"لاہور کی عزاداری" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
[[گامے شاہ]] اور [[مائی گاماں]] دراصل دونوں [[مجذوب]] تھے جو عاشور کے دن سر پر گتے کا تعزیہ رکھ کر [[کرشن نگر]] سے [[داتا دربار]] تک آتے تھے جہاں اس وقت [[دریائے روای]] بہتا تھا اور یہاں [[تعزیہ]] ٹھنڈا کر دیتے تھے۔ جب بابا گامے کا انتقال ہوا تو اسے داتا دربار کے عقب میں دفن کیا گیا اور اسکا نام گامے شاہ پڑ گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نواب ناصر علی خان کے علاوہ اردو ادب کے ایک شہنشاہ مولانا [[محمد حسین آزاد]] کا بھی مزار موجود ہے۔ [[لاہور]] کا دوسرا بڑا تاریخی مرکز [[وسن پورہ]] میں ہے جہاں [[عزداری]] کی بنیاد مولانا سید علی الحائری کے والد شمس العلما مولانا ابوالقاسم نے ڈالی تھی اور انہیں کے گھر میں بعد ازاں پہلا [[جامعہ المنتظر]] کھلا تھا جو بعد میں [[ماڈل ٹاؤن]] منتقل ہو گیا۔ کیسے کیسے نابغہ روزگار علما اور ذاکرین تھے جو کسی مفاد اور تمنا کے بغیر ذکر امام کرتے تھے۔ خطابت اور ذاکری میں [[کمرشل ازم]] نہیں آیا تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ [[شیعہ]] [[سنی|سُنی]] کا کوئی فرق معلوم نہیں تھا۔ سب [[مسلمان]] کیا بلکہ [[غیر مسلم]] بھی [[کربلا]] والوں کا غم مل کر منایا کرتے تھے۔ جب علامہ حائری مجلس پڑھتے [[علامہ اقبال]] سننے آتے۔
 
[[لاہور]] میں [[عزاداری]] کے واضح اور مستند شواہد حضرت [[داتا گنج بخش]] اور [[بی بی پاکدامن|بیبیاں پاکدامناں]] کے علاوہ [[شاہ حسین زنجانی]] اور حضرت [[میاں میر]] کے عہد میں بھی ملتے ہیں اور پھر [[ملا احمد ٹھٹھوی]] اور قاضی [[نور اللہ شوشتری]] کے عہد میں بھی [[عزاداری]] پورے اہتمام سے تھی۔ تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہونے کی بجائے اگر ماضی قریب میں دیکھیں تو [[لاہور]]میں پرانے شہر میں اندرون [[موچی دروازہ|موچی دروازے]] کا علاقہ اہمیت کا حامل ہے، جہاں کا محلہ شیعاں دنیا بھر میں [[عزاداری]] کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ موچی دروازے ہی کی نثار حویلی بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے جہاں [[قزلباش]] خاندان نے [[1800]] کے اوائل میں [[محرم]] کی مجالس کرنا شروع کیں اور اب [[ماڈل ٹاؤن]] کے جامعہ المنتظر اور اس سے آگے [[راۓ ونڈ]] روڈ تک پھیلی نئی آبادیوں میں قائم عزا خانوں میں سینکڑوں کی تعداد میں [[علم]] اور ماتمی [[جلوس]] نکالے جا رہے ہیں۔
 
903

ترامیم