"تعدد شوہری" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا اضافہ ،  9 مہینے پہلے
م
خودکار: درستی املا ← راجا، ہو گیا، کی بجائے، کر دیا
(پولندری شادی)
م (خودکار: درستی املا ← راجا، ہو گیا، کی بجائے، کر دیا)
 
== رواج ==
سکھوں میں بھی کا رواج تھا کہ بیوی کو تمام بھائی اور شوہر اپنی سالیوں کے ساتھ تعلقات رکھتا تھا ۔ کشمیر کے علاقہ پدر میں بڑھا شخص جوان عورت شادی اس لیے کرتا کہ وہ اس کے لیے اچھی اولاد پیدا کرے ۔ یہ اولاد عموماً کسی اور سے ہوتی ہے اور پچنگا کہلاتی ہے ۔ اگلے ہندو مقنن ایسی اعلاد کو کشٹ راجہراجا کہتے تھے ۔ دارجلنگ میں بہت سے لوگوں کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہوتا ہے لیکن مشرک بیوی رکھتے ہیں ۔ نیپال میں تیوار قوم کی عورت جب چاہتی ہے بستر پر جانے کی نشانی رکھ کر چلی جاتی ہے اور جس کو چاہتی ہے اپنا شوہر بنالیتی ہے اور اس شوہر سے ناراض ہوجائے تو اس شوہر کی اولاد کو بھی ساتھ لے کر پرانے شوہر کے پاس واپس آجاتی ہے ۔
 
== پنجاب ==
تبت ، لداخ اور ڈیرہ وون کی پہاڑی قوموں میں صرف بڑا بھائی اپنی شادی کرتا ہے ۔ یہ عورت تمام بھائیوں کی بیوی بن جاتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے اس سے اتفاق قائم رہتا ہے اور زمین بھی تقسیم نہیں ہوتی ہے اور تمام بھائی ایک بیوی پر مطمعین رہتے ہیں ۔ یہی رواج تبت اور بھوٹان میں بھی ہے ۔ بڑے بھائی کی بیوی تمام بھائیوں کی بیوی بن جاتی ہے ۔ ان بھائیوں میں میں اگر کوئی بھائی اپنا علحیدہ بیاہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو علحیدہ مکان لینا پڑتا ہے ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کسی بھائی کو پرانی بیوی پسند نہ کرے یا وہ اسے پسند نہ کرے تو وہ اس بھائی پاس آجاتا ہے جس نے نئی شادی کی ہو اور بھاوج اس کی بھی بیوی بن جاتی ہے ۔ مالابار اور ٹرانکور میں قوم نیر بالادت آباد ہیں ۔ اسی طرح ساحلی علاقہ جو ان سے ہٹ کر ہے بونٹ اور کورگ آباد ہیں ۔ ان میں بھی ہر عورت کے کئی شوہر ہوتے تھے ۔ اس لیے باپ کا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے وراثت عورت کے سلسلہ میں ہوتی ہے ۔ یعنی نواسہ اور بھانجہ وغیرہ بہ نسبت پوتا یا بھتیجا کے زیادہ حق رکھتے ہیں ۔
 
چارلیس شیرنگ لکھتا ہے مغربی تبت وائسراے کی بیوی کا انتقال ہوگیاہو گیا تو اس نے دوسری شادی کرنے کےکی بجائے مناسب سمجھا کہ اپنے بیس سالہ بیٹے کی بیوی کے ساتھ شریک ہوجائے ۔ یہاں یہ بھی رواج تھا کہ کوئی شخص کسی بیوہ سے شادی کرتاہے تو اس تمام لڑکیاں اس کی ذوجیت میں آجاتی تھیں ۔
 
== جنوبی ہند ==
 
== پابندی ==
برطانوی حکومت عہد حکومت میں مدراس ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ مروجہ دستور کے مطابق مرد اور عورت کا تعلق درست نہیں بلکہ یہ زناکاری ہے ۔ اس وجہ سے اس دستور کے مطابق عورت آزاد ہے اور جب چاہے اپنا شوہر تبدیل کرے اور خاندان میں رہ کر مرضی کے مطابق نیا شوہر کا انتخاب کرے ۔ 1896ء میں ایکٹ 4 نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے حق وراثت قائم کرنے لیے ہر شخص باقیدہ بیاہ کرنے پر مجبور ہوا ۔ ریاست ٹرانکور میں مردوں نے اولاد کی پرورش کا بار اٹھانا موقوف کردیاکر دیا تھا ۔ جس کی وجہ سے ایک نیا قانون ریاست کو نافذ کرنا پڑا ۔ جس کی رو سے ہرشخص کو اپنی اولاد کی پرورش ترگ کرنے اور ایسی عورت کے ساتھ جس کا سنبدہم کے طریقہ سے بیاہ ہوا ہو مباشرت کرنا جرم ٹہرایا ۔
 
== ماخذ ==
102,783

ترامیم