"ابو القاسم قشیری" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: درستی املا ← ۔، لیے؛ تزئینی تبدیلیاں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م (خودکار: درستی املا ← ۔، لیے؛ تزئینی تبدیلیاں)
|فقہ=[[شافعی]]
}}
'''امام القشیری''' یا '''امام ابوالقاسم عبد الکریم بن ہوازن القشیری''' (پیدائش: [[اگست]] [[986ء]]— وفات: [[30 دسمبر]] [[1072ء]]) [[محدث]]، [[مفسر]] اور [[علم کلام|ماہر علم الکلام]] تھے۔ دنیائے [[تصوف]] میں [[رسالہ قشیریہ|صاحب رسالہ قشیریہ]] کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ اسلامی [[تصوف]] میں اِن کی تصنیف [[رسالہ قشیریہ]] مشہور ہے۔{{Sufism|Notable early}}
 
== پورا نام ==
امام ابوالقاسم عبد الکریم بن ہوازن بن عبد الملک بن طلحہ بن محمد استوائی قشیری نیشاپوری شافعی ۔کنیتشافعی۔کنیت:ابوالقاسمابوالقاسم۔القاب:زین الاسلام،استاذالصوفیاء،شیخ الجماعۃ،مقدمۃ الطائفہ،صاحب ِرسالہ قشیریہ۔
۔القاب:زین الاسلام،استاذالصوفیاء،شیخ الجماعۃ،مقدمۃ الطائفہ،صاحب ِرسالہ قشیریہ۔
 
== نسبت ==
 
== حصول علم ==
فقہ ابوبکر الطوسی سے پڑھی ابوبکر بن فورک سے علم اصول حاصل کیا۔: آپ نے علم کے لئےلیے کئی بلادِاسلامیہ کاسفرکیا اورمتعدد مشاہیرِ اسلام سے اخذ ِعلم کیا۔جن ابوالحسین بن بشران ،ابن الفضل بغدادی،ابومحمد کوفی،ابونعیم،ابوالقاسم بن حبیب قاضی،ابوبکر طوسی۔مشہور محدث امام ابوبکر بیہقی اور امام الحرمین جوینی کی صحبت میں رہے،اور ان کی معیت میں حج کی سعادت بھی حاصل کی،اسی طرح تصوف اور اخلاق کے متعدد شیوخ ہیں۔
 
== وفات ==
{{خراسان کی شخصیات}}
{{صوفی علما}}
 
[[زمرہ:1074ء کی وفیات]]
[[زمرہ:986ء کی پیدائشیں]]
111,622

ترامیم