"مودود غزنوی" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
; ابو الفتح قطب الملتہ شہاب الدولہ سلطان مودود غزنوی 1040ء میں تخت نشین ہوئے۔ مودود سلطان مسعود کے بڑے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے اپنے چچا امیر محمد غزنوی سے جنگ میں فتح حاصل کر کے ہندوستان کی بادشاہت حاصل کی۔ اس کے بعد سلطان اور اس کے بھائی مجدود غزنوی میں جنگ کی تیاری ہوئی لیکن لڑائی سے پہلے ہی عید الضحی کی صبح کو مجدود اپنے بستر پر مردہ پائے گئے۔ اس کی موت میں سوائے دست قضا کے کوئی دنیاوی وجہ نظر نہیں آئی۔ 435ھ میں میں امرائے اسلام کی باہمی مخاصمت کے باعث رائے دہلی نے ہانسی، تھانیسر کے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد نگر کوٹ کا محاصرہ کر کے وہاں کے مسلمانوں کو شہر بدر کر دیا۔ ان کاروائیوں کے بعد پنجاب کے تین راجاؤں نے اتفاق کر کے لاہور کی طرف پیش قدمی کی۔ یہاں آپس میں جنگیں ہورہی تھیں۔ جب راجگان ہند لاہور سے مسلمانوں کو خارج کرنے کی غرض سے سر پر پہنچے تو انہیں ہوش آیا اور نفاق کو بالائے طاق رکھ کر مل کر مقابلہ کو نکلے۔ راجاؤں کی فوج مسلمانوں کو مستعد اور لڑنے کو تیار دیکھا تو بے لڑے بھاگ کھڑے ہوئے۔ سلطان مودود نے سلجوقیوں سے خوشگوار تعلقات رکھنے کے لیے سلجوقی سردار جعفر بیگ کی لڑکی سے شادی بھی کی لیکن فتنہ پرور قوم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور سلطان مودود اپنے سارا عہد سلطانی سلجوقیوں سے لڑنے میں گزار دیا۔ سلطان قولنج بیماری کا شکار ہو گئے تھے۔ اسی بیماری نے آپ کی جان لے لی۔ وفات کے وقت مودود کی عمر 39 برس تھی۔ <ref>ہندوستان کے مسلمان فاتح و تاجدار مولف سید محمد عمر شاہ صفحہ 50 اور 51</ref>
 
{{خانہ معلومات شخصیت}}
; ابو الفتح قطب الملتہ شہاب الدولہ سلطان مودود غزنوی 1040ء میں تخت نشین ہوئے۔ مودود سلطان مسعود کے بڑے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے اپنے چچا امیر محمد غزنوی سے جنگ میں فتح حاصل کر کے ہندوستان کی بادشاہت حاصل کی۔ اس کے بعد سلطان اور اس کے بھائی مجدود غزنوی میں جنگ کی تیاری ہوئی لیکن لڑائی سے پہلے ہی عید الضحی کی صبح کو مجدود اپنے بستر پر مردہ پائے گئے۔ اس کی موت میں سوائے دست قضا کے کوئی دنیاوی وجہ نظر نہیں آئی۔ 435ھ میں میں امرائے اسلام کی باہمی مخاصمت کے باعث رائے دہلی نے ہانسی، تھانیسر کے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد نگر کوٹ کا محاصرہ کر کے وہاں کے مسلمانوں کو شہر بدر کر دیا۔ ان کاروائیوں کے بعد پنجاب کے تین راجاؤں نے اتفاق کر کے لاہور کی طرف پیش قدمی کی۔ یہاں آپس میں جنگیں ہورہی تھیں۔ جب راجگان ہند لاہور سے مسلمانوں کو خارج کرنے کی غرض سے سر پر پہنچے تو انہیں ہوش آیا اور نفاق کو بالائے طاق رکھ کر مل کر مقابلہ کو نکلے۔ راجاؤں کی فوج مسلمانوں کو مستعد اور لڑنے کو تیار دیکھا تو بے لڑے بھاگ کھڑے ہوئے۔ سلطان مودود نے سلجوقیوں سے خوشگوار تعلقات رکھنے کے لیے سلجوقی سردار جعفر بیگ کی لڑکی سے شادی بھی کی لیکن فتنہ پرور قوم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور سلطان مودود اپنے سارا عہد سلطانی سلجوقیوں سے لڑنے میں گزار دیا۔ سلطان قولنج بیماری کا شکار ہو گئے تھے۔ اسی بیماری نے آپ کی جان لے لی۔ وفات کے وقت مودود کی عمر 39 برس تھی۔ <ref>ہندوستان کے مسلمان فاتح و تاجدار مولف سید محمد عمر شاہ صفحہ 50 اور 51</ref>
 
== سلطان مسعود کا قتل ==