"دہشت گردی" کے نسخوں کے درمیان فرق

2,327 بائٹ کا اضافہ ،  2 سال پہلے
[[پاکستان]] [[دنیا]] میں [[دہشت گردی]] سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ہونے والا [[ملک]] ہے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اب تک ستر ہزار سے زیادہ افراد دہشت گردی کی وجہ سے ہلاک اور [[شہید]] ہو چکے ہیں اور ہزاروں افراد زخمی اور معذور ہو چکے ہیں [[پاکستانی]] [[فوج]] کے افیسرز اہلکار، سیکورٹی اداروں کے اہلکار، رینجرز کے اہلکار اور [[پولیس]] کے اہلکار دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔اس سب قربانیوں کے باوجود افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ [[دنیا]] کے ناعاقبت [[لوگ]] بجائے پاکستان اور پاکستانی عوام کو سرہاتے اور پاکستان کا احسان مانتے اور پاکستان کی تعریف کرتے کہ پاکستان نے دہشت گردی کا مقابلہ جس طرح کیا اس کی مثال شاید ہی دنیا میں کبھی ملے لیکن اس دنیا میں تو گنگا ہمیشہ ہی الٹی بہتی ہے یہ احسان فراموش دنیا پاکستان سے ہمیشہ ڈو مور کا مطالبہ ہی کرتی رہتی ہے اور پاکستان کو سب قربانیوں کے باوجود [[دہشت گرد]] ملک ہی سمجھا جاتا ہے۔
 
2001 ایک تک پاکستان میں دہشت گردی نہ ہونے کے برابر تھی لیکن [[افغانستان]] میں [[روس]] کے خلاف لڑی جانے والی [[جنگ]] میں یہی دہشت گرد جو امریکا اور یورپی ممالک کی نظر میں مجاہدین تھے لیکن افغانستان میں روسی فوجوں کی واپسی کے بعد [[امریکہ]] نے اپنا مطلب پورا ہونے کے بعد افغانستان کو لاوارث چھوڑ دیا جس کے نتیجہ میں اس [[خطہ]] میں دہشت گردی پھوٹ پڑی اور اس سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہوا ایک طرف لاکھوں [[افغان]] مہاجرین کا بوجھ پاکستان پر پڑ گیا اور ان افغان مہاجرین کی وجہ سے پاکستان جیسے پر[[امن]] ملک میں دہشت گردی جو نہ ہونے کے برابر تھی دہشت گردی نے جنم لینا شروع کیا نو گیارہ کے سانحہ کے بعد یہی مجاہدین جو امریکا اور [[یورپی]] [[ممالک]] کی [[آنکھ]] کا تارا تھے اب بدترین [[دہشت گرد]] کہلائے جانے لگے امریکا کے لے پالک مجاہدین اب [[امریکا]] کی ہی آنکھوں میں کھٹکنے لگے ان سب باتوں کے اثرات کو پاکستان کو برداشت کرنا پڑا اور [[پاکستان]] جہاں دہشت گردی کا نام و نشان تک نہ تھا اب پاکستان کو دہشت گردی کے بہت بڑے [[طوفان]] کا سامنا کرنا پڑا جس کا [[پاکستانی فوج]] اور دیگر سیکورٹی کے اداروں اور [[عوام]] نے جوانمردی سے سامنا کیا اور دہشت گردی پر بہت حد تک قابو پالیا لیکن اب بھی بہت سا کام کرنا باقی ہے اس سارے منظرنامے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ [[کشمیر]] کی [[آزادی]] کی تحریک کو دہشت گرد تحریک سمجھا جانے لگا۔ [[پاکستان]] میں 2001 سے دہشت گردی کے واقعات درج ذیل ہیں
 
* 28 اکتوبرکو جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور میں پروٹسٹنٹ چرچ پر حملے کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے۔ حادثے میں ایک پولیس افسر کے سوا تمام مسیحی عبادت گزار تھے۔ <ref>https://en.wikipedia.org/wiki/Terrorist_incidents_in_Pakistan_in_2001</ref>
 
* 21 دسمبر کو پاکستانی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر کے بڑے بھائی احتشام الدین حیدر کو کراچی کے سولجر بازار کے قریب حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔<ref>https://en.wikipedia.org/wiki/Terrorist_incidents_in_Pakistan_in_2001#cite_note-1</ref>
 
* 22 فروری کو امریکی صحافی ڈینیئل پرل کو کراچی میں اغوا کرکے قتل کردیا گیا۔<ref>https://en.wikipedia.org/wiki/Terrorist_incidents_in_Pakistan_in_2002</ref>
 
* 26 فروری کو راولپنڈی میں شاہ نجف مسجد میں نقاب پوش بندوق برداروں کے ایک گروہ کی بلااشتعال فائرنگ سے 11 شیعہ نمازی ہلاک ہوگئے۔<ref>https://en.wikipedia.org/wiki/Terrorist_incidents_in_Pakistan_in_2002</ref>
 
* 17 مارچ کو اسلام آباد میں ڈپلومیٹک انکلیو میں ایک پروٹسٹنٹ چرچ پر دستی بم حملے میں ایک امریکی سفارت کار کی اہلیہ اور بیٹی سمیت پانچ افراد ہلاک اور 40 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔<ref>https://en.wikipedia.org/wiki/Terrorist_incidents_in_Pakistan_in_2002</ref>
 
* 7 مئی کو لاہور کے شہر اقبال ٹاؤن میں مذہبی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک ، ان کے ڈرائیور اور ایک پولیس اہلکار کو دو بندوق برداروں نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔<ref>https://en.wikipedia.org/wiki/Terrorist_incidents_in_Pakistan_in_2002</ref>
 
* 8 مئی کو کراچی میں شیرٹن ہوٹل کے قریب بس بم دھماکے میں 11 فرانسیسی اور 3 پاکستانی ہلاک ہوگئے۔<ref>https://en.wikipedia.org/wiki/Terrorist_incidents_in_Pakistan_in_2002</ref>
 
 
 
 
720

ترامیم