریاست کے لیے بہت اچھی خدمات انجام دی تھیں اور ان میں جمعدار احمد خان ملیزئی ( نواب [[محمد بہاول خان چہارم]] کا وزیر) بھی شامل تھا۔ موخر الذکر کو اہل خانہ سمیت وطن بدر کر دیا گیا۔
# نواب صادق محمد خان سوم نے فقیر سراج الدین کو بھی صاحبزادہ حاجی خان کے ساتھ مل کر سازش کرنے کا الزام دیا۔ فقیر سراج الدین گرفتاری سے بچنے کی خاطر یکم [[ربیع الثانی]] کو ریاست چھوڑ کر چلا گیا۔
# سر ہنری لانس نے نواب صادق محمد خان سوم کو اخراجات کم کرنے کی ہدایت کی تھی جس پر عمل کرنے کی وجہ سے متعدد گھوڑ سوار فارغ کر دیے گئے اور چند ایک خادم ہی نواب کے پاس رہ گئے۔ داؤد پوتروں اور دیگر کوتخت نشینی کے موقع پر دیے جانے والے تحائف گھٹادیے گئے اور حقوق یا دعووں سے صرف نظر کیا گیا۔
ان اقدامات کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان کافی بے چینی پیدا ہوئی۔ کیٹین ہول، سراج الدین اور دیگر پناه گزینوں نے آدم واہن کو لما کے امیروں اور داؤد پوتروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا گڑھ بنایا۔ ان سب کا مقصد یہ تھا کہ عقیل خان، سردار خان اور احسن خان کی مدد سے صاحبزادہ حاجی خان کو تخت پر بیٹھایا جائے۔
 
== صاحبزادہ حاجی خان کی رہائی ==
نواب صادق محمد خان سوم کے خلاف سازش کرنے والوں نے بنگل خان، بہرام خان چوندیا، علی بخش دستی، احمد خان دستی، خدا بخش خان ہالانی، اللہ بچایا خان، محمد یار خان اور [[خان محمد خان]] کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور سب سازشیوں نے قرآن پر حلف لیا کہ شہزادہ حاجی خان کو بچائیں گے۔
چنانچہ 29 ربیع الثانی 1269ھ کو وہ ایک سو داؤد پوتروں کو لے کر فتح گڑھ کے لیے روانہ ہوئے اور رات کے وقت قلعے کے پھاٹک میں نقب لگانا شروع کی۔ قلعے کی فوج نے خوف زدہ ہو کر دروازے کھول دیے۔ داؤد پوتروں کے داخل ہونے پر ایک ہندو نے صاحبزادہ حاجی خان کو ہلاک کرنے کی کوشش کی لیکن علی بخش دستی نے اس کی کوشش ناکام بنا دی۔ علی بخش دستی حملہ آور سے چھینی ہوئی تلوار کا وار کر کے اسے مار ہی ڈالتا لیکن شہزادے نے مداخلت کر کے بچا لیا۔ سازشی شہزادے کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر تین میل تک لے گئے۔ اس کے بعد اونٹ پر سوار کر کے خان پور پہنچایا جہاں سراج الدین، کیپٹن ہول اور غلام محمد خان ملیزئی ( جمعدار احمد خان کا بھائی) بھی ان سے آملے۔ دیگر داؤد پوترے اور لما کے چھوٹے موٹے امیر بھی آئے۔
 
== بغاوت کے منصوبے ==
صاحبزادہ حاجی خان کی رہائی کی خبر 9 فروری کو نواب صادق محمد خان سوم تک پہنچی اور اسے مشورہ دیا گیا کہ فوراً حاجی خان کے تعاقب میں روانہ ہو جائے لیکن اس نے تمام مشوروں کو رد کرتے ہوئے خان پور کے حکام کو ہی احکامات جاری کرنے پر ہی اکتفا کیا کہ شہزادے کو حراست میں لے لیا جائے۔ نواب کا یہ حکم کوئی کارروائی عمل میں لانے کے قابل نہیں ہوا کیونکہ حاجی خان اس جگہ پر پہلے ہی ایک نیا کمانڈر تعینات کر چکا تھا۔ جب صاحبزادہ حاجی خان کافی رسد، توپ خانے اور اسلحے کے ساتھ پانچ ہزار آدمیوں کی فوج جمع کر چکا تھا تب نواب نے محمد خان غوری کو اپنی افواج کا قائد بنایا اور جمعدار معز الدین خان خاکوانی کو اسی ہزار روپے دیے تا کہ سپاہیوں کو اکٹھا کیا جائے نیز حاجی خان کے ساتھیوں کو ورغلانے کے لیے سرفراز خان کو بھی اتنی ہی رقم دی گئی۔ تین دن بعد ساری فوج کی کمان معز الدین کو سونپی گئی اور فتح محمد کو کچھ دستوں کے ہمراہ احمد پور ایسٹ (شرقیہ) میں تعینات کر دیا گیا۔ حاجی خان نے سعادت یار خان کے افسروں کو خطوط بھیجے اور زیادہ تر کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ صرف احمد پور ایسٹ (شرقیہ) کا تھانہ دار اور منشی سلامت رائے نے قاصدوں کو قید کر لیا۔ ان خطوط نے نواب کو شک میں مبتلا کر دیا کہ اس کے تمام افسران کو ورغلایا گیا ہو گا۔ نواب نے سلامت رائے کو مشن سونیا کہ اُبھا کے داؤد پوتروں کے ساتھ اتحاد کو مزید تقویت دی جائے لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ فوج میں جمعدار معز الدین، شیرعلی شاہ، یوسف علی شاہ جبکہ دربار ہوں میں راجن بخش، سید خدا بخش، علی [[گوہر خان]] اور محمد رضا خان نے صاحبزادہ حاجی خان کو خفیہ طور پر یقین دہانی کروائی کہ اگر وہ احمد پور ایسٹ (شرقیہ) میں داخل ہوا تو کوئی مدافعت نہیں کی جائے گی۔
 
== حاجی خان کی بغاوت ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات|2}}
[[زمرہ:خودکار ویکائی]]