"مہر" کے نسخوں کے درمیان فرق

208 بائٹ کا اضافہ ،  2 سال پہلے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
حق مہر ادا نہ کرنے کی نیت سے نکاح کرنے پرحدیث میں سخت وعید ہے کہ اَیسے مرد و عورت قیامت کے روز زانی و زانیہ اُٹھیں گے <ref>کنز العمال،کتاب النکاح،الفصل الثالث فی الصداق</ref>
حضرت [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد ﷺ]]کی ازواج اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر 500 درہم یا 131 تولے 4 ماشے چاندی یا 1550 گرام چاندی کے برابر مقرر ہوا تھا۔ اسی کو مہر فاطمہ بھی کہا جاتا ہے۔ [[فقہ حنفی]] کے مطابق ان کے ہاں مہر کی مقدار کم از کم 10 درہم ہے۔
== مہر کے نام ==
اس کے آتھ نام ہیں چار قرآن اور چار حدیث میں ہیں
 
* صداق
* نحلہ
* اجر
* فریضہ
* مہر
* علیقہ
* العقر
* الحباء
== مہر کی اقسام ==
مہر کی دو اقسام ہیں ’’مہر معجّل‘‘ اور ’’مہر مؤجل‘‘۔ ’’مہر مؤجل‘‘ اس کو کہتے ہیں جس کی ادائیگی کے لئے کوئی خاص میعاد مقرر کی گئی ہو اور جس کی ادائیگی فوراً یا عورت کے مطالبہ پر واجب ہو وہ ’’مہر معجّل‘‘ ہے۔ مہر معجّل کا مطالبہ عورت جب چاہے کر سکتی ہے، لیکن مہر مؤجل کا مطالبہ مقررہ میعاد سے پہلے کرنے کی مجاز نہیں۔ مہر کی ادائیگی کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بلا کم و کاست زوجہ کو ادا کر دیا جائے۔ ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں عورت کا مہر شوہر کے ذمہ قرض ہے، خواہ شادی کو کتنے ہی سال ہو گئے ہوں وہ واجب الادا رہتا ہے اور اگر شوہر کا انتقال ہو جائے اور اس نے مہر ادا نہ کیا ہو تو اس کے ترکہ میں سے پہلے مہر ادا کیا جائے گا پھر ترکہ تقسیم ہوگا۔