"خدیجہ بنت خویلد" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (خودکار: درستی املا ← اور، جس کا، ان کے، اس کو، بنا، \1وں گا، اس ک\1؛ تزئینی تبدیلیاں)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں خدیجہ کے والد لڑائی کے لیے نکلے اور مارے گئے<ref>طبقات ابن سعد، ج 8 ص 9</ref>یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔<ref>طبقات ابن سعد، 81:1، ق1</ref>
== تجارت ==
باپ اور شوہر کے مرنے سے خدیجہ کو سخت دقت واقع ہوئی، ذریعہ معاش تجارت تھی جس کا کوئی نگران نہ تھا تاہم اپنے اعزہ کو مال تجارت دیکر بھیجتی تھیں، ایک وقتدفعہ مال کی روانگی کا وقت آیا تو [[ابو طالب]] نے [[محمد بن عبد اللہ]] سے کہا کہ تم کو خدیجہ سے جا کر ملنا چاہیے، ان کا مال [[شام]] جائے گا۔ بہتر ہے کہ تم بھی ساتھ لے جاتے، میرے پاس روپیہ نہیں ورنہ میں خود تمھارے لیے سرمایہ مہیا کر دیتا۔
 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہرت "امین" کے لقب سے تمام مکہ میں تھی اور آپ کے حسن معاملت، راست بازی، صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاقی کا چرچا عام تھا، خدیجہ کو اس گفتگو کی خبر ملی تو فوراً پیغام بھیجا کہ "آپ میرا مال تجارت لے کر شام جائیں، جو معاوضہ اوروں کو دیتی ہوں آپ کو اس کا مضاعف دوں گی۔" محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا اور مالِ تجارت لے کر میسرہ (غلام خدیجہ) کے ہمراہ بصرٰی تشریف لے گئے، اس سال کا نفع سال ہائے گزشتہ کے نفع سے مضاعف تھا،<ref>طبقات ابن سعد، 81:1، ق1</ref>