"عبد اللہ بن مسلم بن عقیل" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: درستی املا ← اور، ہو گیا، عبد اللہ، لیے؛ تزئینی تبدیلیاں
م (خودکار: درستی املا ← اور، ہو گیا، عبد اللہ، لیے؛ تزئینی تبدیلیاں)
 
{{صندوق معلومات شخص}}
'''عبد اللہ بن مسلم بن عقیل''' [[واقعہ کربلا|کربلا]] میں شہید ہونے والوں میں سے ایک تھے۔ ان کے والد [[مسلم ابن عقیل]] [[علی بن ابی طالب]] کے بھائی عقیل ابن ابوطالب کے بیٹے تھے یعنی [[حسین ابن علی]] کے چچا زاد بھائی تھے۔
 
کربلا کی جنگ میں شہید ہونے والوں میں سے ایک عبد اللہ بن مسلم بن عقیل اے ، ایک تیر ان کے ماتھے پر لگا جس سے ان کا ہاتھ ماتھے سے پیوست ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب انہیں شہید کیا گیا تو ان کی عمر چودہ سال تھی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ عاشورہ کے دن [[محمد|نبی اکرم (ص)]] کے اہل خانہ سے شہید ہونے والے پہلے شخص تھے <ref>[http://www.aqaed.info/ahlulbait/books/mws-ashwra/indexs.html عبداللہعبد اللہ بن مسلم بن عقيل] موسوعة عاشوراء</ref>
 
== نسب ==
والدہ: رقية بنت [[علي بن أبي طالب]]، و
 
أمها الصهباء: أم حبيب بنت عباد بن ربيعة بن يحيى العبد بن علقمة التغلبية. جو کہا جاتا ہے: [[علي بن أبي طالب]] نے اليمامہ کی فتح یا عين التمر کی فتح کے وقت خریدی تھی.<ref>السماوي، إبصار العين في أنصار الحسين (ع)، ص...</ref>
کہا جاتا ہے کہ [[يوم عاشوراء]] سنة 61ھ وقت شہادت آپ کی عمر 26 سال تھی،<ref>محمدي الري شهري، موسوعة الإمام الحسين (ع)، ص160 -161.</ref>
 
ان کے والد مسلم بن عقیل کی عمر کی بنیاد پر ، جن کی عمر وقت شہادت 28 سال بتائی جاتی ہے ، یہ بیان درست نہیں لگتا .<ref>شهيدي، بعد خمسين سنة دراسة حول قيام الإمام الحسين (ع)، ص122.</ref> اس مضمون کی نظرثانی میں ذکر کیا گیا تھا کہ عمر عبداللہعبد اللہ بن مسلم 14 سال کی عمر میں شہید ہوئے،ہوئے اور اس کا امکان نہیں ہے۔
 
ایسے مورخین ہیں جنہوں نے [[مسلم بن عقیل]] کے بیٹوں اور بیٹیوں کے بارے میں بات کی ، تاہم ان کی زندگی اور اس کی عمر اور شہادت کے بارے میں بہت سارے اختلافات پائے جاتے ہیں<ref>أبو الفرج الأصفهاني، مقاتل الطالبيين، ص52.</ref>
== كربلاء میں ==
 
[[احمد بن اعثم|ابن أعثم الكوفي]] ،نیز الخوارزمی نے دیکھا کہ دشمنوں سے لڑنے کے لئےلیے الطالبيين (آل ابو طالب) سے سب سے پہلے نکلنے والا عبداللّہ بن مسلم تھا۔<ref name="مع الركب الحسيني، ج4، ص 367">مع الركب الحسيني، ج4، ص 367.</ref>
 
[[ابن شہرآشوب |ابن شهر آشوب]] نے لکھا ہے: «عبدللہ بن مسلم نے تین حملوں میں اٹھانوے دشمن کے سپاہیوں کو قتل کیا ، اور پھر عمرو بن صبیح الصيداوي اور اسد بن مالک نے آپکو شہید کیا۔»۔<ref name="مع الركب الحسيني، ج4، ص 367" />
 
[[بلازری|البلاذري]] کہتا ہے: «عمرو بن صبيح الصيداوي نے عبداللّہ بن مسلم بن عقیل تیر مار کر کو گھوڑے سے نیچے گرایا،گرایا اور لوگوں کو آپ کے قتل کے لئےلیے کہا،کہا اور کہا کہ میں نے آل الحسين کے ایک بچے کو تیر مار کر گرایا اور تیر ماتھے پر لگا اور اس تیر سے اس کا ہاتھ اس کے ماتھے کے ساتھ پیوت ہوگیاہو گیا»۔<ref name="مولد تلقائيا1">مع الركب الحسيني، ج4، ص 368.</ref>
 
السماوي کہتا ہے: آپ عليّ بن الحسين کے بعد شہید ہوئے، ایسا ہی [[أبو مخنف]] اور المدايني کہتا ہے اور أبوالفرج اس کے برعکس کہتا ہے»۔<ref name="مولد تلقائيا1" />
 
طبری اپنی تاریخ میں حميد بن مسلم الأزدي سے نقل کرتا ہے، ایسے ہی [[شیخ مفیدد]] [[الإرشاد في معرفة حجج اللہ على العباد|الإرشاد]] میں لکھتے ہیں:
 
"رمى عمرو عبد اللہ بسهم وهو مقبل عليہ، فأراد جبهتہ فوضع عبد اللہ يدہ على جبهتہ يتقى بها السهم فسمر السهم يدہ على جبهتہ فأراد تحريكها فلم يستطع ثم انتحى لہ بسهم آخر ففلق قلبہ فوقع صريعاً"
 
عمرو نے عبداللہعبد اللہ پر تیر چلایا جو اس کی پیشانی پر لگا تیر سے بچنے کے لئےلیے اس نے ہاتھ پیشانی پر رکھا تو تیر کیل کی طرح ہاتھ سے ہوتا ہوا پیشانی میں پیوست ہو گیا اس کے دوسرا تیر آپ کو لگا اور آپ گر گئے ۔<ref>إبصار العين للسماوي نقلاً عن تاريخ الطبري، ج4، ص341؛ المفيد، الإرشاد، جلد2، ص107.</ref>
 
== رجز ==
[[شیخ صدوق]], [[علی بن حسین|امام زین العابدین]] کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسلم هلال بن الحجاج کے بعد ميدان میں آئے،آئے اور یہ رجز پڑھا:
 
{{بداية قصيدة}}
<ref>محمدي الري شهري، موسوعة الإمام الحسين (ع) ص162 – 163، نقلاً عن الصدوق، الأمالي، ص225؛ روضة الواعظين، ص207.</ref>
 
کہا گیا کہ جب عبداللہعبد اللہ بن مسلم میدان میں آئے تو یہ پڑھ رہے تھے:
 
{{بداية قصيدة}}
{{بيت|لَيسَ كقَوْمٍ عُرِفُوا بالْكذِبِ |لكنْ خِيارٌ وَ كرامُ النْسَبِ}}
{{بيت|من هاشم السادات أهل الحسبِ |}}
{{نهاية قصيدة}} <ref>مع الركب الحسيني نقلاً عن الخوارزمي، ص367.</ref>
 
== مزید دیکھیے ==
[[زمرہ:61ھ کی وفیات]]
[[زمرہ:اصحاب امام حسین]]
 
[[زمرہ:مقتولین کربلا]]
111,622

ترامیم