"خدیجہ بنت خویلد" کے نسخوں کے درمیان فرق

اضافہ مواد
(کون قتادہ ؟ مفصل لکھیے)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل ترمیم از موبائل ایپ آئی فون ایپ ترمیم)
(اضافہ مواد)
}}
 
'''خدیجہ بنت خویلد''' (پیدائش: [[556ء]]– وفات: [[30 اپریل]] [[619ء]]) [[مکہ]] کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے [[قریش]] سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے [[محمد]] {{درود}} کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ {{درود}} کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلیاعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور {{درود}} کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور {{درود}} نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور {{درود}} صرف پچیس سال کے تھے۔ خدیجہ نے سب سے پہلے [[اسلام]] قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ساری کی ساری اولاد خدیجہ رضي اللہ تعالٰی عنہا سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جو ماریہ قبطیہ رضي اللہ تعالٰی عنہا سے تھے جو اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوںاور قبطیوں کے بڑے کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوبطورہدیہکو بطور ہدیہ پیش کی گئی تھیں ۔تھیں۔
 
== نام و نسب ==
== شجرہ نسب و خاندانی حالات ==
خدیجہ نام، ام ہند کنیت، طاہرہ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی{{ا}} بن قصی، قصی [[محمدپر پہنچ کر ان کا خاندان رسول صلی اللہ علیہ ووسلم آلہکے وخاندان سلمسے مل جاتا ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا، اور [[لوی بن غالب]] کے جددوسرے بیٹے عامر کی امجداولاد تھے۔تھیں۔
آپ کا تعلق قریش کی ایک نہایت معزز شاخ بنی اسد سے تھا، یہ خاندان اپنی شرافت و نجابت اور کاروباری معاملات میں ایمانداری اور راست روی سے عزت و شہرت کے بلند مقام پر فائز تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا۔ آپ کے والد ایک مشہور تاجر تھے اور بہت مالدار۔
 
خدیجہ کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ [[مکہ]] آکر اقامت کی، عبد الدارین ابن قصی کے جوان کے ابن عم تھے، حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے [[عام الفیل]] سے 15 سال قبل خدیجہ پیدا ہوئیں، <ref>طبقات ابن سعد، ج 8 ص 10</ref>
=== ازدواجی زندگی ===
سنِ شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ [[اخلاق]] کی بنا پر طاہرہ<ref>اصابہ، ج 8 ص 60</ref>کے لقب سے مشہور ہوئیں۔
قتادہ کے قول کے مطابق، خدیجہ بنت خویلد کی پہلی شادی عتیق بن عاید مخزومی سے ہوئی جس سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اس کے انتقال کے بعد دوسری شادی ابوہالہ ہند بن نباش تمیمی سے ہوئی جس سے تین لڑکے ہند اور طاہر پیدا ہوئے۔ کچھ عرصے کے بعد ابوہالہ کی بھی وفات ہو گئی۔{{حوالہ درکار}} اس کے بعد آپ کی تیسری شادی [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم]] سے ہوئی۔ جن سے آپ کی اولاد بھی ہوئی، آپ کی وفات [[ہجرت مدینہ]] سے پہلے مکہ شہر میں محمد صل للہ علیہ والہ کی زوجہ کی حیثیت سے ہوئی۔
== وفاتنکاح ==
باپ نے ان صفات کا لحاظ رکھ کر شادی کے لیے [[ورقہ بن نوفل]] کو جو برادر زادہ اور [[تورات]] و [[انجیل]] کے بہت بڑے عالم تھے، منتخب کیا، لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہ ہو سکی اور ابو ہالہ بن بناش تمیمی سے [[نکاح]] ہو گیا۔<ref>استیعاب، ج 2 ص 378</ref><br />
ابو ہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے عقد نکاح میں آئیں۔
 
اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں خدیجہ کے والد لڑائی کے لیے نکلے اور مارے گئے<ref>طبقات ابن سعد، ج 8 ص 9</ref>یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔<ref>طبقات ابن سعد، 81:1، ق1</ref>
== حدیث میں ذکر ==
== تجارت ==
حضور {{درود}} خدیجہ کو بہت یاد کرتے تھے۔ حافظ ابن کثیر نے مختلف لوگوں سے روایت لکھی ہے<ref name="ReferenceA">البدایۃ والنہایۃ از حافظ ابن کثیر جلد 3 صفحہ 144 اردو ترجمہ شائع کردہ نفیس اکیڈمی کراچی</ref> کہ عائشہ نے فرمایا کہ ایک دن حضور {{درود}} نے ان کے سامنے خدیجہ کو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو عائشہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے جس پر عائشہ نے حضور {{درود}} کو کہا کہ یا رسول اللہ {{درود}} آپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس کے بعد عائشہ فرماتی ہیں کہ میری زبان سے یہ کلمات سن کر آپ کا رنگ اس طرح متغیر ہو گیا جیسے وحی کے ذریعے کسی غم انگیز خبر سے یا بندگانِ خدا پر اللہ کے عذاب کی خبر سے ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد حضور {{درود}} نے فرمایا کہ:
باپ اور شوہر کے مرنے سے خدیجہ کو سخت دقت واقع ہوئی، ذریعہ معاش تجارت تھی جسکا کوئی نگران نہ تھا تاہم اپنے اعزہ کو مال تجارت دیکر بھیجتی تھیں، ایک وقت مال کی روانگی کا وقت آیا تو [[ابو طالب]] نے [[محمد بن عبد اللہ]] سے کہا کہ تم کو خدیجہ سے جا کر ملنا چاہیے، ان کا مال [[شام]] جائے گا۔ بہتر ہے کہ تم بھی ساتھ لے جاتے، میرے پاس روپیہ نہیں ورنہ میں خود تمھارے لیے سرمایہ مہیا کر دیتا۔
<blockquote style="border: 1px solid blue; padding: 2em;">
ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالٰیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔(جو زندہ رہتی)<ref name="ReferenceA" />
</blockquote>
[[فائل:Khadija tomb.jpg|تصغیر|336x336px|[[جنت المعلیٰ]] میں واقع ایک قبہ جو سیدہ خدیجہ کی آخری آرام گاہ پر موجود تھا۔ (قبل [[1926ء]])]]
 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہرت "امین" کے لقب سے تمام مکہ میں تھی اور آپ کے حسن معاملت، راست بازی، صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاقی کا چرچا عام تھا، خدیجہ کو اس گفتگو کی خبر ملی تو فوراً پیغام بھیجا کہ "آپ میرا مال تجارت لے کر شام جائیں، جو معاوضہ اوروں کو دیتی ہوں آپ کو اس کا مضاعف دوں گی۔" محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا اور مالِ تجارت لے کر میسرہ (غلام خدیجہ) کے ہمراہ بصرٰی تشریف لے گئے، اس سال کا نفع سال ہائے گزشتہ کے نفع سے مضاعف تھا،<ref>طبقات ابن سعد، 81:1، ق1</ref>
== وفات ==
سیدہ خدیجہ نے 65 سال کی عمر میں [[ہجرت]] سے تین سال قبل 10 ماہِ [[رمضان]] بروز [[پیر]] [[30 اپریل]] [[619ء]] کو [[مکہ]] میں وفات پائی۔ سیدہ خدیجہ کی وفات مدینہ کی ہجرت اور نماز فرض ہونے سے پہلے اسی سال ہوئی جب ابوطالب کی وفات ہوئی۔ اس سال کو عام الحزن کا نام ملا۔ روایات کے مطابق انہیں جنت میں موتیوں سے تیار کردہ گھر ملے گا۔ ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نے ایک دن حاضر ہو کر خدیجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خدیجہ ہیں ان کا ساتھ اور کھانا پینا ہمیشہ آپ {{درود}} کے ساتھ رہے گا کیونکہ اللہ تعالٰیٰ نے انہیں سلام بھیجا ہے اور میں بھی انہیں سلام کہتا ہوں۔ اس کے بعد جبریل علیہ السلام نے آپ {{درود}} سے کہا کہ انہیں بشارت دے دیجیئے کہ اللہ نے ان کے لیے جنت میں ایک بڑا خوشنما اور پرسکون مکان تعمیر کرایا ہے۔ جس میں کوئی پتھر کا ستون نہیں ہے۔ یہی روایت امام مسلم نے حسن بن فضیل کے حوالے سے بھی بیان کی ہے۔ اسی روایت کو اسی طرح اسماعیل بن خالد کی روایت سے بخاری نے بھی بیان کیا ہے۔<ref>البدایۃ والنہایۃ از حافظ ابن کثیر جلد 3 صفحہ 143 اردو ترجمہ شائع کردہ نفیس اکیڈمی کراچی</ref>
 
== اولادآپﷺ سے نکاح ==
خدیجہ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام [[قریش]] کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا، اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا، لیکن کارکنان قضا و قدر کی نگاہ انتخاب کسی اور پر پڑ چکی تھی، محمد مال تجارت لے کر شام سے واپس آئے تو خدیجہ نے شادی کا پیغام بھیجا، نفیسہ بنت مینہ (یعلی بن امیہ کی ہمشیر) اس خدمت پر مقرر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا،<ref>طبقات ابن سعد، 84</ref> اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی، خدیجہ کے والد اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم ان کے چچا عمرو بن اسد زندہ تھے، عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگو کر سکتی تھیں، اسی بناء پر خدیجہ نے چچا کے ہوتے ہوئے خود براہ راست تمام مراتب طے کیے۔
 
تاریخ معین پر [[ابو طالب]] اور تمام رؤسائے خاندان جن میں [[حمزہ بن عبد المطلب]] بھی تھے، خدیجہ کے مکان پر آئے، حضرت خدیجہ نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا، [[ابو طالب]] نے خطبہ نکاح پڑھا۔ عمروبن اسد کے مشورہ سے 500 طلائی [[درہم]] مہر قرار پایا اور خدیجہ طاہرہ حرم [[نبوت]] ہو کر [[ام المومنین]] کے شرف سے ممتاز ہوئیں، اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پچیس سال کے تھے اور خدیجہ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے۔<ref>اصابہ، ج 8 ص 60</ref>
[[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم]] کی اولاد کی تعداد سات تھی جن میں تین بیٹے اورچار بیٹیوں کے نام ذيل میں دیے گئے ہيں :
== اسلام ==
پندرہ برس کے بعد جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہوئے اور فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا تو سب سے پہلے خدیجہ کو یہ پیغام سنایا وہ سننے سے پہلے [[مومن]] تھیں، کیونکہ ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق دعویٰ کا کوئی شخص فیصلہ نہیں کر سکتا تھا، [[صحیح بخاری]] باب بدۤ الوحی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور وہ یہ ہے،
"عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر [[وحی]] کی ابتدا رویائے صادقہ سے ہوئی آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے تھے سپیدۂ۔۔۔۔۔ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا تھا، اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوت گزیں ہو گئے، چنانچہ کھانے پینے کا سامان لے کر [[غار حرا]] تشریف لے جاتے اور وہاں تخث یعنی عبادت کرتے تھے۔ جب سامان ہو چکتا تو پھر خدیجہ کے پاس تشریف لاتے اور پھر واپس جا کے مراقبہ میں مصروف ہوتے یہاں تک کہ ایکدن فرشتہ غیب نظر آیا کہ آپ سے کہہ رہا ہے پڑھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا لکھا نہیں، اس نے زور سے دبایا، پھر مجھ کو چھوڑ دیا، اور کہا پڑھ تو میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں پھر اس نے دوبارہ زور سے دبایا اور چھوڑ دیا اور کہا پڑھ پھر میں نے کہا میں پڑھا لکھا نہیں اسی طرح تیسری دفعہ دبا کر کہا کہ پڑھ اس خدا کا نام جس نے کائنات کو پیدا کیا۔ جس نے آدمی کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ تیرا خدا کریم ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو جلال الہی سے لبریز تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ سے کہا مجھ کو کپڑا اڑھاؤ، مجھ کو کپڑا اڑھاؤ، لوگوں نے کپڑا اڑھایا تو ہیبت کم ہوئی پھر خدیجہ سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا "مجھ کو ڈر ہے" خدیجہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم متردد نہ ہوں، خدا آپ کا ساتھ نہ چھوڑے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بے کسوں اور فقیروں کے معاون رہتے ہیں، مہمان نوازی اور مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں پھر وہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی [[ورقہ بن نوفل]] کے پاس لے گئیں جو مذہباً [[مسیحیت|نصرانی]] تھے [[عبرانی زبان]] جانتے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے، اب وہ بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ خدیجہ نے کہا اپنے بھتیجے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی باتیں سنو، بولے ابن الاخ تو نے کیا دیکھا؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ کی کیفیت بیان کی تو کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ پر اترا تھا۔ کاش مجھ میں اس وقت قوت ہوتی اور زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو شہر بدر کرے گی، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا ہاں جو کچھ آپ پر نازل ہوا جب کسی پر نازل ہوتا ہے تو دنیا اس کی دشمن ہو جاتی ہے اور اگر اس وقت تک میں زندہ رہا تو تمھاری وزنی مدد کرونگا۔ اس کے بعد ورقہ کا بہت جلد انتقال ہو گیا اور وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی<ref>[[صحیح بخاری]]، 2-3:1</ref>
 
اس وقت تک [[نماز]] پنجگانہ فرض نہ تھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نوافل پڑھا کرتے تھے خدیجہ بھی آپ کے ساتھ نوافل میں شرکت کرتی تھیں، ابن سعد کہتے ہیں<ref>طبقات ابن سعد، ج 8 ص 10</ref> محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خدیجہ ایک عرصہ تک خفیہ طور پر نماز پڑھا کرتے۔
بیٹے :
 
عفیف کندی سامان خریدنے کے لیے مکہ آئے، اور [[عباس بن عبد المطلب]] کے گھر میں فروکش ہوئے، صبح کے وقت ایکد ن [[کعبہ]] کی طرف نظر تھی۔ دیکھا کہ ایک نوجوان آیا اور [[آسمان]] کی طرف قبلہ رُخ کھڑا ہو گیا۔ پھر ایک لڑکا اس کے داہنی طرف کھڑا ہوا، پھر ایک [[عورت]] دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی، نماز پڑھ کر یہ لوگ چلے گئے، تو عفیف نے عباس سے کہا کہ کوئی عظیم الشان واقعہ پیش آنے والا ہے، عباس نے جواب دیا، ہاں، پھر کہا جانتے ہو یہ نوجوان کون ہے؟ یہ میرا بھتیجا محمد ہے، یہ دوسرا بھتیجا علی ہے اور یہ محمد کی [[بیوی]] (خدیجہ) ہے، میرے بھتیجے کا خیال ہے کہ اس کا [[مذہب]] پروردگار عالم کا مذہب ہے اور جو کچھ کرتا ہے اس کے حکم سے کرتا ہے، دنیا میں جہاں تک مجھ کو علم ہے اس خیال کے صرف یہی تین شخص ہیں<ref>(طبقات ابن سعد، ج 10 ص 11</ref>
# [[قاسم بن محمد|القاسم]]
# [[عبد اللہ بن محمد|عبداللہ]]
# [[ابراہیم بن محمد|ابراہیم]]
 
عقیلی اس روایت کو ضعیف سمجھتے ہیں، لیکن اس کے ضعیف ہونے کی کوئی وجہ نہیں، درایت کے لحاظ سے اس میں کوئی خرابی نہیں، روایت کی حیثیت سے اس کے ثبوت کے متعدد طریق ہیں [[محدث]] [[ابن سعد]] نے اسکو نقل کیا ہے، بغوی، ابویعلی اور نسائی نے اس کو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے، حاکم، ابن حثیمہ، ابن مندہ اور صاحبِ غیلانیات نے اسے مقبول مانا ہے۔ اور سب سے بڑھکر یہ کہ اس کو [[امام بخاری]] نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور اسکو صحیح کہا ہے۔
بیٹیاں:
 
خدیجہ نے صرف نبوت کی تصدیق ہی نہیں کی بلکہ آغاز [[اسلام]] میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی معین و مددگار ثابت ہوئیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو چند سال تک کفار مکہ اذیت دیتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔ اس میں بڑی حد تک خدیجہ کا اثر کام کر رہا تھا، اوپر گزر چکا ہے۔ کہ آغاز نبوت میں جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ "مجھ کو ڈر ہے" تو انہوں نے کہا "آپ متردد نہ ہوں، خدا آپ کا ساتھ نہ چھوڑے گا" دعوت اسلام کے سلسلے میں جب مشرکین نے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں تو حضرت خدیجہ نے آپ کو تسلی اور تشفی دی، استیعاب میں ہے۔<ref>طبقات ابن سعد، ج 2 ص 740</ref>
 
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی تردید یا تکذیب سے جو کچھ صدمہ پہنچتا، حضرت خدیجہ کے پاس آکر ختم ہو جاتا تھا کیونکہ وہ آپ کی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں اور مشرکین کے معاملہ کو آپ کے سامنے ہلکا کر کے پیش کرتی تھیں۔
 
سنہ 7 نبوی میں جب قریش نے اسلام کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تو یہ تدبیر سوچی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کو ایک گھاٹی میں محصور کیا جائے، چنانچہ ابو طالب مجبور ہو کر تمام خاندان ہاشم کے ساتھ شعب ابو طالب میں پناہ گزین ہوئے، خدیجہ بھی ساتھ آئیں، [[سیرت ابن ہشام]] میں ہے۔<ref>سیرت ابن ہشام، ج 1 ص 192</ref>
 
اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شعب ابو طالب میں تھیں۔
تین سال تک [[بنو ہاشم]] نے اس حصار میں بسر کی یہ زمانہ ایسا سخت گزرا کہ طلح کے پتے کھا کھا کر رہتے تھے تاہم اس زمانہ میں بھی حجرت خدیجہ کے اثر سے کبھی کبھی کھانا پہنچ جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دن [[حکیم بن حزام]] نے جو خدیجہ کا بھتیجا تھا۔ تھوڑے سے گیہوں اپنے غلام کے ہاتھ حضرے خدیجہ کے پاس بھیجے، راہ میں [[ابو جہل]] نے دیکھ لیا، اتفاق سے ابو البختری کہیں سے آ گیا، وہ اگرچہ کافر تھا، لیکن اس کو رحم آیا، ابو جہل سے کہا ایک شخص اپنی [[پھوپھی]] کو کھانے کے لیے کچھ بھیجتا ہے تو کیوں روکتا ہے۔<ref>سیرت ابن ہشام، ج 1 ص 192</ref>
== فضائل و مناقب ==
ام المومنین طاہرہ کی عظمت و فضیلت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرض نبوت ادا کرنا چاہا تو فضائے عالم سے ایک آواز بھی آپ کی تائید میں نہ اٹھی، کوہ حرا، [[وادی عرفات]]، جبل فاران غرض تمام جزیرۃ العرب آپ کی آواز پر پیکر تصویر بنا ہوا تھا، لیکن اس عالمگیر خاموشی میں صرف ایک آواز تھی جو فضائے مکہ میں تموج پیدا کر رہی تھی، یہ آواز حضرت خدیجہ طاہرہ کے قلب سے بلند ہوئی تھی، جو اس ظلمت کدہ کفر و ضلالت میں نور الہی کا دوسرا تجلی گاہ تھا۔
 
[[مسند احمد]] میں روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ سے فرمایا، "بخدا میں کبھی لات و عزی کی پرستش نہ کرونگا" انہوں نے جواب دیا کہ لات کو جانے دیجیے، عزی کو جانے دیجیے، یعنی ان کا ذکر نہ کیجیے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کو ان کی ذات سے جو تقویت تھی وہ سیرت نبوی کے ایک ایک صفحہ سے نمایاں ہے، ابن ہشام میں ہے۔ "وہ اسلام کے متعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی مشیر کار تھیں۔" محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو جو محبت تھی، وہ اس سے ظاہر ہے کہ باوجود اس تمول اور دولت و ثروت کے جو انکو حاصل تھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت خود کرتی تھیں، چنانچہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ [[جبرائیل]] نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ خدیجہ [[برتن]] میں کچھ لا رہی ہیں۔ آپ ان کو خدا کا اور میرا سلام پہنچا دیجیے۔<ref>صحیح بخاری، 539:1</ref>
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو [[زید بن حارثہ]] سے سخت محبت تھی، لیکن وہ مکہ میں غلام کی حیثیت سے رہتے تھے، خدیجہ نے ان کو آزاد کرایا، اور اب وہ کسی دنیاوی رئیس کے خادم ہونے کی بجائے شہنشاہ رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے غلام تھے۔
 
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خدیجہ سے بے پناہ محبت تھی آپ نے ان کی زندگی تک دوسری شادی نہیں کی، ان کی وفات کے بعد آپ کا معمول تھا کہ جب گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی سہیلیوں کے پاس گوشت بھجواتے تھے، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ گو میں نے خدیجہ کو نہیں دیکھا، لیکن مجھ کو جس قدر ان پہ رشک آتا تھا کسی اور پر نہیں آتا تھا، جس کی وجہ یہ تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ان کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے اس پر آپ کو رنجیدہ کیا، لیکن آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھ کو ان کی محبت دی ہے،<ref>[[صحیح مسلم]]، 333:2</ref>
 
خدیجہ کے مناقب میں بہت سی حدیثیں مروی ہیں، صحیح بخاری و [[مسلم]] میں ہے:
"عورتوں میں بہترین [[مریم بنت عمران]] ہے اور پھر عورتوں میں بہترین خدیجہ بنت خویلد ہیں۔"
ایک مرتبہ [[جبریل]] محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، خدیجہ آئیں تو فرمایا
"ان کو جنت میں ایک ایسا گھر ملنے کی بشارت سنا دیجیے جو موتی کا ہو گا اور جس میں شور و غل اور محنت و مشقت نہ ہو گی۔"۔
[[فائل:Khadija tomb.jpg|تصغیر|336x336px|[[جنت المعلیٰ]] میں واقع ایک قبہ جو سیدہ خدیجہ کی آخری آرام گاہ پر موجود تھا۔ (قبل [[1926ء]])]]
 
== وفات ==
خدیجہ نکاح کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں اور 11 رمضان سنہ 10 نبوی ([[ہجرت]] سے تین سال قبل)<ref>صحیح بخاری، 55:1</ref> انتقال کیا، اس وقت ان کی عمر 64 سال 6 ماہ کی تھی، چنانچہ نماز جنازہ اس وقت تک مشروع نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے ان کی لاش اسی طرح دفن کر دی گئی۔
 
محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی قبر میں اترے، اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کیا، خدیجہ کی قبر حجون میں ہے۔<ref>طبقات ابن سعد، ج 8 ص 11</ref> اور زیارت گاہ خلائق ہے۔
 
ام المومنین خدیجہ کی وفات سے [[تاریخ اسلام]] میں ایک جدید دور شروع ہوا۔ یہی زمانہ ہے جو اسلام کا سخت ترین زمانہ ہے۔ اور خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سال کو عام الحزن (غم کا سال) فرمایا کرتے تھے کیونکہ ان کے اٹھ جانے کے بعد قریش کو کسی شخص کا پاس نہیں رہ گیا تھا، اور وہ نہایت بےرحمی و بیباکی سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ستاتے تھے، اسی زمانہ میں آپ اہل مکہ سے ناامید ہو کر طائف تشریف لے گئے۔
== اولاد ==
خدیجہ کے بہت سی اولاد ہوئی، ابوہالہ سے جو انکے پہلے شوہر تھے، دو لڑکے پیدا ہوئے، جن کے نام ہالہ و ہند تھے، دوسرے شوہر یعنی عتیق سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، اس کا نام بھی ہند تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ اولادیں پیدا ہوئیں، دو صاحبزادے جو بچپن میں انتقال کر گئے اور چار صاحبزادیاں نام حسب ذیل ہیں:<ref>زرقانی، 221:3</ref>
*[[قاسم بن محمد]]، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے بیٹے تھے، انہی کے نام پر آپ ابو القاسم کنیت کرتے تھے، صغر سنی میں مکہ میں انتقال کیا، اس وقت پیروں پر چلنے لگے تھے۔
*[[زینب بنت محمد ]] محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔
*[[عبد اللہ بن محمد]] نے بہت کم عمر پائی، چونکہ زمانہ نبوت میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے طیب اور طاہر کے لقب سے مشہور ہوئے۔
# *[[رقیہ بنت محمد]]
# *[[ام کلثوم بنت محمد]]
# *[[فاطمہ زہرا]]
 
اس سب میں ایک ایک سال کا چھٹاپا بڑاپا تھا، خدیجہ اپنی اولاد کو بہت چاہتی تھیں، اور چونکہ دنیا نے بھی ساتھ دیا یعنی صاحب ثروت تھیں، اس لیے عقبہ کی لونڈی سلمہ کو بچوں کی پرورش پر مقرر کیا تھا، وہ ان کو کھلاتی و دودھ پلاتی تھیں۔
# [[زینب بنت محمد]]
# [[رقیہ بنت محمد]]
# [[ام کلثوم بنت محمد]]
# [[فاطمہ زہرا]]
 
[[ازواج مطہرات]] میں خدیجہ کو بعض خاص خصوصیتیں حاصل ہیں، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں، وہ جب عقد نکاح میں آئیں تو ان کی عمر چالیس برس کے قریب تھی، لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی، [[ابراہیم بن محمد]] کے سوا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد انہی سے پیدا ہوئی۔
[[فاطمہ زہرا]] کے علاوہ [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم]] کی تمام اولاد ان کی زندگی ہی میں فوت ہو گئی۔
 
== مآخذحوالہ جات==
{{حوالہ جات}}
{{ازواج محمد}}