"کفر" کے نسخوں کے درمیان فرق

11,684 بائٹ کا اضافہ ،  1 سال پہلے
م (خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7))
 
ان جیسی اور بہت سی آیات میں کفر ایمان کا مقابل ہے جس کے معنی ہیں بے ایمان ہوجانا، اسلام سے نکل جانا۔ اس کفر میں ایمان کے مقابل تمام چیزیں معتبر ہوں گی یعنی جن چیزوں کا ماننا ایمان تھا ان میں سے کسی کا بھی انکار کرنا کفر ہے۔ لہٰذا کفر کی صدہا قسمیں ہوں گی۔ خدا کا انکار کفر، اس کی تو حید کا انکا ر یعنی شرک یہ بھی کفر، اسی طر ح فرشتے،دوزخ وجنت، حشر نشر، نماز، روزہ،قرآن کی آیتیں،غرض کہ ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے۔ اسی لیے قرآن شریف میں مختلف قسم کے کافروں کی تردید فرمائی گئی ہے جیسا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ شرک کی بحث میں آوے گا۔
 
== قران و حدیث ==
کفر قرآن و حدیث میں کئ معنوں میں استعمال ھوا ھے ، اور اس کے معنے کو اس کی ضد کے سامنے رکھ کر ھی متعین کیا جاتا ھے ،
مثلاً،،
کفر بمقابلہ شکر ،
کفر کا معنی دبانا ھوتا ھے ، دبانے والے کو کفار کہا جاتا ھے اور قرآن حکیم نے کسان کو کفار کہا ھے جو دانے یا بیج کو زمین میں دباتا یا چھپاتا ھے ،،
شکر وہ جذبہ ھے جو انسان کے اندر خود بخود پھٹتا ھے امڈتا ھے جس طرح مشقت سے پسینہ پھوٹتا ھے یا تکلیف سے آنسو پھوٹتے ھیں ، اسی طرح جب کوئی کسی انسان کے ساتھ بھلائی کرتا ھے تو اس شخص کے اندر بھلائی کرنے والے کے بارے میں جو اچھے جذبات پیدا ھوتے ھیں ان کو شکر کے جذبات کہتے ھیں ،جن کو الفاظ کا روپ ھر بندہ اپنی استعداد کے مطابق دیتا ھے، عربی میں اس چشمے کو جس کو انسان نے خود کوشش کر کے نہ کھودا ھو ، اور جسے ھمارے علاقے میں ” چوآ ” کہا جاتا ھے یعنی چوآ سیدن شاہ ،، عربی میں اس کو” عیناً شکرا” کہا جاتا ھے ، وہ چشمہ جو خود بخود پھوٹ نکلا ،، اس چشمے کو دبانے والے چھپا لینے والے کو کافر اور اس کے فعل کو کفر کہا جاتا ھے ،،
1- وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (ابراھیم-7)
اور یاد کرو وہ وقت جب تمہارے رب نے یہ اعلان کیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں یقیناً تمہیں زیادہ دونگا ، اور اگر تم نے ناشکری کی ( کفر کیا ) تو میری گرفت بھی یقیناً بڑی شدید ھو گی ،، یہاں کفر سے مراد ناشکری ھے ،،
2- إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ( الزمر-7)
اگر تم ناشکری کرو گے تو بے شک اللہ تم سے غنی ھے ( تمہاری ناشکری سے اللہ کا کوئی نقصان نہیں ھوتا ) اگرچہ وہ بندوں سے ناشکری کو پسند نہیں کرتا ، اور اگر تم شکر کرو تو اللہ تمہاری اس روش سے راضی ھوتا ھے ،،
یہاں بھی کفر سے مراد ناشکری ھے کیونکہ اس کو شکر کے بالمقابل لایا گیا ھے ،،
3- وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ ۚ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ( لقمان -12)
اور تحقیق ھم نے لقمان کو حکمت عطا کی کہ اللہ کا شکر کرو، اور جو اللہ کا شکر کرتا ھے وہ اپنے ھی بھلے کے لئے کرتا ھے اور جو کفر( ناشکری) کرتا ھے تو بے شک اللہ بےپرواہ اور ستودہ صفات ھے
4- وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ (النمل-40)
اور جس نے شکر کیا اس نے شکر کیا اپنی ذات کے نفع کے لئے اور جس نے کفرکیا ( ناشکری کی) تو بے شک میرا رب بے پرواہ بڑا کرم کرنے والا ھے
5- قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ (18) وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِي فَعَلْتَ وَأَنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ (الشعراء- 19)
فرعون نے کہا کہ کیا ھم نے تمہیں چھوٹے بچے کی حیثیت سے گھر میں نہیں پالا تھا ؟ پھر تو نے وہ کارنامہ کیا جو تُو نے کیا اور تو ناشکروں ( کافروں ) میں سے تھا ،،
یہاں کفر بمعنی ناشکری استعمال ھوا ھے ،،
6- اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ( الحدید-20)
جان لو کہ در اصل دنیا کی زندگی کھیل تماشہ ھے اور زیب وزینت اور آپس میں تفاخر اور مال و اولاد کی کثرت کی جستجو ھے جیسے مثال بارش کی کہ اس کے نتیجے میں اگنے والی روئیدگی ” کسانوں ” کو بہت خوش کن لگتی ھے ، پھر وہ کھیتی پک جاتی ھے چنانچہ تو اس کو دیکھتا ھے زرد رنگ کی پھر گاہ کر بھس بنا لی جاتی ( کھیتی کا انجام تو یہیں پر ھو گیا جبکہ ) انسان کوآخرت میں شدید عذاب یا اللہ کی جانب سے مغفرت و رضا کا معاملہ درپیش ھے ، اور دنیا کہ زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں ،،
اس میں کسان کوکافر کہا گیا ھے اس کے بیج دبانے کے فعل کی نسبت سے ،، اور یہ شکر کے متضاد استعمال ھوا ھے ،،
7- وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۚ وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ ۚ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا ( الکہف- 29)
اور کہہ دیجئے کہ تمہارے رب کی طرف سے حق پیش کر دیا گیا ھے سو جو چاھے وہ ایمان لے آئے لے اور جو چاھے وہ کفر کر دے ،، یہاں کفر ایمان کے بالمقابل آیا ھے ، اس میں بھی کفر کرنے والے کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ھے دنیا میں کسی سزا کا ذکر نہیں
8- مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿النحل- 106﴾
جس نے کفر کیا اپنے ایمان لانے کے بعد سوائے اس کے کہ جس کو مجبور کیا گیا کفر کرنے کے لئے مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن رہا( اور کلمہ کفر مجرد زبان تک رھا، لیکن جس نے سینہ کھول دیا کفر کے لئے ( اس کو دل میں جانے دیا ) تو ان پر غضب ھے اللہ کا اور ان کے لئے بڑا عذاب ھے ،،
اس آیت میں کفر ارتداد کے معنوں میں استعمال ھوا ھے اور اس کی سزا بھی آخرت پر رکھی گئ ھے ،کیونکہ دلوں کا حال حشر میں ھی کھولا جائے گا –
9- كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (آلعمران -86)
اللہ کیسے ھدایت دے ان لوگوں کو جو کافر ھو گئے اپنے ایمان لانے کے بعد اور گواھی دی کہ رسول ﷺ برحق ھیں اور ان کے پاس براھین ودلائل آ چکے، اللہ بے انصاف قوم کو ھدایت نہیں دیتا ،، یہاں بھی کفر سے مراد ارتداد ھے ، اس میں بھی آخرت کی سزا سے ھی ڈرایا گیا ھے ، اگلی آیات میں ملاحظہ فرمائیں
10-أُولَٰئِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (87) خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ (88) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (89) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الضَّالُّونَ (90) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَىٰ بِهِ ۗ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ (91)
یہ وہ لوگ ھیں جن پر اللہ کی لعنت ھے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی ملا کر ، وہ ھمیشہ اس میں رہیں گے، نہ ان سے عذاب کم کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی ، سوائے ان لوگوں کے کہ جو بعد میں پلٹ آئیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو بے شک اللہ بخشنے والا رحیم ھے ، بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان لانے کے بعد پھر بڑھتے ھی چلے گئے کفر میں ، مرتے وقت ان کی توبہ ھر گز قبول نہیں کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ھیں ، بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور کفر کی حالت میں ھی مر گئے ان میں سے کسی سے بھی زمین بھر کر سونا بھی بطور فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ اتنا دے سکیں ۔ یہ وہ لوگ ھیں جن کے لئے دردناک عذاب ھو گا اور کوئی ان کا مددگار نہ ھو گا
آل عمران کی یہ ساری آیات مرتدین کومخاطب کر کے آخرت کے عذاب کو بیان کر رھی ھیں اور کفر بمعنی ارتداد استعمال ھوا ھے ۔
 
== حقیقتِ کفر ==
 
جیسے کہ صدہاچیزوں کے ماننے کا نام ایمان تھا لیکن ان سب کا مدار صرف ایک چیز پر تھا یعنی پیغمبر کوماننا کہ جس نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کما حقہ مان لیا۔ اس نے سب کچھ مان لیا۔ اسی طر ح کفر کا مدار صرف ایک چیز پر ہے یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاانکار، ان کی عظمت کا انکار، ان کی شان اعلیاعلیٰ کا انکار، اصل کفر تو یہ ہے باقی تمام اس کی شاخیں ہیں مثلا جورب کی ذات یا صفات کاانکار کرتا ہے وہ بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے کہ حضور نے فرمایا : اللہ ایک ہے۔ یہ کہتا ہے کہ دو ہیں۔ اسی طر ح نماز، رو زہ وغیرہ کسی ایک کا انکار درحقیقت حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاانکار ہے کہ وہ سر کار فرماتے ہیں کہ یہ چیزیں فرض ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ نہیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ادنیادنٰی توہین ،ان کی کسی شے کی توہین، قرآنی فتوے سے کفر ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
# وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿150﴾ۙ ۙاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوۡنَ حَقًا