"اسلام" کے نسخوں کے درمیان فرق

17 بائٹ کا ازالہ ،  1 سال پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (نعیم اقبال (تبادلۂ خیال) کی ترامیم UrduBot کی گذشتہ ترمیم کی جانب واپس پھیر دی گئیں۔)
(ٹیگ: استرجع)
| تعليق = [[اللہ]] کا خطاطی نام، اللہ مسلمانوں کا [[توحید|واحد خدا]] ہے
| مؤسس = [[محمد|محمد بن عبد اللہ]]
| زعيم = موجودہ: کوئی نہیں <br /> '''اول [[خلافت|خلیفہ]]''': [[ابو بکر صدیق]]/[[علی بن ابی طالب]]<br />'''آخر [[خلافت|خلیفہ]]''': [[عبد المجید ثانی]] <small>(بمطابق اہل سنت)</small>
| تاريخ ظهور = اوائل [[ساتویں صدی]]. ۔
| مكان ظهور = [[مکہ]]، [[حجاز]]، غرب [[جزیرہ نما عرب]].۔
| مميزات = [[شہادت]] و[[نماز]] و[[زکوۃ]] و[[روزہ (اسلام)|صوم]] و[[حج]]
| تفرعت =
| تفرع = '''مُتفق علیہا''': [[اہل سنت|سنیت]]، [[شیعیت]]، [[اباضیہ|اباضیت]]<br />'''غیر مُتفق علیہا''': [[احمدیہ|احمدیت]]، [[دروز]]، [[نصیریہ|نصیریت]].۔
| منطقة = [[جنوب مشرقی ایشیا]]، [[وسط ایشیا]]، [[مشرق وسطی|مشرق وسطیٰ]]، [[شمالی افریقا]]، [[بلقان|بلاد البلقان]]، اور باقی عالم میں مسلمان اقلیت ہیں۔
| تعداد = 1.8 بلین (2015ء) <ref>[http://www.pewresearch.org/fact-tank/2017/04/06/why-muslims-are-the-worlds-fastest-growing-religious-group/ آخر اسلام کیوں دنیا کا تیزی سے ترقی پاتا ہوا مذہب ہے ] - Pew Research Center</ref>
| معالم = [[مسجد حرام]]، [[مکہ]]، {{السعودية}}{{-}}[[مسجد نبوی]]، [[مدینہ منورہ]]، {{السعودية}}{{-}}[[مسجد اقصیٰ]]، [[یروشلم]]، {{فلسطين}}
| تقارب = [[یہودیت]]، [[مسیحیت]]، [[مندائیت]]، [[بہائیت]]، [[سکھ مت]]
| مجموعة = [[ابراہیمی مذاہب|ابراہیمی مذہب]]
}}
{{اسلام}}
اسلام ایک {{ٹ}} [[توحیدیت|توحیدی]] {{ن}} مذہب ہے جو [[اللہ]] کی طرف سے آخری [[رسول]] و [[پیغمبر|نبی]]، [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب]] {{درود}} کے ذریعے [[انسان]]وں تک پہنچائی گئی آخری الہامی [[کتاب]] ([[قرآن]] مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، [[610ء]] تا [[632ء]] تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد {{درود}} پر اللہ کی طرف سے اترنے والے [[الہام]] (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں [[نازل]] ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن)<ref name=mawdudi>Is the Qur'an for Arabs Only? By Abul A'la Mawdudi [http://www.islamonline.net/english/Quran/2005/05/article01.shtml آن لائن موقع]</ref> اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی {{د2}}24%{{دخ2}} حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 [[ارب]] افراد<ref>مسلم آبادی [http://dimension.ucsd.edu/CEIMSA-IN-EXILE/archives/bull-345.html 1.6 ارب] اور [http://www.islamicpopulation.com/ 1.82 ارب کا بیان]</ref> اس کو پڑھتے ہیں ؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریبا{{دوزبر}} 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 [[کروڑ]]، [[عجم|غیر عرب]] یا عجمی<ref>Learning Arabic at Berkeley By Sonia S'hiri [http://ls.berkeley.edu/new/02/arabic.html اسی کروڑ]</ref> ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فرد{{زیر}} واحد (محمد {{درود}}) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی [[شریعت]]<ref name=mawdudi /> ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔
 
== لغوی مطلب ==
|-
|style="border-bottom:1px solid #bfb6a3;"| [[شہادت|کلمۂ شہادت]]
|style="border-bottom:1px solid #bfb6a3;"| مسلمان کی جانب سے بنیادی اقرار؛ خالق اور رسول پر یقین کی گواہی دینا شہادت کہلاتا ہے۔
|-
|style="border-bottom:1px solid #bfb6a3;"| [[نماز]]
|style="border-bottom:1px solid #bfb6a3;"| معینہ اوقات پر دن میں پانچ بار عبادت (نماز) فرض ہے ؛ جو انفرادی یا اجتماعی طور پر ادا کی جاسکتی ہے۔
|-
|style="border-bottom:1px solid #bfb6a3;"| [[روزہ]]
|style="border-bottom:1px solid #bfb6a3;"| ماہ رمضان میں طلوع تا غروب{{زیر}} آفتاب، خرد و نوش سے پ رہی ز رکھنا۔ بعض حالتوں میں غیر لازم یا ملتوی ہو جاتا ہے۔
|-
|style="border-bottom:1px solid #bfb6a3;"| [[زکوۃ]]
|style="border-bottom:1px solid #bfb6a3;"| اپنی ضروریات پوری ہوجانے کے بعد مفلسوں کی امداد میں اپنے مال سے چالیسواں حصہ ادا کرنا۔
|-
| [[حج]]
| اگر استطاعت اور اہل{{زیر}} خانہ کی کفالت کا سامان ہو تو زندگی میں ایک بار، مکہ (کعبہ) کی جانب سفر و عبادت کرنا۔
|}
{{Clear}}
 
شیعہ فرقے والوں میں پھر ان ارکان کی مختلف تعداد اور تعریفیں ذیلی تفرقات الشعیہ میں ملتی ہیں۔ [[اہل تشیع#اثنا عشری|اثنا عشریہ]] والے، [[فروع دین]]، کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جن کی تعداد 5 ارکان سے کلمۂ شہادت نکال کر اور [[خمس]]، [[جہاد]]، [[امر بالمعروف]]، [[نہی عن المنکر]]، [[تولّى]] و [[تبَرّا]] شامل کرنے پر 10 ہوجاتی ہے۔ جبکہ ان لوگوں میں [[توحید]]، [[عدل]]، [[نبوت]]، [[امامت]] اور [[قیامت]] کو [[اصول الدین]] کی اصطلاح کے تحت بیان کیا جاتا ہے۔<ref>شیعہ فرقے میں اسلام کے پانچ ارکان [http://www.important.ca/five_pillars_of_islam.html آن لائن صفحہ]</ref> [[اسماعیلی]] شیعاؤں میں ان کی تعداد 5 ارکان میں سے شہادت نکال کر اور [[ولایۃ]] (اماموں کی جانثاری و سرپرستی) اور [[طھارت]] جمع کر کہ 7 اپنا لی جاتی ہے۔<ref>ارکان اسلام: (da'a'im al-islam of al-qadi al nu'man oxford univ. press 780195684353 [http://www.oup.co.in/search_detail.php?id=143852 کتب فروش موقع]</ref> شیعوں ہی سے نکلنے والا ایک اور فرقے، [[دروز]]، والے اسماعیلیوں کی ولایۃ کو تسلیم کہتے ہیں جبکہ نماز کو صدق اللسان کہہ کر عام مسلمانوں کی طرح نماز اور [[روزہ|روزے]] کو ترک عبادت الاثوان قرار دے کر عام مسلمانوں کی طرح روزہ ادا نہیں کرتے، ان لوگوں میں زکوت بھی مختلف اور انفرادی طور پر ہوتی ہے جبکہ حج نہیں ہوتا۔<ref>انسائکلوپیڈیا looklex پر دروز [http://looklex.com/e.o/druze.htm آن لائن صفحہ]</ref>
 
 
=== 661ء تا 1258ء ===
حسن بن علی کی دستبرداری پر معاویہ بن ابو سفیان نے [[661ء]] میں [[خلافت امویہ|خلافت بنو امیہ]] کی بنیاد ڈالی اور ایک بار پھر قبل از اسلام کے امرائی و اعیانی عربوں کا سا انداز{{زیر}} حکمرانی لوٹ آیا۔<ref>the first dynasty of islam by G.R. Hawting [http://www.bartleby.com/65/um/Umayyad.html آن لائن اقتباس]</ref> پھر ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے، [[یزید بن معاویہ]] ([[679ء]]) نے [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم]] کے نواسے [[حسین ابن علی]] کو [[680ء]] میں [[سانحۂ کربلا|جنگ کربلا]] میں شہید کر دیا اور سنی، شیعہ تفرقوں کی واضح بنیاد ڈالی۔ [[699ء]] میں [[:زمرہ:فقہی ائمہ|فقہی امام]] [[امام ابو حنیفہ|ابو حنیفہ]] کی پیدائش ہوئی۔ بنو امیہ کو [[710ء]] میں [[محمد بن قاسم]] کی فتح [[سندھ]] اور [[711ء]] میں [[طارق بن زیاد]] کی فتح [[اندلس]] (یہی [[امام مالک]] کی پیدائش کا سال بھی ہے) کے بعد [[750ء]] میں [[خلافت عباسیہ|عباسی خلافت]] کے قیام نے گو ختم تو کر دیا لیکن بنو امیہ کا ایک شہزادہ [[عبدالرحمٰن الداخل]] فرار ہو کر [[756ء]] میں [[اندلس]] جا پہنچا اور وہاں [[خلافت قرطبہ]] کی بنیاد رکھی، یوں بنو امیہ کی خلافت [[1031ء]] تک قائم رہی۔ ادھر عباسی خلافت میں [[کاغذ]] کی صنعت، [[بغداد]] کے [[بیت الحکمت|بیت الحکمۃ]] ([[762ء]]) جیسے شاہکار نظر آئے تو ادھر اندلس میں بچی ہوئی خلافت امیہ میں [[جامع مسجد قرطبہ]] جیسی عمارات تعمیر ہوئیں۔ [[767ء]] میں [[:زمرہ:فقہی ائمہ|فقہی امام]] [[شافعی]] اور [[780ء]] [[امام احمد بن حنبل|امام حنبل]] کی پیدائش ہوئی۔ [[1258ء]] میں شیعیوں کی حمایت سے <ref name=invaders>invaders by ian frazier: the new yourker [http://www.newyorker.com/archive/2005/04/25/050425fa_fact4?currentPage=3 آن لائن مضمون]</ref> [[ہلاکو خان|ہلاکو]] کے بغداد پر حملے سے آخری خلیفہ، [[موسیقی]] و [[شاعری]] کے دلدادہ، معتصم باللہ کو قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں سے روندا گیا اور [[خلیفۃ المسلمین]] و [[امیرالمومنین]] کی صاحبزادی کو [[منگولیا]]، [[چنگیز خان]] کے پوتے [[مونکو خان]] کے حرم بھیج دیا گیا، مصلحت اندیشی سے کام لیتے ہوئے ہلاکو نے اہم شیعہ عبادت گاہوں کو اپنے سپاہیوں سے بچانے کی خاطر پہرے دار مقرر کر دیے تھے ؛ یوں خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہوا۔ عباسیہ عہد ہی میں اسلامی تاریخ کو کوئی [[700ء]] سے شروع ہونے والے<ref>Matthew E. Falagas, Effie A. Zarkadoulia, George Samonis (2006)۔ "Arab science in the golden age (750–1258 C.E.) and today"، ''[[Federation of American Societies for Experimental Biology|The FASEB Journal]]'' '''20'''، p. 1581–1586.</ref> [[اسلامی عہدِ زریں]] کا دیکھنا نصیب ہوا اور [[مسلم سائنسدانوں کی فہرست|مسلم سائنسدانوں]] کی متعدد عظیم کتب اسی زمانے میں تخلیق ہوئیں اور اسی زمانے میں ان کی سیاہی کو دجلہ کا پانی کالا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا<ref name=invaders />۔
 
=== خلافت تا خلافتیں ===
کہنے کو [[1924ء]] تک گھسٹنے والی خلافت، لغوی معنوں میں [[632ء]] تا [[1258ء]] تک ہی قائم سمجھی جاسکتی ہے۔<ref>caliphate at student britannica [http://student.britannica.com/comptons/article-9273461/caliphate صفحہ آن لائن]</ref> جبکہ فی الحقیقت اس کا عملی طور پر خاتمہ [[945ء]] میں [[بنی بویہ]] کے ہاتھوں ہو چکا تھا<ref name=britannica>caliphate at encyclopedia britannica [http://www.britannica.com/EBchecked/topic/89739/Caliphate صفحہ آن لائن]</ref> ادھر ایران میں [[دولت سامانیہ|سامانیان]] ([[819ء]] تا [[999ء]]) والے اور ایران کے متعدد حصوں سمیت [[ماوراء النہر]] و موجودہ [[ہندوستان]] کے علاقوں پر پھیلی [[سلطنت غزنویہ|غزنوی سلطنت]] ([[963ء]] تا [[1187ء]]) والے، عباسی خلافت کو دکھاوے کے طور برائے نام ہی نمائندگی دیتے تھے۔ [[سلطنت فاطمیہ|فاطمیون]] ([[909ء]] تا [[1171ء]])، [[تونس|تیونس]] میں عباسی خلافت کو غاصب قرار دے کر اپنی الگ خلافت ([[920ء]]) کا [[دعویٰ]] کر چکے تھے<ref name=history.com>caliphate at history.com [http://www.history.com/encyclopedia.do?vendorId=FWNE.fw.ca011700.a آن لائن مضمون]</ref> اور [[ہسپانیہ|اسپین]] میں [[عبد الرحمن سوم]]، [[928ء]] میں اپنے لیے خلیفہ کا لقب استعمال کر رہا تھا<ref name=britannica />۔ یہ وہ سماں تھا کہ ایک ہی وقت میں دنیا میں کم از کم تین بڑی خلافتیں موجود تھیں اور ہر جانب سے خلیفہ بازی اپنے زوروں پر تھی، یہ بیک وقت موجود خلافتیں ؛ خلافت عباسیہ، خلافت فاطمیہ اور خلافت قرطبہ (اندلسی امیہ) کی تھیں۔ [[1169ء]] میں [[نور الدین زنگی]] نے [[شیر کوہ]] کے ذریعے مصر اپنے تسلط میں لے کر فاطمیہ خلافت کا خاتمہ کیا۔ [[صلاح الدین ایوبی]] ([[1138ء]] تا [[1193ء]]) نے [[1174ء]] میں [[ایوبی سلطنت]] کی بنیاد ڈالی۔<ref>medieval crusades [http://www.medievalcrusades.com/foes.htm آن لائن مضمون]</ref> اور [[1187ء]] میں [[مسیحیت|مسیحیوں]] کی قائم کردہ [[مملکت بیت المقدس]] سے [[بیت المقدس]] کو آزاد کروا لیا۔ [[1342ء]] میں ایوبی سلطنت کے خاتمے اور [[مملوک]] ([[1250ء]] تا [[1517ء]]) حکومت کے قیام سے قبل اس سلطنت میں ایک خاتون سلطانہ، [[شجر الدر]] ([[1249ء]] تا [[1250ء]]) نے بھی ساتویں [[صلیبی جنگیں|صلیبی جنگوں]] کے دوران میں قیادت کی<ref>Female Heroes from the Time of the Crusades [http://www.womeninworldhistory.com/heroine1.html آن لائن مضمون]</ref>
 
=== طوائف الملوک تا استعماریت ===
== اجمالی جائزہ ==
[[جغرافیہ|جغرافیائی]] اعتبار سے [[مسیحیت]] اور [[یہودیت]] کی طرح اسلام بھی ان ہی علاقوں سے دنیا میں آیا کہ جن کو [[مشرق وسطیٰ|مشرقی وسطٰی]] کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسلام میں حضرت [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد]]{{ص}} کے ساتھ دیگر تمام انبیا پر ایمان رکھا جاتا ہے اور ان میں [[قرآن]] ہی کی [[سورۃ|سورت]] [[فاطر|35 (فاطر)]] کی [[آیت]] 24 کے مطابق، قرآن میں درج [[سانچہ:انبیاء اسلام|25 انبیاء و مرسال]]<ref name="messengers">islam web: fatwa 84425; number of messengers in quran [http://www.islamweb.net/ver2/Fatwa/ShowFatwa.php?lang=e&Id=84425&Option=FatwaId آن لائن مضمون]</ref> کے علاوہ ان میں وہ تمام بھی شامل ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں آتا، مثال کے طور پر [[گوتم بدھ|سدھارتھ گوتم بدھ مت]] اور دیگر مذاہب کی ابتدا کرنے والے<ref name="آن لائن مضمون">islam and buddhism by harun yahya [http://www.harunyahya.com/buddhism05.php آن لائن مضمون]</ref>، قرآن کی رو سے یہ تمام اشخاص خدا کی طرف سے وہی پیغام اپنی اپنی امت میں لائے تھے کہ جو آخری بار قرآن لایا، مگر ان میں تحریف پیدا ہو گئی۔
* یقیناً ہم نے بھیجا ہے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ <br />اور نہیں ہے کوئی امت مگر ضرور آیا ہے اس میں کوئی منتبہ کرنے والا۔ <small>(قرآن؛ 35:24)</small>
تقدم{{زیر}} زمانی کے لحاظ سے تمام توحیدیہ مذاہب میں جدید ترین کتاب ہونے کے باوجود عقیدے کے لحاظ سے قرآن قدیم ترین الہامی کتاب سمجھی جاتی ہے اور عرب و عجم سمیت تمام دنیا کے مسلمانوں میں عربی ہی میں اسے پڑھا جاتا ہے، جبکہ اس کے متعدد لسانی تراجم کو (ساتھ درج عربی کے لیے) محض تشریح کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔<ref>what everyone needs to know about islam by John Esposito</ref> اسلام میں جن باتوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے انکا ذکر [[اسلام#اجزائے ایمان|اجزائے ایمان]] کے قطعے میں آچکا ہے، ان کے علاوہ [[توحید]] ([[شرک]] سے پ رہی ز) اور [[تخلیق]] بھی ان اجزاء میں بیان کیے جاسکتے ہیں۔ عبادات میں [[نماز]]ِ پنجگانہ و نمازِ [[جمعہ]] کے علاوہ [[عید]] و [[بقرعید]] وغیرہ کی نمازیں قابلِ ذکر ہیں ؛ نمازوں کے علاوہ تمام [[اسلام#ارکانِ اسلام|ارکانِ اسلام]] عبادات میں ہی شمار ہوتے ہیں۔ اہم تہواروں میں [[عید]]الفطر و [[بقرعید|عید الاضحٰی]] شامل ہیں۔ روزمرہ زندگی میں اسلامی آداب{{زیر}} زندگی پر قائم رہنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں معاشرے کے مختلف افراد کے حقوق، مناسب لباس، بے پردگی سے بچاؤ اور [[اسلامی آداب|آداب و القاب]] کا خیال رکھا جاتا ہے ؛ خرد و نوش میں [[حلال]] و [[حرام]] کی تمیز ضروری ہے۔ ایمان، سچائی اور دیانت ہر شعبۂ زندگی میں ملحوظ خاطر رکھنے کی تاکید کی جاتی ہے ؛ کام کاج اور فرائض منصبی کو درست طور پر ادا کرنا اور محنت کی عظمت کے بارے میں متعدد احادیث بیان کی جاتی ہیں
 
مذکورہ بالا [[آیت]] سے دوسرے مذاہب کے بارے میں اسلام کے نظریے کی وضاحت سامنے آجاتی ہے۔
=== اسلام میں انبیا ===
[[قرآن]] ہی کی [[سورۃ|سورت]] [[فاطر|35 (فاطر)]] کی [[آیت]] 24 کے مطابق، قرآن میں درج [[سانچہ:انبیاء اسلام|25 انبیاء و مرسال]]<ref name="messengers" /> کے علاوہ اسلامی عقائد کے مطابق ایسے انبیا اکرام بھی ہیں کہ جن کا ذکر قرآن میں نہیں آتا، [[اسلام#اجمالی جائزہ|قطعہ بنام اجمالی جائزہ]] میں درج آیت سے یہ بات عیاں ہے کہ ہر امت میں نبی (یا انبیا) بھیجے گئے، اس سلسلے میں ایک [[حدیث]] بھی [[مسند]] [[احمد بن حنبل]] اور [[فتح الباری بشرح صحیح البخاری]] میں آتی ہے جس میں پیغمبران کی تعداد 124000 بیان ہوئی ہے۔<ref>فتح الباری بشرح صحیح البخاری [http://hadith.al-islam.com/Display/Display.asp?hnum=1&doc=0 آن لائن]</ref><ref>پاکستان لنک نامی ایک موقع [http://www.pakistanlink.com/Religion/2005/09232005.htm آن لائن بیان]</ref><ref>دارالافتاء پر ایک بیان [http://www.askimam.org/fatwa/fatwa.php?askid=2275f3a4dd6e2da72db0f8a0232ac702 آن لائن موقع]</ref>؛ ظاہر ہے کہ ان میں ان مذاہب کے وہ اشخاص منطقی طور پر شامل ہو جاتے ہیں کہ جن کو آج ان مذاہب کی ابتدا کرنے والا یا ان مذاہب کا خدا مانا جاتا ہے ؛ مثال کے طور پر [[گوتم بدھ|سدھارتھ گوتم بدھ مت]] اور دیگر مذاہب کی ابتدا کرنے والے<ref name="آن لائن مضمون" />، گوتم بدھ کے بارے میں بعض علما کا خیال ہے کہ یہ پیغمبر [[ذو الکفل علیہ السلام]] ([[الانبیاء]] آیت 85) کی جانب اشارہ ہے اور ''kifl'' اصل میں [[سنسکرت]] کے لفظ ''(Kapilavastu)'' کو تشبیہ ہے،<ref name=tanzeem>تنظیم اسلامی کی ویب سائٹ پر بیان القرآن؛ [http://www.tanzeem.org/online/Dorah/ Surah An-Nisa (Ayat 158-176)] (پیڈی ایف فائل)</ref> گو یہ خیال [[اہل سنت|سنی]]<ref name=tanzeem /> اور [[اہل تشیع|شیعہ]] <ref>ایک شیعہ موقع پر ایک لاکھ چوبیس ہزار کے عدد کا ذکر [http://www26.brinkster.com/sdolshah1/udfd.html آن لائن مضمون]</ref> کے علاوہ خود [[بدھ]] مذہب والوں میں بھی پایا جاتا ہے<ref>قرآن میں گوتم بدھ کے بارے میں بدھ موقع [http://www.buddhistchannel.tv/index.php?id=6,6867,0,0,1,0 آن لائن]</ref> لیکن چونکہ گوتم بدھ کا نام براہ راست قرآن میں نہیں آتا اس لیے متعدد علما اس وضاحت کو تسلیم نہیں کرتے۔ قرآن کی رو سے یہ تمام اشخاص خدا کی طرف سے وہی پیغام اپنی اپنی امت میں لائے تھے کہ جو آخری بار قرآن لایا، مگر ان میں تحریف پیدا ہو گئی۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار کی تعداد کے بارے میں متعدد نظریات دیکھنے میں آتے ہیں اور بہت سے علما کے نزدیک یہ عدد کوئی معین یا ناقابل ترمیم نہیں ہے<ref>darul ifta; question [http://www.darulifta-deoband.org/viewfatwa.jsp?ID=12813 آن لائن ربط]</ref>
 
== اسلام پر انتقاد ==
* {{Cite book| last1=Malik| first1=Jamal| last2=Hinnells| first2=John R | title=Sufism in the West | publisher= Routledge | year=2006 | isbn=0-415-27408-7 | ref=harv}}
* {{Cite book| last=Menski | first=Werner F. | title=Comparative Law in a Global Context: The Legal Systems of Asia and Africa | publisher=Cambridge University Press | year=2006 | isbn=0-521-85859-3 | ref=harv}}
* {{Cite book | editor-last = Miller | editor-first = Tracy |date=اکتوبر 2009 | publisher = [[پیو ریسرچ سینٹر]] | title = Mapping the Global Muslim Population: A Report on the Size and Distribution of the World's Muslim Population | format = PDF | url=http://www.pewforum.org/2009/10/07/mapping-the-global-muslim-population/ | accessdate = 2013-09-24 |ref=harv| archiveurl = http://web.archive.org/web/20181224210934/http://www.pewforum.org/2009/10/07/mapping-the-global-muslim-population/ | archivedate = 24 دسمبر 2018 }}
* {{Cite book| last=Momen | first=Moojan | title=An Introduction to Shi'i Islam: The History and Doctrines of Twelver Shi'ism | publisher=Yale University Press | year=1987 | isbn=978-0-300-03531-5 | ref=harv}}
* {{Cite book| last=Nasr | first=Seyed Muhammad | title=Our Religions: The Seven World Religions Introduced by Preeminent Scholars from Each Tradition (Chapter 7) | publisher=HarperCollins | year=1994| isbn=0-06-067700-7 | ref=harv}}