"خدیجہ بنت خویلد" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: درستی املا ← اور، جس کا، ان کے، اس کو، بنا، \1وں گا، اس ک\1؛ تزئینی تبدیلیاں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
م (خودکار: درستی املا ← اور، جس کا، ان کے، اس کو، بنا، \1وں گا، اس ک\1؛ تزئینی تبدیلیاں)
 
== نام و نسب ==
خدیجہ نام، ام ہند کنیت، طاہرہ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی، قصی پر پہنچ کر ان کا خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے مل جاتا ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا،تھا اور [[لوی بن غالب]] کے دوسرے بیٹے عامر کی اولاد تھیں۔
 
خدیجہ کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ [[مکہ]] آکر اقامت کی، عبد الدارین ابن قصی کے جوان کے ابن عم تھے، حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے [[عام الفیل]] سے 15 سال قبل خدیجہ پیدا ہوئیں، <ref>طبقات ابن سعد، ج 8 ص 10</ref>
اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں خدیجہ کے والد لڑائی کے لیے نکلے اور مارے گئے<ref>طبقات ابن سعد، ج 8 ص 9</ref>یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔<ref>طبقات ابن سعد، 81:1، ق1</ref>
== تجارت ==
باپ اور شوہر کے مرنے سے خدیجہ کو سخت دقت واقع ہوئی، ذریعہ معاش تجارت تھی جسکاجس کا کوئی نگران نہ تھا تاہم اپنے اعزہ کو مال تجارت دیکر بھیجتی تھیں، ایک وقت مال کی روانگی کا وقت آیا تو [[ابو طالب]] نے [[محمد بن عبد اللہ]] سے کہا کہ تم کو خدیجہ سے جا کر ملنا چاہیے، ان کا مال [[شام]] جائے گا۔ بہتر ہے کہ تم بھی ساتھ لے جاتے، میرے پاس روپیہ نہیں ورنہ میں خود تمھارے لیے سرمایہ مہیا کر دیتا۔
 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہرت "امین" کے لقب سے تمام مکہ میں تھی اور آپ کے حسن معاملت، راست بازی، صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاقی کا چرچا عام تھا، خدیجہ کو اس گفتگو کی خبر ملی تو فوراً پیغام بھیجا کہ "آپ میرا مال تجارت لے کر شام جائیں، جو معاوضہ اوروں کو دیتی ہوں آپ کو اس کا مضاعف دوں گی۔" محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا اور مالِ تجارت لے کر میسرہ (غلام خدیجہ) کے ہمراہ بصرٰی تشریف لے گئے، اس سال کا نفع سال ہائے گزشتہ کے نفع سے مضاعف تھا،<ref>طبقات ابن سعد، 81:1، ق1</ref>
 
== آپﷺ سے نکاح ==
خدیجہ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام [[قریش]] کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا،تھا اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا، لیکن کارکنان قضا و قدر کی نگاہ انتخاب کسی اور پر پڑ چکی تھی، محمد مال تجارت لے کر شام سے واپس آئے تو خدیجہ نے شادی کا پیغام بھیجا، نفیسہ بنت مینہ (یعلی بن امیہ کی ہمشیر) اس خدمت پر مقرر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا،<ref>طبقات ابن سعد، 84</ref> اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی، خدیجہ کے والد اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم ان کے چچا عمرو بن اسد زندہ تھے، عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگو کر سکتی تھیں، اسی بناءبنا پر خدیجہ نے چچا کے ہوتے ہوئے خود براہ راست تمام مراتب طے کیے۔
 
تاریخ معین پر [[ابو طالب]] اور تمام رؤسائے خاندان جن میں [[حمزہ بن عبد المطلب]] بھی تھے، خدیجہ کے مکان پر آئے، حضرت خدیجہ نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا، [[ابو طالب]] نے خطبہ نکاح پڑھا۔ عمروبن اسد کے مشورہ سے 500 طلائی [[درہم]] مہر قرار پایا اور خدیجہ طاہرہ حرم [[نبوت]] ہو کر [[ام المومنین]] کے شرف سے ممتاز ہوئیں، اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پچیس سال کے تھے اور خدیجہ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے۔<ref>اصابہ، ج 8 ص 60</ref>
پندرہ برس کے بعد جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہوئے اور فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا تو سب سے پہلے خدیجہ کو یہ پیغام سنایا وہ سننے سے پہلے [[مومن]] تھیں، کیونکہ ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق دعویٰ کا کوئی شخص فیصلہ نہیں کر سکتا تھا، [[صحیح بخاری]] باب بدۤ الوحی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور وہ یہ ہے،
 
"عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر [[وحی]] کی ابتدا رویائے صادقہ سے ہوئی آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے تھے سپیدۂ۔۔۔۔۔ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا تھا، اسکےاس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوت گزیں ہو گئے، چنانچہ کھانے پینے کا سامان لے کر [[غار حرا]] تشریف لے جاتے اور وہاں تخث یعنی عبادت کرتے تھے۔ جب سامان ہو چکتا تو پھر خدیجہ کے پاس تشریف لاتے اور پھر واپس جا کے مراقبہ میں مصروف ہوتے یہاں تک کہ ایکدن فرشتہ غیب نظر آیا کہ آپ سے کہہ رہا ہے پڑھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا لکھا نہیں، اس نے زور سے دبایا، پھر مجھ کو چھوڑ دیا،دیا اور کہا پڑھ تو میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں پھر اس نے دوبارہ زور سے دبایا اور چھوڑ دیا اور کہا پڑھ پھر میں نے کہا میں پڑھا لکھا نہیں اسی طرح تیسری دفعہ دبا کر کہا کہ پڑھ اس خدا کا نام جس نے کائنات کو پیدا کیا۔ جس نے آدمی کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ تیرا خدا کریم ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو جلال الہی سے لبریز تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ سے کہا مجھ کو کپڑا اڑھاؤ، مجھ کو کپڑا اڑھاؤ، لوگوں نے کپڑا اڑھایا تو ہیبت کم ہوئی پھر خدیجہ سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا "مجھ کو ڈر ہے" خدیجہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم متردد نہ ہوں، خدا آپ کا ساتھ نہ چھوڑے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بے کسوں اور فقیروں کے معاون رہتے ہیں، مہمان نوازی اور مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں پھر وہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی [[ورقہ بن نوفل]] کے پاس لے گئیں جو مذہباً [[مسیحیت|نصرانی]] تھے [[عبرانی زبان]] جانتے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے، اب وہ بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ خدیجہ نے کہا اپنے بھتیجے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی باتیں سنو، بولے ابن الاخ تو نے کیا دیکھا؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ کی کیفیت بیان کی تو کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ پر اترا تھا۔ کاش مجھ میں اس وقت قوت ہوتی اور زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو شہر بدر کرے گی، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا ہاں جو کچھ آپ پر نازل ہوا جب کسی پر نازل ہوتا ہے تو دنیا اس کی دشمن ہو جاتی ہے اور اگر اس وقت تک میں زندہ رہا تو تمھاری وزنی مدد کرونگا۔کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ کا بہت جلد انتقال ہو گیا اور وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی<ref>[[صحیح بخاری]]، 2-3:1</ref>
 
اس وقت تک [[نماز]] پنجگانہ فرض نہ تھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نوافل پڑھا کرتے تھے خدیجہ بھی آپ کے ساتھ نوافل میں شرکت کرتی تھیں، ابن سعد کہتے ہیں<ref>طبقات ابن سعد، ج 8 ص 10</ref> محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خدیجہ ایک عرصہ تک خفیہ طور پر نماز پڑھا کرتے۔
 
عفیف کندی سامان خریدنے کے لیے مکہ آئے،آئے اور [[عباس بن عبد المطلب]] کے گھر میں فروکش ہوئے، صبح کے وقت ایکد ن [[کعبہ]] کی طرف نظر تھی۔ دیکھا کہ ایک نوجوان آیا اور [[آسمان]] کی طرف قبلہ رُخ کھڑا ہو گیا۔ پھر ایک لڑکا اس کے داہنی طرف کھڑا ہوا، پھر ایک [[عورت]] دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی، نماز پڑھ کر یہ لوگ چلے گئے، تو عفیف نے عباس سے کہا کہ کوئی عظیم الشان واقعہ پیش آنے والا ہے، عباس نے جواب دیا، ہاں، پھر کہا جانتے ہو یہ نوجوان کون ہے؟ یہ میرا بھتیجا محمد ہے، یہ دوسرا بھتیجا علی ہے اور یہ محمد کی [[بیوی]] (خدیجہ) ہے، میرے بھتیجے کا خیال ہے کہ اس کا [[مذہب]] پروردگار عالم کا مذہب ہے اور جو کچھ کرتا ہے اس کے حکم سے کرتا ہے، دنیا میں جہاں تک مجھ کو علم ہے اس خیال کے صرف یہی تین شخص ہیں<ref>طبقات ابن سعد، ج 10 ص 11</ref>
 
عقیلی اس روایت کو ضعیف سمجھتے ہیں، لیکن اس کے ضعیف ہونے کی کوئی وجہ نہیں، درایت کے لحاظ سے اس میں کوئی خرابی نہیں، روایت کی حیثیت سے اس کے ثبوت کے متعدد طریق ہیں [[محدث]] [[ابن سعد]] نے اسکواس کو نقل کیا ہے، بغوی، ابویعلی اور نسائی نے اس کو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے، حاکم، ابن حثیمہ، ابن مندہ اور صاحبِ غیلانیات نے اسے مقبول مانا ہے۔ اور سب سے بڑھکر یہ کہ اس کو [[امام بخاری]] نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور اسکواس کو صحیح کہا ہے۔
 
خدیجہ نے صرف نبوت کی تصدیق ہی نہیں کی بلکہ آغاز [[اسلام]] میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی معین و مددگار ثابت ہوئیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو چند سال تک کفار مکہ اذیت دیتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔ اس میں بڑی حد تک خدیجہ کا اثر کام کر رہا تھا، اوپر گزر چکا ہے۔ کہ آغاز نبوت میں جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ "مجھ کو ڈر ہے" تو انہوں نے کہا "آپ متردد نہ ہوں، خدا آپ کا ساتھ نہ چھوڑے گا" دعوت اسلام کے سلسلے میں جب مشرکین نے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں تو حضرت خدیجہ نے آپ کو تسلی اور تشفی دی، استیعاب میں ہے۔<ref>طبقات ابن سعد، ج 2 ص 740</ref>
ام المومنین طاہرہ کی عظمت و فضیلت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرض نبوت ادا کرنا چاہا تو فضائے عالم سے ایک آواز بھی آپ کی تائید میں نہ اٹھی، کوہ حرا، وادی [[عرفات]]، جبل فاران غرض تمام جزیرۃ العرب آپ کی آواز پر پیکر تصویر بنا ہوا تھا، لیکن اس عالمگیر خاموشی میں صرف ایک آواز تھی جو فضائے مکہ میں تموج پیدا کر رہی تھی، یہ آواز حضرت خدیجہ طاہرہ کے قلب سے بلند ہوئی تھی، جو اس ظلمت کدہ کفر و ضلالت میں نور الہی کا دوسرا تجلی گاہ تھا۔
 
[[مسند احمد]] میں روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ سے فرمایا، "بخدا میں کبھی لات و عزی کی پرستش نہ کرونگاکروں گا" انہوں نے جواب دیا کہ لات کو جانے دیجیے، عزی کو جانے دیجیے، یعنی ان کا ذکر نہ کیجیے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کو ان کی ذات سے جو تقویت تھی وہ سیرت نبوی کے ایک ایک صفحہ سے نمایاں ہے، ابن ہشام میں ہے۔ "وہ اسلام کے متعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی مشیر کار تھیں۔" محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو جو محبت تھی، وہ اس سے ظاہر ہے کہ باوجود اس تمول اور دولت و ثروت کے جو انکو حاصل تھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت خود کرتی تھیں، چنانچہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ [[جبرائیل]] نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ خدیجہ [[برتن]] میں کچھ لا رہی ہیں۔ آپ ان کو خدا کا اور میرا سلام پہنچا دیجیے۔<ref>صحیح بخاری، 539:1</ref>
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو [[زید بن حارثہ]] سے سخت محبت تھی، لیکن وہ مکہ میں غلام کی حیثیت سے رہتے تھے، خدیجہ نے ان کو آزاد کرایا،کرایا اور اب وہ کسی دنیاوی رئیس کے خادم ہونے کی بجائے شہنشاہ رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے غلام تھے۔
 
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خدیجہ سے بے پناہ محبت تھی آپ نے ان کی زندگی تک دوسری شادی نہیں کی، ان کی وفات کے بعد آپ کا معمول تھا کہ جب گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی سہیلیوں کے پاس گوشت بھجواتے تھے، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ گو میں نے خدیجہ کو نہیں دیکھا، لیکن مجھ کو جس قدر ان پہ رشک آتا تھا کسی اور پر نہیں آتا تھا، جس کی وجہ یہ تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ان کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے اس پر آپ کو رنجیدہ کیا، لیکن آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھ کو ان کی محبت دی ہے،<ref>[[صحیح مسلم]]، 333:2</ref>
خدیجہ نکاح کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں اور 11 رمضان سنہ 10 نبوی ([[ہجرت]] سے تین سال قبل)<ref>صحیح بخاری، 55:1</ref> انتقال کیا، اس وقت ان کی عمر 64 سال 6 ماہ کی تھی، چنانچہ نماز جنازہ اس وقت تک مشروع نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے ان کی لاش اسی طرح دفن کر دی گئی۔
 
محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی قبر میں اترے،اترے اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کیا، خدیجہ کی قبر حجون میں ہے۔<ref>طبقات ابن سعد، ج 8 ص 11</ref> اور زیارت گاہ خلائق ہے۔
 
ام المومنین خدیجہ کی وفات سے [[تاریخ اسلام]] میں ایک جدید دور شروع ہوا۔ یہی زمانہ ہے جو اسلام کا سخت ترین زمانہ ہے۔ اور خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سال کو عام الحزن (غم کا سال) فرمایا کرتے تھے کیونکہ ان کے اٹھ جانے کے بعد قریش کو کسی شخص کا پاس نہیں رہ گیا تھا،تھا اور وہ نہایت بےرحمی و بیباکی سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ستاتے تھے، اسی زمانہ میں آپ اہل مکہ سے ناامید ہو کر طائف تشریف لے گئے۔
== اولاد ==
خدیجہ کے بہت سی اولاد ہوئی، ابوہالہ سے جو انکےان کے پہلے شوہر تھے، دو لڑکے پیدا ہوئے، جن کے نام ہالہ و ہند تھے، دوسرے شوہر یعنی عتیق سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، اس کا نام بھی ہند تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ اولادیں پیدا ہوئیں، دو صاحبزادے جو بچپن میں انتقال کر گئے اور چار صاحبزادیاں نام حسب ذیل ہیں:<ref>زرقانی، 221:3</ref>
* [[قاسم بن محمد]]، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے بیٹے تھے، انہی کے نام پر آپ ابو القاسم کنیت کرتے تھے، صغر سنی میں مکہ میں انتقال کیا، اس وقت پیروں پر چلنے لگے تھے۔
* [[زینب بنت محمد ]] محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔
* [[عبد اللہ بن محمد]] نے بہت کم عمر پائی، چونکہ زمانہ نبوت میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے طیب اور طاہر کے لقب سے مشہور ہوئے۔
* [[رقیہ بنت محمد]]
* [[ام کلثوم بنت محمد]]
* [[فاطمہ زہرا]]
 
اس سب میں ایک ایک سال کا چھٹاپا بڑاپا تھا، خدیجہ اپنی اولاد کو بہت چاہتی تھیں،تھیں اور چونکہ دنیا نے بھی ساتھ دیا یعنی صاحب ثروت تھیں، اس لیے عقبہ کی لونڈی سلمہ کو بچوں کی پرورش پر مقرر کیا تھا، وہ ان کو کھلاتی و دودھ پلاتی تھیں۔
 
[[ازواج مطہرات]] میں خدیجہ کو بعض خاص خصوصیتیں حاصل ہیں، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں، وہ جب عقد نکاح میں آئیں تو ان کی عمر چالیس برس کے قریب تھی، لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی، [[ابراہیم بن محمد]] کے سوا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد انہی سے پیدا ہوئی۔
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
{{ازواج محمد}}
102,784

ترامیم