"لاہور کی عزاداری" کے نسخوں کے درمیان فرق

یہ تو صرف ایک مثال ہے جس کا گواہ میں خود ہوں اس کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسی مثالیں موجود ہوں گی جہاں مختلف مسالک کے لوگ نہیں بلکہ سب [[مسلمان]] مل کر نواسہ رسول کی قربانی کی یاد مناتے ہوں گے۔ یہ ساری تباہی اور بربادی [[محمد ضیاء الحق|جنرل ضیاءالحق]] کے زمانے میں پروان چڑھی، جس نے اپنی [[حکومت]] بچانے کے لئے مسالک کے درمیان نفرتوں کو فروغ دیا اور پھر یہ نفرتیں اس قدر بڑھیں کہ [[صحابہ]] اور آلِ محمد کی تعلیمات کے برعکس [[سپاہ صحابہ]] بنی جنہوں نے [[اسلام]] کی وہ خدمت کی کہ غیر مسلم کہنے لگے کہ مسلمانوں کے خلاف رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہی نہیں وہ خود ہی اپنے آپ لڑ لڑ کے مر جائیں گے۔ یہ ساری تفرقہ بازی کس نام پر ہوئی؟ اسلام کے نام پر کہ جس کا خمیر ہی امن و سلامتی سے اٹھا ہے۔<ref>https://www.islamtimes.org/ur/article/318912/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE%DB%8C-%D8%B9%D8%B2%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%D8%A7%D9%88%D9%84</ref>۔<ref>اسلام ٹائمز، تحریر: سید [[صفدر ہمدانی]]، ترتیب و اضافہ: سردار تنویر حیدر</ref>. <ref>https://www.aalmiakhbar.com/archive/index.php?mod=article&cat=specialreport&article=2800</ref>
 
علامہ سید علی الحائری کے والد شمس العلماء مولانا ابوالقاسم کو دراصل پہلی بار [[نواب]] قزلباشوں نے ہی [[مجلس]] خوانی کے لئے [[لاہور]] مدعو کیا تھا اور یہ بات [[1800ء]] کے درمیانی عشروں کی ہے۔ پھر اسی زمانے میں وسن پورہ میں جو ابھی پوری طرح آباد نہیں ہوا تھا، علامہ حائری کے والد ابوالقاسم نے وسن پورہ کی زمین خریدی تھی اور یہیں پر [[اہل تشیع]] کی [[لاہور]] میں باقاعدہ پہلی جامع [[مسجد]] علامہ حائری کا قیام عمل میں آیا اور علامہ قاسم نے مختصر پیمانے پر ایک [[مدرسہ]] اور [[کتب خانہ]] بھی قائم کیا اور اسی [[مسجد]] میں [[عزاداری]] کا سلسلہ شروع ہوا جہاں [[9 محرم]] کو [[ذوالجناح]] کا [[جلوس]] نکلنا شروع ہوا اور یہ [[روایت]] آج تک قائم ہے۔ شمس العلماء مولانا ابوالقاسم کی [[وفات]] [[1906ء]] میں ہوئی جس کے بعد یہ سب انتظام انکے بیٹے علامہ سید علی الحائری نے سنبھالا اور انکی [[وفات]] کے بعد [[علم]] کا یہ در اس [[خاندان]] میں بند ہو گیا لیکن علامہ حائری کے بیٹوں نے [[مسجد]] میں [[نماز]] اور [[عزاداری]] کا سلسلہ قائم رکھا۔
 
علامہ حائری کے بیٹوں میں آغا سید رضی، آغا سید ذکی اور آغا سید تقی سب [[وفات]] پا چکے ہیں اور اب یہ [[خاندان]] لگ بھگ سارے کا سارا وسن پورہ چھوڑ کر [[لاہور]] کی جدید آبادیوں میں مقیم ہو چکا ہے۔ علامہ سید علی الحائری کی تین بیٹیاں تھیں جن میں محترمہ سائرہ جن کے شوہر آغا سید رضی تھے جو [[کالا شاہ کاکو]] کے حادثے میں فوت ہوئے تھے۔ محترمہ ذکیہ جن کے شوہر آغا سید حامد حسین تھے انہوں نے [[1970ء|70]] کے عشرے میں [[لاہور]] [[گلبرگ]] میں مجالس کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ علامہ حائری کی سب سے چھوٹی بیٹی عالیہ تھیں جنکے شوہر سید تقی تھے جنہیں ہم سب آغا بابا کہتے تھے۔ [[صفدر ہمدانی]] کہتے ہیں کہ یہاں ایک اور تاریخی حقیقت کی طرف صرف اشارہ کرتا چلوں جو مجھے میرے والد مرحوم [[مصطفی علی ہمدانی]] نے بتائی تھی اور اس بات کا ذکر انہوں نے [[لاہور]] کی [[عزاداری]] کی تاریخ کے موضوع پر بنائی جانے والی [[ریڈیو]] [[لاہور]] کے اس واحد دستاویزی [[پروگرام]] میں کیا تھا جو شاید اب [[ریڈیو پاکستان]] کے آرکائیو میں بھی موجود نہ ہو حالانکہ اس [[پروگرام]] کو میں نے خود اپنے ہاتھوں سے سنٹرل پروڈکشن کے آرکائیو رجسٹر میں درج کیا تھا۔
 
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ [[لاہور]] کے [[10 محرم]] کے تاریخی جلوس کا جو راستہ ہم گذشتہ کئی عشروں سے دیکھ رہے ہیں دراصل یہ وہ (روٹ) راستہ نہیں ہے جو ابتداء میں تھا۔ [[1850ء]] کے عشرے میں [[موچی دروازہ|موچی دروازے]] سے [[10 محرم]] کے [[ذوالجناح]] کا پہلا جلوس [[مبارک حویلی]] سے نکلا تھا کیونکہ اس وقت [[نثار حویلی]] الگ نہیں تھی۔ یہ تو بعد میں [[1928ء]] میں خاندانی تنازعوں اور [[جائیداد]] کی تقسیم کی وجہ سے عمل میں آئی اور یہ جلوس نثار حویلی سے نکلنے لگا۔ [[بر سبیل]] تذکرہ [[تاریخ]] سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے عرض ہے کہ [[کوہ نور]] [[ہیرا]] ایک زمانے میں اس مبارک حویلی میں بھی رکھا گیا تھا۔ [[مرحوم]] شاہد نقوی نے بھی اپنی تحقیقی [[کتاب]]‘‘[[عزاداری]]‘‘ میں اس تاریخی جلوس کا جو راستہ لکھا ہوا ہے وہ بھی موجودہ راستہ ہے۔ ابتدا میں [[10 محرم]] کی [[نصف شب]] میں نثار حویلی سے برآمد ہو کر [[نماز]] [[فجر]] تک محلہ شیعاں میں پہنچتا، جہاں [[فجر]] کی [[نماز]] ادا کی جاتی اور پھر یہاں سے [[لال کھوہ]] سے ہوتا ہوا جلوس [[کیلیاں والی سڑک]] پر نکل جاتا جسے آج کل [[برانڈرتھ روڈ]] کہا جاتا ہے۔
 
اس کیلیاں والی سڑک سے جلوس سیدھا [[انار کلی]] کے باہر سے ہوتا ہوا [[بھاٹی دروازہ|بھاٹی دروازے]] پہنچتا تھا جہاں سے [[داتا دربار]] کے عقب میں [[کربلا گامے شاہ|کربلائے گامے شاہ]] میں اسی جگہ اختتام پذیر ہوتا تھا جہاں آج تک ہوتا ہے۔ اس طرح اس بڑے اور کشادہ راستے پر اس تاریخی عظیم الشان جلوس کی شان ہی کچھ اور ہوتی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ [[1958ء]] میں جب وہ اس وقت کے [[مغربی پاکستان]] کے [[وزیر اعلی|چیف منسٹر]] مقرر ہوئے تو [[حکومت]] کے ارباب بست و کشاد نے انہیں اس راستے کو تبدیل کرنے کو کہا۔ [[سیاست]] اور سیاست دانوں کی اپنی [[دنیا]] اور اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ [[نواب]] [[مظفر علی خان قزلباش]] نے اپنی [[وزیر اعلی|چیف منسٹری]] کے زمانے میں اس راستے کو تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی اور آج یہ تاریخی جلوس اندر ہی اندر تنگ و تاریک گلیوں اور بازاروں سے ہوتا ہوا کربلائے گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوتا ہے اور باہر [[دنیا]] کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کتنا بڑا اور کیسا تاریخی جلوس ہے۔
 
[[پاکستان]] کے قیام کے بعد [[خاندان]] نواباں کے [[نواب]] [[مظفر علی خان قزلباش|مظفر علی خان]] واحد [[آدمی]] تھے جو [[سیاست]] میں آنے کے باعث معروف ہوئے اور انکے بعد انکی بیٹی افسر رضا قزلباش، [[نواب]] [[مظفر علی خان قزلباش|مظفر علی]] [[سیاستدان]] کے طور پر پہلے [[یونینسٹ پارٹی (پنجاب)|یونینسٹ]]، پھر [[پاکستان مسلم لیگ|مسلم لیگی]] اور پھر [[ریپبلکن پارٹی (پاکستان)|ریپبلکن پارٹی]] میں رہے اور اسی پارٹی کے جھنڈے تلے [[1957ء]] میں [[وزیراعظم]] [[ابراہیم اسماعیل چندریگ|اسماعیل چندریگر]] کی [[کابینہ]] میں [[وزارت صنعت و پیداوار (پاکستان)|وزیر صنعت]] رہے۔ اسی سن میں [[وزیراعظم]] [[ملک فیروز خان نون|فیروز خان نون]] کی [[حکومت]] میں [[صنعت]]، [[تجارت]] اور [[وزارت پارلیمانی امور (پاکستان)|پارلیمانی امور]] کے [[وزیر]] رہے اور [[18 مارچ]] [[1958ء]] میں [[مغربی پاکستان]] کے [[وزیر اعلى|چیف منسٹر]] مقرر ہوئے اور [[اسکندر مرزا|سکندر مرزا]] کے [[فوجی قانون|مارشل لاء]] تک اس عہدے پر تھے۔ پھر [[ایوب خان]] کی [[حکومت]] کے خاتمے کے بعد [[منصب جامع|جنرل]] [[یحییٰ خان|یحییٰ]] کے [[فوجی قانون|مارشل لاء]] میں [[نواب]] [[مظفر علی خان قزلباش|مظفر علی خان]] [[4اگست]] [[1969ء]] سے [[22 فروری]] [[1971ء]] تک [[وزیر خزانہ پاکستان|وزیر خزانہ]] رہے۔<ref>https://www.islamtimes.org/ur/article/318925/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE%DB%8C-%D8%B9%D8%B2%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%D8%AF%D9%88%D8%A6%D9%85</ref>.<ref>اسلام ٹائمز، تحریر: سید [[صفدر ہمدانی]]، ترتیب و اضافہ: سردار تنویر حیدر</ref>
 
==حوالہ جات==
903

ترامیم