"صادق محمد خان سوم" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
{{خانہ معلومات صاحب منصب/عربی}}
'''نواب [[صادق محمد]] خان سوم''' (سعادت یار خان) (وفات 1861ء) [[ریاست بہاولپور]] کے ساتویں نواب تھے۔ آپ [[محمد بہاول خان سوم]] کے بیٹے تھے۔ آپ کو نواب نے اپنی زندگی میں [[ولی عہد]] نامزد کیا تھا۔ آپ نے صرف چار ماہ حکمرانی کی اس کے بعد آپ کو صاحبزادہ حاجی خان (نواب [[فتح محمد خان]]) نے معزول کر کے قید کر لیا تھا۔
 
== سلسلہ نسب ==
نواب آف بہاولپور حضرت عباس بن عبد المطلب کے خاندان سے ہیں ان کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے
* صادق محمد خان سوم بن [[محمد بہاول خان سوم]] بن [[صادق محمد خان دوم]] بن [[محمد بہاول خان دوم]] بن نواب فتح خان اول بن نواب [[صادق محمد خان اول]] بن نواب مبارک خان اول بن بہادر خان دوم بن فیروز یا پیروج خان بن امیر محمد خان دوم بن بھکھر خان دوم بن بہادر خان بن بھکھر خان بن ہیبت خان بن امیر صالح خان بن امیر چندر خان بن داؤد خان دوم بن بن محمد خان بن محمود خان بن داؤد خان بن امیر چنی خان بن بہاءاللہ عرف بھلا خان بن امیر فتح اللہ خان بن سکندر خان بن عبد القدر یا قاہر خان بن امیر اِبان خان بن سلطان احمد ثانی بن شاہ مزمل بن شاہ عقیل بن سلطان سہیل بن سلطان یاسین بن [[احمد المستنصر باللہ الثانی]] بن [[الظاہر بامر اللہ]] بن [[الناصر لدین اللہ]] بن ابو محمد الحسن [[المستضی بامر اللہ]] بن [[المستنجد باللہ]] بن [[المقتفی لامر اللہ]] بن [[المستظہر باللہ]] بن [[المقتدی بامر اللہ]] بن [[القائم بامر اللہ]] بن [[القادر باللہ]] بن [[المقتدر باللہ]] بن [[المعتضد باللہ]] بن [[الموفق باللہ]] بن [[المتوکل علی اللہ]] بن [[المعتصم باللہ]] بن [[ہارون الرشید]] بن [[المہدی باللہ]] بن [[ابو جعفر المنصور]] بن [[محمد بن علی بن عبد اللہ|محمد]] بن [[علی بن عبد اللہ بن عباس|علی]] بن [[عبد اللہ بن عباس|عبداللہ]] بن [[عباس بن عبد المطلب]]۔ <ref>گزیٹر آف ریاست بہاولپور 1904ء مولف محمد دین اردو مترجم یاسر جواد صفحہ 231</ref>
 
== زوال کے اسباب ==
نواب صادق محمد خان سوم کا طرز عمل جلد ہی اس کے زوال کا سبب بن گیا۔
# نواب صادق محمد خان سوم نے اپنے باپ کی زندگی میں ہی صاحب زادهزادہ حاجی خان (نواب [[فتح محمد خان]]) کو دین گڑھ قلعے میں نظر بند کروادیا تھا اور اپنی دستار بندی کے اگلے دن ہی اس نے اسے دراوڑ سے 18 میل جنوب کی طرف [[فتح گڑھ]] بھجوا دیا اور نہایت سخت رویہ اپنایا۔ اسے زندہ رہنے کے لیے روزانہ صرف ایک بہاولپوری روپیہ اور بارہ چھٹاک آٹا دیا جاتا تھا۔ صرف ایک خادم اس کی خدمت پر مامور تھا اور ایک محافظ ہر وقت ننگی تلوار لیے اس کے سر پرپہرہ دیتا رہتا۔ اس سلوک نے داؤد پوتروں میں نفرت کی آگ کو ہوا دی۔
# صاحبزادہ حاجی خان کے دیگر بھائیوں کو بھی محصور اور زیرنگرانی رکھا گیا۔
# 11 محرم کونواب صادق محمد خان سوم نے متعدد حکام کو برطرف کیا جن میں کیپٹن ہول بھی شامل تھا جس نے ملتان میں ریاست کے لیے بہت اچھی خدمات انجام دی تھیں اور ان میں جمعدار احمد خان ملیزئی ( نواب [[محمد بہاول خان چہارم]] کا وزیر) بھی شامل تھا۔ موخر الذکر کو اہل خانہ سمیت وطن بدر کر دیا گیا۔
# نواب صادق محمد خان سوم نے فقیر سراج الدین کو بھی صاحبزادہ حاجی خان کے ساتھ مل کر سازش کرنے کا الزام دیا۔ فقیر سراج الدین گرفتاری سے بچنے کی خاطر یکم [[ربیع الثانی]] کو ریاست چھوڑ کر چلا گیا۔
# سر ہنری لانس نے نواب صادق محمد خان سوم کو اخراجات کم کرنے کی ہدایت کی تھی جس پر عمل کرنے کی وجہ سے متعدد گھوڑ سوار فارغ کر دیے گئے اور چند ایک خادم ہی نواب کے پاس رہ گئے۔ داؤد پوتروں اور دیگر کوتخت نشینی کے موقع پر دیے جانے والے تحائف گھٹادیے گئے اور حقوق یا دعووں سے صرف نظر کیا گیا۔
ان اقدامات کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان میں کافی بے چینی پیدا ہوئی۔ کیٹین ہول، سراج الدین اور دیگر پناهپناہ گزینوں نے آدم واہن کو لما کے امیروں اور داؤد پوتروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا گڑھ بنایا۔ ان سب کا مقصد یہ تھا کہ عقیل خان، سردار خان اور احسن خان کی مدد سے صاحبزادہ حاجی خان کو تخت پر بیٹھایا جائے۔
 
== صاحبزادہ حاجی خان کی رہائی ==
15 فروری کو فقیر سراج الدین، علی گوہر خان اور احمد خان چونڈیا نے چار ہزار آدمیوں کے ہمراہ گوٹھ چینی کی طرف مارچ کیا اور نواب کی افواج کو مختلف وعدوں کے ذریعے بہانے پھسلانے لگے۔ نتیجتاً 17 فروری کو جھانسے میں آئے ہوئے سپاہی پانچ توپوں سمیت حاجی خان کے پاس چلے گئے جبکہ ان کے افسران (جن میں سے کچھ ایک پہلے ہی اس کی طرف مائل ہو چکے تھے ) اپنے گھروں کی طرف نکل گئے۔
18 فروری کو حاجی خان خان پور کے معاملات سلجھانے کے بعد چودھری کے مقام پر پہنچا۔ راستے میں ملنے والے لوگوں نے اظہار اطاعت کیا۔ 19 فروری کو غروب آفتاب کے وقت وہ احمد پور ایسٹ (شرقیہ) میں داخل ہوا۔ شہر میں چراغاں کیا گیا اور سلامی کی توپیں فائز ہوئیں ۔ یہاں حاجی خان نے نواب [[فتح محمد خان]] کا خطاب اختیار کیا۔ 20 فروری کو قلعہ دراوڑ کی فوج نے نئے نواب کو پیغام اطاعت بھیجا۔ اس نے فقیر سراج الدین کو اپنی افواج کا کمان دار تعینات کرتے ہوئے حکم دیا کہ دراوڑ پر قبضہ کیا جائے ۔ اس کے وہاں پہنچنے پر قلعے کی فوج اس کے ساتھ مل گئی اور قلعہ بغیر مدافعت کے فتح ہو گیا
 
 
== نواب کی گرفتاری ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات|2}}
[[زمرہ:خودکاربہاولپور ویکائیکے نواب]]
92,370

ترامیم