"لاہور کی عزاداری" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  1 سال پہلے
[[لاہور]] کا دوسرا بڑا تاریخی مرکز وسن پورہ میں ہے جہاں [[عزاداری]] کی بنیاد مولانا سید علی الحائری کے والد شمس العلماء مولانا ابوالقاسم نے ڈالی تھی اور انہیں کے گھر میں بعد ازاں پہلا جامعہ المنتظر کھلا تھا جو بعد میں [[ماڈل ٹاؤن، لاہور|ماڈل ٹاؤن]] منتقل ہو گیا۔ کیسے کیسے نابغہ روزگار [[علماء]] اور ذاکرین تھے جو کسی مفاد اور تمنا کے بغیر ذکر امام کرتے تھے۔ خطابت اور ذاکری میں کمرشل ازم نہیں آیا تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ [[شیعہ]] [[سنی|سُنی]] کا کوئی فرق معلوم نہیں تھا۔ سب [[مسلمان]] کیا بلکہ غیر مسلم بھی [[کربلا]] والوں کا غم مل کر منایا کرتے تھے۔ جب علامہ حائری مجلس پڑھتے [[علامہ اقبال]] سننے آتے۔ پرانے [[دریائے راوی]] کے کنارے سے کچھ دور آباد ہونے والی اس بستی میں [[لاہور]] کی [[اہل تشیع]] کی پہلی جامعہ مسجد علامہ سید علی الحائری کے والد شمس العلماء مولانا ابوالقاسم نے تعمیر کروائی تھی۔ علامہ سید علی الحائری کا خاندان عشروں تک یہاں رہا ہے۔ [[مصطفی علی ہمدانی|مصطفیٰ ہمدانی]] کے فرزند [[صفدر ہمدانی]] کہتے ہیں کہ وسن پورہ میں ہمارے [[گھر]] کا دروازہ اور مسجد علامہ حائری کا دروازہ بالکل آمنے سامنے تھے اور اسکے میناروں سے 5 وقت [[اذان]] کی آواز دور دور تک مسلمانوں کو حیی علی الفلاح اور حیی علی الصلٰوۃ کی دعوت دیتی تھی۔ یہ کوئی صدیوں پہلے کی بات نہیں بلکہ چند عشروں پہلے کی بات ہے جب ہم ابھی بچے تھے اور نوجوانی کی طرف قدم بڑھا رہے تھے کہ وسن پورہ سمیت [[لاہور]] کے کتنے ہی ایسے علاقے تھے جہاں [[عزاداری]] فروغ پا رہی تھی اور ان تمام علاقوں میں [[سنی|سُنی]] اور [[شیعہ]] کا کوئی فرق نہیں تھا۔ سب [[مسلمان]] [[شیعہ]] [[سنی|سُنی]] مل کر [[حسین بن علی|نواسہ رسول]] کا غم مناتے تھے۔
 
علامہ حافظ [[کفایت حسین]] قبلہ کی مجالس میں بعض اوقات [[اہل تشیع]] سے زیادہ تعداد [[اہل سنت]] کی ہوتی تھی۔ اور کیوں نہ ہوتی؟ شاعر انقلاب حضرت [[جوش ملیح آبادی]] نے تو یہ سچی بات یہاں تک کہی تھی کہ ‘‘ کیا صرف مسلمانوں کے پیارے ہیں حسین‘‘۔ ہم اس بات میں کیوں اچنبھا محسوس کرتے ہیں کہ [[کربلا]] والوں کی یاد میں ہونے والی مجالس میں [[اہل سنت]] بھی شرکت کیا کرتے تھے۔ [[صفدر ہمدانی]] کہتے ہیں کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ ہمارے محلے میں ایک [[مسیحی]] خاندان رہا کرتا تھا جس کے سربراہ مرحوم ماسٹر رلیا رام تھے اور پھر انکے بیٹے آر سی سوڈھی پورے محلے میں ایک [[استاد]] کے طور پر بڑی عزت سے دیکھے جاتے تھے اور انہی سوڈھی مرحوم کا بھائی ‘‘جان کرسٹوفر‘‘ جو بعد میں [[میجر]] ہو کر [[پاک فوج]] سے [[ریٹائرڈ]] ہوا اور آج کل [[برطانیہ]] میں [[نوٹنگھمناٹنگھم]] کے علاقے میں مقیم ہے وہ جان کرسٹوفر بھی، ہم سب [[شیعہ]] [[سنی]] افراد کے ساتھ مجالس میں شریک ہوتا تھا اور کبھی کبھی [[اہل تشیع]] دوستوں کے ساتھ [[ماتم]] بھی کیا کرتا تھا۔ یہی نہیں جان کرسٹوفر [[رمضان]] میں ہمارے ساتھ مل کر [[روزہ]] بھی رکھتا تھا۔
 
یہ تو صرف ایک مثال ہے جس کا گواہ میں خود ہوں اس کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسی مثالیں موجود ہوں گی جہاں مختلف مسالک کے لوگ نہیں بلکہ سب [[مسلمان]] مل کر نواسہ رسول کی قربانی کی یاد مناتے ہوں گے۔ یہ ساری تباہی اور بربادی [[محمد ضیاء الحق|جنرل ضیاءالحق]] کے زمانے میں پروان چڑھی، جس نے اپنی [[حکومت]] بچانے کے لئے مسالک کے درمیان نفرتوں کو فروغ دیا اور پھر یہ نفرتیں اس قدر بڑھیں کہ [[صحابہ]] اور آلِ محمد کی تعلیمات کے برعکس [[سپاہ صحابہ]] بنی جنہوں نے [[اسلام]] کی وہ خدمت کی کہ غیر مسلم کہنے لگے کہ مسلمانوں کے خلاف رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہی نہیں وہ خود ہی اپنے آپ لڑ لڑ کے مر جائیں گے۔ یہ ساری تفرقہ بازی کس نام پر ہوئی؟ اسلام کے نام پر کہ جس کا خمیر ہی امن و سلامتی سے اٹھا ہے۔<ref>https://www.islamtimes.org/ur/article/318912/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE%DB%8C-%D8%B9%D8%B2%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%D8%A7%D9%88%D9%84</ref>۔<ref>اسلام ٹائمز، تحریر: سید [[صفدر ہمدانی]]، ترتیب و اضافہ: سردار تنویر حیدر</ref>. <ref>https://www.aalmiakhbar.com/archive/index.php?mod=article&cat=specialreport&article=2800</ref>
903

ترامیم