"اداریہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

38 بائٹ کا اضافہ ،  3 سال پہلے
م
خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب (14.9 core): + زمرہ:نظریاتی صحافت
م (خودکار: اضافہ زمرہ جات : + زمرہ:اخباری مواد)
م (خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب (14.9 core): + زمرہ:نظریاتی صحافت)
[[فائل:Excerpt from an editorial in the Hawaiian Star, 1901.jpg|تصغیر|[[1901ء]] کے [[ہوائین اسٹار]] اخبار کے ایک اداریہ کا ایک اقتباس جس میں نسلی رشتوں اور وابستگی کا تذکرہ ملتا ہے۔ اسے مخالف اطالویت کے طورپر بھی پیش کیا جاتا ہے۔]]
'''اداریہ''' {{دیگر نام|انگریزی=Editorial}} ایک ایسا مضمون ہے جسے کوئی تجربہ کار [[اخبار]] یا [[رسالہ|رسالے]] کے [[ادارت|ادارتی عملے کا رکن]] یا پھر کوئی ناشر کا تحریر کردہ ہے۔ اداریہ عام طور سے غیر دستخط شدہ شدہ ہوتے ہیں۔
 
اکثر اداریوں میں حالات حاضرہ کے موضوعات کو پیش کیا جاتا ہے۔ اداریوں میں کئی مربوط واقعات کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ کئی موضوعات کو باریک بینی سے چھانا جاتا ہے۔ کئی واقف لوگ اداریوں کو اخبارات کی ذاتی رائے بھی قرار دیتے ہیں۔
 
عام طور سے یہ کالم اخبارات کے بیچ میں ہوتا ہے۔ تاہم کئی بار جب کوئی سلگتا ہوا مدعا ہوتا ہے، تب اداریے صفحہ اول پر لکھے جاتے ہیں۔ [[6 دسمبر]] [[1992ء]] میں [[بابری مسجد کا انہدام|بابری مسجد کے انہدام]] کے بعد [[بھارت]] کے زیادہ اخبارات نے اس کے اگلے ہی دن اس تخریبی کار روائی کی مذمت میں اداریے شائع کیے۔ اداریوں میں اس بات کی بھی یاد دہانی کی گئی کہ اس وقت [[اتر پردیش]] کے وزیر اعلٰی [[کلیان سنگھ]] نے کس طرح بابری مسجد کے تحفظ کا [[بھارت کا سپریم کورٹ|بھارت کے سپریم کورٹ]] کو تیقن دیا اور پھر بھی یہ مذموم کار روائی کی گئی۔ اداریوں میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ حالانکہ دنیا کے کئی بڑے شہر بشمول [[لندن]] [[دوسری جنگ عظیم]] کے دوران غارت گری سے گزرے مگر پھر بھی تعمیر کی راہ پر گام زن ہوئے، اسی طرح یہ سانحہ بھی ایک سیاہ واقعہ ہو کر بھی آگے چل کر ملک کی تعمیر و ترقی میں حائل نہیں ہوگا۔ <ref>https://timesofindia.indiatimes.com/india/december-6-1992-the-day-that-changed-indian-politics-forever/articleshow/61939595.cms</ref>
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
 
[[زمرہ:اخباری مواد]]
[[زمرہ:نظریاتی صحافت]]