"موت" کے نسخوں کے درمیان فرق

79 بائٹ کا ازالہ ،  3 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← ان کی؛ تزئینی تبدیلیاں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
م (خودکار: خودکار درستی املا ← ان کی؛ تزئینی تبدیلیاں)
[[فائل:Mega Ofrenda de dia de muertos.jpg|بائیں|150px|تصغیر|مردہ کے دن ، [[میکسیکو]] ، وفاقی ضلع میں منعقد کی پیشکش کی. کاغذ کی کھوپڑی کے کاسٹ, زیمپوالاوچاٹل پھول, موم بتیاں, الکحل, پھل اور ظروف; کچھ میت کے رشتہ داروں کی پیشکش میں عام چیزیں ۔]]
[[فائل:Postmortem, unidentified woman (2678293264).jpg|بائیں|160px|تصغیر|پوسٹماورٹیم, نامعلوم عورت, [[1852]].]]
کسی [[حیات|جاندار]] کے تمام تر [[حَيَوِی افعال]] کے خاتمے کو [[طب|طبی]]ی لحاظ سے '''موت''' کہا جاتا ہے۔ گویا عموما موت کے بارے میں یہی خیال ذہن میں آتا ہے کہ یہ {{ٹ}} [[حیات|زندگی]] {{ن}} کا ایک آخری مرحلہ ہے جو طبیعی یا حادثاتی طور پر حیات کو موقوف کردیتا ہے لیکن دراصل موت کی جانب سفر کا عمل زندگی کے آغاز کے ساتھ پیدائش سے ہی شروع ہوجاتا ہے اور اس بات کو جدید سائنسی تحقیق میں [[حیاتیات|حیاتیاتی]]ی اور طبی لحاظ سے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے کہ تمام عمر انسان (اور تمام جانداروں) کے [[خلیہ|خلیات]] کے اندر ایسے کیمیائی تعملات جاری رہتے ہیں کہ جو آہستہ آہستہ موت کا سبب بن جاتے ہیں۔ اور اب تو طبیب اور سائنسداں یہاں تک جان چکے ہیں کہ زندگی کے لیے سب سے اہم ترین کیمیائی سالمے یعنی [[ڈی این اے|DNA]] میں موت کے لیے ایک طرح کی منصوبہ بندی پہلے سے ہی شامل کی جاچکی ہے جو ایک گھڑی کی طرح موت کے لمحات گنتی رہتی ہے۔ (اس کے سائنسی ثبوت نیچے کسی بند میں ذکر کیے جائیں گے)
 
== موت کا عمل ==
اوپر بیان کردہ تمام افعال کو انجام دینے کے لیے اور استتباب یا ہومیواسٹیسس کو قائم رکھنے کے لیے ایک بہت ہی نازک اور محرک توازن کا مستقلا موجود رہنا ضروری ہوتا ہے اور جب کسی صدمہ یا چوٹ کی وجہ سے خلیہ اپنے اندرونی اور بیرونی ماحول میں توازن برقرار نہ رکھ پائے تو اس کی زندگی قائم رہنا محال ہوجاتا ہے۔ خلیے کو پہنچنے والا یہ صدمہ یا ضرر مختلف اقسام کا ہو سکتا ہے جس کی تفصیل کے لیے اس کا صفحہ [[خلیاتی موت]] مخصوص ہے۔
 
مختصرا یوں کہ خلیات کو اپنی زندگی برقرار رکھنے کے لیے [[کیمیائی عنصر|عناصر]] اور [[کیمیائی مرکب|مرکبمرکبات]]ات کے ایک توازن کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ عناصر (جن میں چند؛ [[آکسیجن]]، [[نطرساز|نائٹروجن]]، [[فحم|کاربن]]، [[آبساز]] اور [[گندھک]] وغیرہ ہیں) جب تک خلیہ میں موجود [[آلہ|آلات]] کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہیں تو خلیہ کا استتباب بھی قائم رہتا ہے اور خلیہ کی جھلی کے اندر کی فضا یعنی خلیہ کے اندر اور بیرونی فضاء یعنی پلازمہ یا خون، کے درمیان مختلف کیمیائی عناصر اور مرکبات کا تبادلہ ضرورت کے تحت ہوتا رہتا ہے، جب تک یہ ہم آہنگی قائم رہتی ہے زندگی بھی اور جب [[جوہر|جوہروں]]وں اور عناصر کی یہ ترتیب بگڑ جائے تو خلیہ کی زندگی بھی ختم ہوجاتی ہے اور ساتھ ہی جاندار کی۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب کی [[حیاتی کیمیاء]] میں کبھی ایک شعر پڑھا تھا (شاعر پنڈت برج نارائن چکبست لکھنوی ہیں)، اس شعر کا اصل مقصد تو جو بھی ہو مگر اس شعر کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ کس قدر اچھے انداز میں آج کی جدید سائنس کے مطابق موت کی تشریح کی گئی ہے۔
<p align="center">
زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہور ترتیب <br/>
موت کے بعد، جسم کا [[لُبی درجہ حرارت]] گر جاتا ہے اس مظہر کو [[طب]] میں [[بُرُودۂ موت]] (algor mortis) کہا جاتا ہے۔ اور اس برودۂ موت (یعنی بعد از موت جسم کا سرد ہوجانے) کی شرح کا انحصار مختلف ماحولی (بیرونی) اور جسم الموت کے (اندرونی) عوامل پر ہوتا ہے مثلا، موسم کا درجہ حرارت، لاش کا لباس، موت واقع ہونے سے پہلے جسم کا درجہ حرارت اور لاش یا جسم الموت کی جسامت وغیرہ۔
 
[[پستاندار]] (میمیلیا) جانداروں میں، لاش کے [[تَفکّک]] یعنی تعفن پیدا ہونے یا decomposition سے پہلے ایک اور عمل واقع ہوتا ہے جس کو [[صَمَل موت]] یعنی مرنے کے بعد جسم کا اکڑنا یا rigor mortis کہتے ہیں۔ لاش کے اس طرح اکڑ جانے کے عمل میں مختلف کیمیائی عوامل کارفرما ہوتے ہیں جن میں [[ATP]] کا ناپید ہوتے چلے جانا اور [[حُماض لَبَنی]] (lactic acidosis) اہم ہیں (لبنی، دودھ کو کہتے ہیں اور حماض تیزابیت کو)۔ درج بالا دونوں کیمیائی عوامل کی وجہ سے [[عضلات]] (مسلز) بتدریج سخت ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ان کے [[ریشیچوں]] (fibrils) میں آزاد توانائی یا ATP باقی نہیں رہتا اور لبنی حماض کی وجہ سے پیدا شدہ تیزابیت ان کے عمومی کام کو روک دیتی ہے۔ عام طور پر صمل موت کا یہ عمل ہلاکت کے 2 تا 4 گھنٹے کے بعد شروع ہوتا ہے مگر مزید پہلے بھی واقع ہو سکتا ہے۔ 9 تا 12 گھنٹے بعد یا گرم آب و ہوا میں، یہ تبدیلی اختتام کو پہنچ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ صمل موت کا واقع ہونا، ماحول کے درجہ حرارت پر بھی منحصر ہوتا ہے اور موت سے پہلے اس جاندار کی عضلاتی حرکت کی نوعیت پر بھی۔
 
بعد از موت ایک اور تبدیلی [[ازرق موت]] (livor mortis) یعنی نیلے پن کا ظہور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ [[پس مرگ|موت کے بعد]] مختلف [[مصلی جھلی|مصلی جھلیوں]]وں سے [[ریشتحلیلہ|ریش تحلیلی]] ([[تحلیلہ|تحلیلی]] خامرے) نکلتے ہیں جو [[خون]] کو جمانے والے ایک [[لحمیات|لحمیہ یا پروٹین]] جس کو [[ریشیچہ گر]] (fibrinogen) کہا جاتا ہے کو تحلیل کر کے ختم کردیتے ہیں جس کی وجہ سے موت کے 30 تا 60 [[دقیقہ|منٹ]] بعد خون کے جمنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی اور یہ خون، [[ثقالت|کشش ثقل]] کی وجہ سے جسم کے نچلے حصوں میں جمع ہو کر[[جلد]] کی نیلگوں رنگت پیدا کر دیتا ہے، اسی وجہ سے اس کو ارزق موت کہا جاتا ہے کہ ارزق کے معنی نیلے کے ہوتے ہیں۔ یہ مظہر موت کے 2 گھنٹے بعد واضع دیکھا جاتا ہے اور 8 تا 12 گھنٹے تک اپنی انتہا پر پہنچ جاتا ہے۔
=== وقت مرگ کا تعین کرنا ===
* {{اس}} [[دماغی موت]]
آج کی جدید [[ٹیکنالوجی]] یعنی ٹیکنالوجی اور طب کی موجودہ ترقی سے قبل، موت کو [[قلب|دل]] اور [[تنفس|سانس]] کی حرکت رک جانے سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ مگر آج کے دور میں جب [[انعاش قلبی ریوی]] ([[قلبی ریوی احیاء|CPR]]) اور [[ازالۂ رجفان]] (defibrillation) کی بہترین سہولیات طب کے ہاتھ میں ہیں تو اب موت کی پرانی تعریف اکثر پریشانی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے کیونکہ اب اوپر بیان کردہ دونوں ٹیکنالوجی یا ٹیکنالوجی کی وجہ سے، دل اور سانس رک جانے کے بعد بھی زندگی واپس آجانے کے امکانات ہوتے ہیں لہذا اس سانس اور دل کی بندش کو آج کل [[سریری موت]] (Clinical death) کہا جاتا ہے اور دھڑکن اور سانس رکنے کی وجہ سے موت کی صورت حال میں بھی انسان یا کسی جاندار کو [[کمک حیات]] (life support) کے [[آلہ|آلات]] کی مدد سے طویل عرصے تک سہارا دیا جاسکتا ہے۔
 
مندرجہ بالا وجوہات کی وجہ سے آج جب ایک طبیب یا طبیب قانونی (coroner) کسی موت کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو وہ [[دماغی موت]] (Brain death) یا [[حیاتیاتی موت]] کی بات کرتا ہے۔ اور کسی بھی شخص کو صرف اسی حالت میں [[قانون|قانونی]]ی طور پر مردہ قرار دیا جاتا ہے کہ جب اس کے [[دماغ]] میں [[برق|برقی]]ی تحریک ناپید ہو جائے (دیکھیے [[دوامی حالت انباتیہ]])۔ اب یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ جب دماغ میں برقی تحریک کا خاتمہ ہو جائے تو حالت [[شعور]] یا آگہی موقوف ہوجاتی ہے۔ مگر موت کا اعلان کرنے کے لیے اس شعور کی موقوفیت کو دائمی یا مستقل ہونا لازمی ہے نا کہ عارضی، جیسا کہ [[نیند]] یا [[غَيبوبہ|بے ہوشی]] کی حالت میں ہوتا ہے۔ نیند یا سونے کی حالت میں [[برقی دماغی تخطیط|برقی دماغی تخطط (electroencephalography)]] باآسانی اس بات کو ظاہر کردیتی ہے کہ شعور کا غائب ہوجانا عارضی ہے یا دائمی۔ موت کے درست وقت کا تعین کرنا اس لیے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ آج [[عُضو|اعضاء]] کی [[پیونکاری]] بہت ترقی کرچکی ہے اور پیوندکاری کے لیے کسی بھی عضو کو جس قدر جلد ہو [[قطف]] یا جمع (harvest) کر لیا جائے۔
 
=== علامات قرب مرگ ===
 
=== فعلیاتی انجام ===
انسان میں موت کے بعد واقع ہونے والی [[فعلیات|فعلیاتی]]ی تبدیلیاں [[نفخ|جسم کے پھول جانے]] سے شروع ہوتی ہیں اور پھر اس کے بعد تفکک یعنی خراب ہوجانا اور پھر بعد از تفکک ہونے والی تبدیلیاں جو بالاخر ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیوں تک جاتی ہیں۔
15 تا 120 منٹ تک ہونے والی تبدیلیاں (وقت مختلف عوامل پر منحصر ہوتا ہے جن کا ذکر اوپر آ چکا ہے)
لاش کا رنگ پھیکا یا تبدیل ہو جاتا ہے جسے [[شحوب موت]] (pallor mortis) کہتے ہیں اور اس کا [[لبی درجہ حرارت]] گرجاتا ہے جسے [[برودہ موت|برودہ موت یا انجماد موت]] کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ [[مصرات]] (sphincter) یعنی جسم کے وہ عضلات جو دائرے یا چھلے کی صورت میں کسی سوراخ کے گرد ہوں اور اس کو ضرورت کے مطابق بند کریں، ڈھیلے ہوجاتے ہیں جسم سے [[براز]]، [[بول|پیشاب]] اور معدہ کے اجزاء باہر آسکتے ہیں (بطور خاص اور جسم الموت کو حرکت دی جائے)۔ پھر [[ارزق موت]] کی تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے جس میں خون جسم کے نچلے حصوں (جو جسم کو رکھی ہوئی سطح، [[میز]] یا [[چارپائی]] کی جانب ہوتے ہیں) میں جمع ہوکر رنگ تبدیل کردیتا ہے اور پھر جم جاتا ہے۔ اس کے علاوہ [[صمل موت]] یا جسم کا اکڑ جانا جو 12 گھنٹے تک خاصہ نمایاں ہو سکتا ہے اور پھر اس کے بعد اگلے 24 گھنٹے میں ختم ہوجاتا ہے جب [[خامرہ|خامرے]] جسم کی [[نسیج]] کی توڑپھوڑ شروع کرتے ہیں۔ ایک روز میں جسم [[تفکک]] یا تعفن کے آثار نمایاں کرنے لگتا ہے اس عمل میں دو بنیادی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ * 1- [[خود تحلیلی]] (autolytic) تبدیلیاں جو خود جسم کے اندر نمودار ہوتی ہیں مثلا [[خامروں]] کا عمل اور * 2- تعفن اور خرابی پیدا کرنے والے بیرونی یا ماحولی جسیمے مثلا [[بیکٹیریا]]، [[فطریات]] (fungi)، [[حشرات]] وغیرہ۔
 
اب جسم اندرونی طور پر بھی منہدم ہونا شروع ہوجاتا ہے اس کی جلد کے نچلی چربی اور گوشت سے روابط ڈھیلے پڑجاتے ہیں اور بیکٹیریا وغیرہ کی وجہ سے بننے والی ہوا جسم کو مزید پھلا سکتی ہے۔ مختلف اقسام کے بیرونی اور اندرونی عوامل کے باعث جسم کے خستہ اور بوسیدہ ہوجانے کا عمل خاصہ متغیر ہوتا ہے بعض اوقات چند روز میں ڈھانچہ باقی رہ جاتا ہے اور بعض اوقات جسم کئی ماہ یا سال تک اپنی بنیادی ساخت میں برقرار رہ سکتا ہے۔
== قیادی اسباب الموت ==
قیادی اسباب الموت (leading causes of death) کے اعداد وشمار، ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک میں کچھ مختلف ہیں۔ ذیل میں [[عالمی ادارہ صحت]] کی دستاویز بمطابق 2001ء کے اعداد و شمار دیے جا رہے ہیں۔ [http://ucatlas.ucsc.edu/cause.php 1]
 
== جزء آخر ==
{{اس}} [[جزء آخر|جزء آخر (telomere)]]
جزء آخر جس کو انگریزی میں telomere کہا جاتا ہے دراصل [[لونجسیمہ|لونی جسیمات]] یا کروموسومز کے سروں (اطراف) پر [[ڈی این اے]] کے جزء یا ٹکڑے ہوتے ہیں جو مختلف افعال انجام دینے کے ساتھ ساتھ ڈی این اے اور باالفاظ دیگر لونی جسیمات کی حفاظت کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ ہر بار جب خلیہ تقسیم ہوتا ہے تو انکیان کی طوالت کچھ کم ہوجاتی ہے اور سائنسی شواہد اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ انکیان کی طوالت کا گھٹتے چلے جانا، حیات کی طوالت یا یوں کہہ لیں کہ موت سے سروکار رکھتا ہے۔
 
== مزید دیکھیے ==
* [http://www.alcor.org/FAQs/ الکور آرگ کی انجمادیات کے بارے میں معلومات]
 
[[زمرہ:موت| ]]
[[زمرہ:بشری شماریات]]
[[زمرہ:حیات]]
111,622

ترامیم