"لاہور کی عزاداری" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
[[پاکستان]] کے قیام کے بعد [[خاندان]] نواباں کے [[نواب]] [[مظفر علی خان قزلباش|مظفر علی خان]] واحد [[آدمی]] تھے جو [[سیاست]] میں آنے کے باعث معروف ہوئے اور انکے بعد انکی بیٹی افسر رضا قزلباش، [[نواب]] [[مظفر علی خان قزلباش|مظفر علی]] [[سیاستدان]] کے طور پر پہلے [[یونینسٹ پارٹی (پنجاب)|یونینسٹ]]، پھر [[پاکستان مسلم لیگ|مسلم لیگی]] اور پھر [[ریپبلکن پارٹی (پاکستان)|ریپبلکن پارٹی]] میں رہے اور اسی پارٹی کے جھنڈے تلے [[1957ء]] میں [[وزیراعظم]] [[ابراہیم اسماعیل چندریگ|اسماعیل چندریگر]] کی [[کابینہ]] میں [[وزارت صنعت و پیداوار (پاکستان)|وزیر صنعت]] رہے۔ اسی سن میں [[وزیراعظم]] [[ملک فیروز خان نون|فیروز خان نون]] کی [[حکومت]] میں [[صنعت]]، [[تجارت]] اور [[وزارت پارلیمانی امور (پاکستان)|پارلیمانی امور]] کے [[وزیر]] رہے اور [[18 مارچ]] [[1958ء]] میں [[مغربی پاکستان]] کے [[وزیر اعلى|چیف منسٹر]] مقرر ہوئے اور [[اسکندر مرزا|سکندر مرزا]] کے [[فوجی قانون|مارشل لاء]] تک اس عہدے پر تھے۔ پھر [[ایوب خان]] کی [[حکومت]] کے خاتمے کے بعد [[منصب جامع|جنرل]] [[یحییٰ خان|یحییٰ]] کے [[فوجی قانون|مارشل لاء]] میں [[نواب]] [[مظفر علی خان قزلباش|مظفر علی خان]] [[4اگست]] [[1969ء]] سے [[22 فروری]] [[1971ء]] تک [[وزیر خزانہ پاکستان|وزیر خزانہ]] رہے۔<ref>https://www.islamtimes.org/ur/article/318925/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE%DB%8C-%D8%B9%D8%B2%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%D8%AF%D9%88%D8%A6%D9%85</ref>.<ref>اسلام ٹائمز، تحریر: سید [[صفدر ہمدانی]]، ترتیب و اضافہ: سردار تنویر حیدر</ref>
 
[[1958ء]] کے بعد سے اب تک اس جلوس کا راستہ یہ ہے کہ نثار حویلی سے نکلنے کے بعد محلہ چہل بیبیاں سے ہوتا ہوا محلہ شیعاں کی [[مسجد]] میں پہنچتا ہے جہاں [[اذان]] اور [[نماز]] [[فجر]] کے بعد [[زنجیر زنی]] ہوتی ہے۔ یہاں سے یہ جلوس چوہٹہ [[مفتی محمد باقر لاہوری|مفتی باقر]]، [[وزیر خان چوک|چوک]] [[مسجد وزیر خان|مسجد وزیر خان]]، [[کشمیری دروازہ|کشمیری بازار]]، ڈبی بازار، چوک [[رنگ محل]]، گمٹی بازار، [[پانی]] والا [[تالاب]]، تحصیل بازار اور بازار حکیماں سے ہوتا ہوا گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوتا ہے۔ بازار حکیماں وہی جگہ ہے جہاں [[1933ء]] اور [[1935ء]] کے درمیان سر [[مراتب علی شاہ]] نے امام باڑہ سیدہ مبارک بیگم تعمیر کروایا جہاں [[لاہور]] کی قدیمی اور معروف مجالس منعقد ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ تا دم تحریر جاری ہے۔ اسی علاقے میں [[کوچہ]] [[فقیر خانہ|فقیر خانے]] میں امام باڑہ فقیر سید حسن الدین بھی معروف ہے۔ شہر کے اندر ہی اندر اس جلوس کے نکلنے کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ 3 یا 4 بار بہت شدید [[شیعہ]] [[سنی]] فسادات اسی جلوس کے موقع پر اندرون شہر میں ہوئے۔ [[1963ء]] میں [[بھاٹی دروازہ|بھاٹی دروازے]] کی [[اونچی مسجد]] سے [[ذوالجناح]] پر اینٹوں کی [[بارش]] کی گئی جس سے کئی ہلاکتیں بھی ہوئیں اور [[لاہور]] [[شہر]] کی فضا کافی عرصے تک خراب رہی۔
 
ایک [[زمانہ]] تھا جب [[لاہور]] میں واحد [[ذوالجناح]] [[نواب|نوابین]] کا تھا لیکن پھر الف شاہیوں اور آغا شاہ زمان نے بھی [[ذوالجناح]] رکھنے شروع کئے اور [[2008ء]] میں [[لاہور]] میں [[60 (عدد)|60]] سے زیادہ [[ذوالجناح]] تھے اور [[شہر]] میں [[7 محرم]] کو [[7 (عدد)|7]] [[ذوالجناح]] نکلنے کی [[روایت]] بدستور قائم ہے۔ [[لاہور]] [[شہر]] کے طول و عرض میں [[1000 (عدد)|1000]] سے زیادہ مقامات پر مجالس [[امام حسین]] کا سلسلہ [[محرم (مہینہ)|محرم]] کی پہلی [[رات|شب]] سے شروع ہو کر [[اربعین|چہلم امام]] تک جاری رہتا ہے اور اسی طرح [[لاہور]] میں کربلا گامے شاہ بھی [[محرم (مہینہ)|محرم]] کی مجالس کا ایک مرکزی [[نکتہ]] ہے۔ [[موچی دروازہ]] میں مبارک اور نثار حویلی اور وسن پورہ کی [[مسجد]] علامہ حائری کے علاوہ ہزاروں عزاء خانوں میں سے چند نام اس طرح ہیں۔ رباط حیدریہ [[موچی دروازہ]]، حسینہ حال جس کا پرانا نام امام باڑہ تکیہ نتھے شاہ تھا، امام باڑہ ارسطو جاہ رجب، امام باڑہ سید واجد شاہ، امام باڑہ کشمیریاں، امام باڑہ شیر گڑھیاں، امام باڑہ غلام علی اور ڈپٹی غلام حسن، امام باڑہ رضا شاہ صفوی، امام باڑہ ایوب شاہ، امام باڑہ لال حویلی، امام باڑہ خواجگان نارووالی، امام باڑہ جعفر علی میر، امام باڑہ قصر سکندر، امام باڑہ غریب نینوا، امام باڑہ امیر پہلوان اور اکبر شاہ، امام باڑہ سیدے شاہ اور خواجہ علی محمد، امام باڑہ بازار حکیماں اور تکیہ میراثیاں، امام باڑہ مائی عیداں، حسین منزل، [[مبارک بیگم]]، کاشانہ رضویہ، گامے شاہ، ایرانیاں، حسینیہ پاک نگر، مرزا نتھا، [[ڈاکٹر]] ریاض علی شاہ (جہاں [[لاہور]] میں [[صبح]] کی سب سے پہلی [[مجلس]] ہوتی ہے) امام باڑہ علی مسجد، قصر حسن، مسجد نور، رشی بھون، شیخ سعادت علی، [[سید]] [[اظہر حسن زیدی]]، عطیہ اہلبیت، دربار حسینی، بھوگیوال، ریلوے بیرکس، [[بی بی پاکدامن|بی بی پاک دامناں]]، قصر زہرہ، آغا شاہ زمان، امام باڑہ مظفر علی شمسی، [[حافظ]] [[کفایت حسین]]، [[کرنل]] فدا حسین، سجادیہ، خواجہ ذوالفقار علی، امامیہ ہال، خیمہ سادات، بیت السادات، باغ گل بیگم، قصر بتول، [[سید]] [[شوکت حسین رضوی]]، سادات منزل، گلستان زہرا، خانہ زینبیہ، نجف منزل، شاہ نجف گلبرگ، [[اسد بخاری]]، میڈم [[نور جہاں (گلوکارہ)|نور جہان]]، مراتب علی شاہ، علی رضا آباد، کلسی ہاؤس، زیدی ہاؤس، پانڈو اسٹریٹ، بلاک سیداں، بلتستانیہ، [[جامعۃ المنتظر]]، سیٹھ [[نوازش علی]]، کوٹھے پنڈ، مرزا محمد عباس، مومن پورہ، [[باٹاپور]]، [[سید]] [[حسن عباس زیدی]]، [[وجاہت عطرے]]، [[عالم شاہ]]، سیدن شاہ، جیا موسٰی، کٹرہ ولی شاہ، الف شاہ [[دہلی دروازہ|دلی دروازہ]]، سوڈیوال، شاہ خراسان، محلہ داراشکوہ، حویلی میاں خان، لال پُل مغلپورہ اور کاشانہ شیخ دولت علی۔
 
[[لاہور]] میں [[اردو]] مجالس کے علاوہ [[فارسی زبان|فارسی]]، [[عربی زبان|عربی]]، [[پنجابی زبان|پنجابی]] اور [[کشمیری زبان|کشمیری]] مجالس کا بھی رواج رہا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ختم ہو چکا ہے یا پھر شاید کسی ایک جگہ پر جاری ہو۔ کشمیری مجالس کا رواج تو ابھی ستر کے عشرے کے آواخر تک خوب تھا اور [[کشمیری زبان|کشمیری]] ذاکرین میں موسیٰ شاہ اور احمد علی کو بہت مقبولیت تھی۔ اسی طرح [[لاہور]] میں جن [[علماء]] نے اپنے [[علم]] و فضل کے چراغ روشن کئے ان میں مہدی خطائی، ملا ابراہیم، ملا معصوم، ملا فقیر اللہ، عماد الدین، راجو بن حامد، ابوالقاسم حائری، سید علی الحائری، شیخ عبدالعلی ہروی تہرانی، آغائے بارھوی، ارسطو جاہ سبزواری، شمس العلماء سید سردار حسن، علامہ ابن حسن نو نہروی، علامہ ہندی، سید کلب حسین، ضمیر الحسن نجفی، حافظ [[کفایت حسین]] اور [[لکھنؤ]] کے علامہ [[سید علی نقی نقوی نجفی|نقی عرف نقن]] میاں، حافظ ذوالفقار علی، مولانا [[اظہر حسن زیدی]]، فاتح ٹیکسلا مولانا بشیر، ابن حسن نجفی، مرزا یوسف حسین اور ضامن حسین، مولانا ظفر مہدی، حافظ سیف اللہ، [[اسماعیل دیوبندی]]، مرتضیٰ حسین فاضل، نصیر الاجتہادی، [[مفتی جعفر حسین]]، مولانا اختر عباس، علامہ طیب الجزائری، مولانا اکبر عباس اور افسر عباس، سید محمد جعفر زیدی، محبوب ہمدانی اور سید ظفر حسین کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اسی فہرست میں ایک نام غلام الحسنین ‘‘پنڈت نیک رام‘‘ کا ہے جنہیں سننے کی سعادت ہمیں بھی نصیب ہوئی۔ عشق شبیر کی لو کب اور کہاں بھڑک اٹھے کچھ علم نہیں ۔ اسی کا اعجاز پنڈت نیک رام تھے جو [[ہندو]] سے [[شیعہ]] ہوئے تھے اور پھر انہوں نے اپنی ساری زندگی فضائل و مصائب آل محمد بیان کرنے میں گزار دی۔
 
اسی طرح سے لاہور میں، ذاکرین، مرثیہ نگاروں، شعرائے اہلبیت، سلام ،سوز اور نوحہ خوانوں کی بھی ایک نہایت طویل فہرست ہے جن میں سے چند نام یہ ہیں۔ منظور حسین برا، ریاض حسین موچھ، سائیں اختر حسین، حامد علی بیلا، بشیر علی ماہی، رجب علی، سید ناصر جہان، نذر حسین، پرویز مہدی، میر ناظم حیسن ناظم، شکور بیدل، اداکار محمد علی، منظور جھلا، سید نازش رضوی، آفتاب حسین لکھنوی، فیروز علی کربلائی، مشیر کاظمی، فیروز علی کربلائی، ظہور حیدر جارچوی، کاظمی برادران، سہیل بنارسی، سید جرار حسین، سید محسن علی، امانت علی، فتح علی، پیارے خان، حسین بخش گلو، چھوٹے غلام علی، شوکت علی، غلام علی، ڈاکٹر صفدر حسین، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، حکیم احمد شجاع، قیصر بارھوی، وحید الحسن ہاشمی، پروفیسر مسعود رضا خاکی، میر ناظم حسین ناظم، سیف زلفی، ظفر شارب، جعفر طاہر، جوش ملیح آبادی اور ایسے ہی کتنے ناموں کو بھلایا نہیں جا سکتا۔
 
مرثیہ تحت اللفظ کے بعد اب جیسے علماء اور جید خطبا کا عہد ختم ہو چکا ہے اور مجالس پڑھنے والوں میں کمرشل ازم کے رواج نے علمی اور فکری مجالس کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب محرم کی مجالس میں مقبول ذاکروں، نوحہ خوانوں کی آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں اور سی ڈیز بڑی تعداد میں رواج پا گئی ہیں اور پہلی محرم سے کیبل آپریٹرز نے چند چینلوں کو دن رات کے لیے مسلسل مجالس اور نوحہ خوانی کے پروگراموں کے لیے مخصوص کر دیا ہے جو محرم کی تقریبات میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اسی طرح ٹی وی چینل اور ایف ایم ریڈیو کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر بھی ریکارڈ شدہ مجالس کے ساتھ ساتھ براہ راست یعنی لائیو مجالس کا نشر کرنا بھی رواج پا گیا ہے۔ محرم کی مجالس کا بنیادی پہلو تو مذہبی ہے لیکن اس سے انکار نہیں کہ لاہور شہر کی تہذیبی روایات بھی اس میں گہری پیوست ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر ہونے والی نذر نیاز اور لاکھوں لوگوں کے شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کےلیے ٹرانسپورٹ کے استعمال سے کاروبار کو جو فروغ ملتا ہے وہ اس کا ضمنی پہلو تو ہے لیکن کم اہم نہیں۔<ref>https://www.islamtimes.org/ur/article/318927/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE%DB%8C-%D8%B9%D8%B2%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%D8%B3%D9%88%D8%A6%D9%85</ref>.<ref>اسلام ٹائمز، تحریر: سید [[صفدر ہمدانی]]، ترتیب و اضافہ: سردار تنویر حیدر</ref>
==حوالہ جات==
{{حوالہ جات|}}
903

ترامیم