"سب رس" کے نسخوں کے درمیان فرق

63 بائٹ کا اضافہ ،  3 سال پہلے
م
== نثر میں شاعری ==
 
سب رس پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے گویا غزل کے مصرعوں کی نثر بنادی گئی ہو اور اصل کتاب دیکھیں تو اس میں مقفی اور مسجع عبارت کی بنا پر شاعری کا گماں ہوتا ہے۔ اردو نثر میں اگر رنگین نگاری کا سراغ لگانا مقصود ہو تو [[نیاز فتح پوری]] اور یلدرم کی بجائے ملاوجہی تک جانا ہوگا۔ مثال کے طور پر:
 
” قدرت کا دھنی سہی جو کرتا سو سب وہی۔ خدا بڑا، خداکی صفت کرے کوئی کب تک، وحدہ لاشریک، ماں نہ باپ “
== فارسی اور عربی کااثر ==
 
وجہی کی عبارتوں میں عربی فارسی ضرب الامثال بکثرت موجود ہیں بلکہ ا س نے عربی فارسی ترکیبوں کو اردو میں جذب کرکے زبان کا ڈھانچہ تیار کیا اور پھر ہندوستان بھر کی زبانوں کے مطالعے کی وجہ سے ہر خطے کی زبان اورخصوصاً [[شمالی ہند]] کے محاورے کو اپنے ہاں جگہ دی اور ایک وسیع تر زبان کی بنیاد رکھی۔ وجہی نے اس تجربے سے ثابت کر دیا کہ اردو زبان دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وجہی نے اردو زبان کے بارے میں یہ بھی ثابت کر دکھایا کہ ایک اور آہنگ بھی تیار ہو سکتا ہے۔ وجہی کی زبان آج کل کی زبان کے بہت قریب ہے۔ اس لیے اس میں عربی فارسی کے الفاظ کثرت سے ملتے ہیں۔
 
” دانایاں میں یوں چل ہے بات، المعقل نصف الکرمات“
”سب رس“ کے متن میں صرفی نحوی نکات جس مہارت سے استعمال ہوئے ہیں ان سے ”سب رس“ کی صرفی و نحوی خصوصیات کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ مثلا ایک طرف اگر عربی الفاظ کے املا کو سادہ کر دیا گیا ہے تو دوسری طرف فارسی میں ”گی “کا لاحقہ استعمال کرکے بعض الفاظ بنائے گئے ہیں۔ مثلاً بندہ سے بندگی وغیرہ۔ بقول حافظ محمود شیرانی :
 
:"ادبی پہلو سے قطع نظر اور اوصاف میں جن کی بناءپر یہ کتاب گونا گوں دلچسپیوں کا مرکز بن جاتی ہے۔ لغت و لسان اورقدیم [[صرف و نحو]] کے محقق اس کو نعمت غیر متبرقہ سمجھیں گے۔ بالخصوص اس کا وہ حصہ جو قدیم محاورات اور ضرب الامثال سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔"
 
== اردو کے نقوش ==
 
”سب رس “ کی زبان کو اس کا مصنف [[ہندی زبان]] کے نام سے یاد کرتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس زمانے میں ہندی زبان (شمالی ہند کی زبان، کا دکن والوں پر اتنا اثر پڑ چکا تھا کہ دکن کا مصنف اس زبان کو گجری، گجراتی یا دکنی زبان کہنے کی بجائے ہندی زبان کہتا ہے۔ بظاہر تو یہ معمولی بات ہے لیکن دراصل یہ اس حقیقت کی داعی ہے کہ ”اردویت “ نے سب سے پہلے نمایاں طور پر اس کتاب کے زمانے میں اور اس کے زیر اثر ہی دکن میں زور پکڑا۔ شمالی ہندمیں مغلوں سے پہلے کے سلاطین کے دور میں جو زبان رائج تھی۔ اس میں عربی فارسی کے الفاظ تو مل جاتے ہیں لیکن اس کا نقش مسلمانی نہیں ہے اور اردو زبان کی روح اور اسپرٹ مسلمانی ہے۔ وجہی نے اپنے زمانہ کی بامحاورہ اور فصیح ترین زبان لکھی اور اس کا اس کو احساس بھی تھا۔ وہ خود لکھتا ہے:
 
” آج لگن کوئی اس جہاں میں ہندوستان میں ہندی زبان سوں اس لطافت اور اس چھنداں سوں نظم ہور نثر ملا کر گھلا کر نہیں بولیا۔“
== لسانی اہمیت ==
 
”سب رس“ اور وجہی کے معاصرین کے ذریعے ہماری اردو نے جڑ پکڑی۔ سب رس کا لسانی دائرہ بھی کافی وسیع ہے۔ اس میں شمالی ہند کی زبانوں برج بھاشا، گوالیاری، راجستھانی اور دوسری زبانوں کے محاورے، ضرب الامثال اور اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ وجہی نے شمالی ہند اور [[جنوبی ہند]] کی زبانوں کی خلیج مٹانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ میر تقی میر نے دکنی زبانوں کو توجہ کے قابل نہیں سمجھا اور اسے ”نثر بے رتبہ “ کہہ کر نظرانداز کر دیا۔ لیکن ”سب رس“ کی لسانی حیثیت مسلم ہے۔ اس نے باب مراتب اور فرق مراتب ختم کرکے ایک نئی زبان دی ہے۔ وجہی کی نثر کو اگر آج بھی غور سے پڑھا جائے توہم تقریباً تمام کی تمام زبان کو سمجھ سکتے ہیں۔
 
== کردار نگاری ==
== صوفیانہ خیالات، اخلاقی تعلیمات ==
 
وجہی نے اس فرضی داستان میں جگہ جگہ صوفیانہ خیالات، موضوعات، مذہبی روایات اور اخلاقی تعلیمات کی تبلیغ کی ہے اور یہی روش اس زمانے کے معاشرتی رجحانات کے مطابق تھی۔ چنانچہ عشقیہ واردات کے بیان میں وجہی نے نہایت حزم و احتیاط سے کام لیا ہے۔ کہیں بھی پست خیالات اور عریانی کا مرتکب نہیں ہوا۔ وجہی [[عالم دین]] صوفی تھا اور مسلم معاشرے کافرد تھا جس میں نیکی او راخلاق کے مثبت پہلوئوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور منفی پہلوئوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ چنانچہ وجہی نے اپنی کتاب میں اخلاق کے اچھے پہلوئوں کی تعلیم و ترویج پر زور دیا ہے۔ اور اخلاق کے برے پہلوؤں کی برائی کی ہے۔
 
== وجہی پہلا انشائیہ نگار ==
[[زمرہ:ملا وجہی]]
[[زمرہ:اردو داستان]]
[[زمرہ:خودکار ویکائی]]