"خدیجہ بنت خویلد" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
پندرہ برس کے بعد جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہوئے اور فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا تو سب سے پہلے خدیجہ کو یہ پیغام سنایا وہ سننے سے پہلے [[مومن]] تھیں، کیونکہ ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق دعویٰ کا کوئی شخص فیصلہ نہیں کر سکتا تھا، [[صحیح بخاری]] باب بدۤ الوحی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور وہ یہ ہے،
 
"عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر [[وحی]] کی ابتدا رویائے صادقہ سے ہوئی آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے تھے سپیدۂ۔۔۔۔۔ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا تھا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوت گزیں ہو گئے، چنانچہ کھانے پینے کا سامان لے کر [[غار حرا]] تشریف لے جاتے اور وہاں تخث یعنی عبادت کرتے تھے۔ جب سامان ہو چکتا تو پھر خدیجہ کے پاس تشریف لاتے اور پھر واپس جا کے مراقبہ میں مصروف ہوتے یہاں تک کہ ایکدنایک دن فرشتہ غیب نظر آیا کہ آپ سے کہہ رہا ہے پڑھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا لکھا نہیں، اس نے زور سے دبایا، پھر مجھ کو چھوڑ دیا اور کہا پڑھ تو میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں پھر اس نے دوبارہ زور سے دبایا اور چھوڑ دیا اور کہا پڑھ پھر میں نے کہا میں پڑھا لکھا نہیں اسی طرح تیسری دفعہ دبا کر کہا کہ پڑھ اس خدا کا نام جس نے کائنات کو پیدا کیا۔ جس نے آدمی کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ تیرا خدا کریم ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو جلال الہی سے لبریز تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ سے کہا مجھ کو کپڑا اڑھاؤ، مجھ کو کپڑا اڑھاؤ، لوگوں نے کپڑا اڑھایا تو ہیبت کم ہوئی پھر خدیجہ سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا "مجھ کو ڈر ہے" خدیجہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم متردد نہ ہوں، خدا آپ کا ساتھ نہ چھوڑے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بے کسوں اور فقیروں کے معاون رہتے ہیں، مہمان نوازی اور مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں پھر وہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی [[ورقہ بن نوفل]] کے پاس لے گئیں جو مذہباً [[مسیحیت|نصرانی]] تھے [[عبرانی زبان]] جانتے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے، اب وہ بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ خدیجہ نے کہا اپنے بھتیجے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی باتیں سنو، بولے ابن الاخ تو نے کیا دیکھا؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ کی کیفیت بیان کی تو کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ پر اترا تھا۔ کاش مجھ میں اس وقت قوت ہوتی اور زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو شہر بدر کرے گی، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا ہاں جو کچھ آپ پر نازل ہوا جب کسی پر نازل ہوتا ہے تو دنیا اس کی دشمن ہو جاتی ہے اور اگر اس وقت تک میں زندہ رہا تو تمھاری وزنی مدد کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ کا بہت جلد انتقال ہو گیا اور وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی<ref>[[صحیح بخاری]]، 2-3:1</ref>
 
اس وقت تک [[نماز]] پنجگانہ فرض نہ تھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نوافل پڑھا کرتے تھے خدیجہ بھی آپ کے ساتھ نوافل میں شرکت کرتی تھیں، ابن سعد کہتے ہیں<ref>طبقات ابن سعد، ج 8 ص 10</ref> محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خدیجہ ایک عرصہ تک خفیہ طور پر نماز پڑھا کرتے۔
 
عفیف کندی سامان خریدنے کے لیے مکہ آئے اور [[عباس بن عبد المطلب]] کے گھر میں فروکش ہوئے، صبح کے وقت ایکدایک ندن [[کعبہ]] کی طرف نظر تھی۔ دیکھا کہ ایک نوجوان آیا اور [[آسمان]] کی طرف قبلہ رُخ کھڑا ہو گیا۔ پھر ایک لڑکا اس کے داہنی طرف کھڑا ہوا، پھر ایک [[عورت]] دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی، نماز پڑھ کر یہ لوگ چلے گئے، تو عفیف نے عباس سے کہا کہ کوئی عظیم الشان واقعہ پیش آنے والا ہے، عباس نے جواب دیا، ہاں، پھر کہا جانتے ہو یہ نوجوان کون ہے؟ یہ میرا بھتیجا محمد ہے، یہ دوسرا بھتیجا علی ہے اور یہ محمد کی [[بیوی]] (خدیجہ) ہے، میرے بھتیجے کا خیال ہے کہ اس کا [[مذہب]] پروردگار عالم کا مذہب ہے اور جو کچھ کرتا ہے اس کے حکم سے کرتا ہے، دنیا میں جہاں تک مجھ کو علم ہے اس خیال کے صرف یہی تین شخص ہیں<ref>طبقات ابن سعد، ج 10 ص 11</ref>
 
عقیلی اس روایت کو ضعیف سمجھتے ہیں، لیکن اس کے ضعیف ہونے کی کوئی وجہ نہیں، درایت کے لحاظ سے اس میں کوئی خرابی نہیں، روایت کی حیثیت سے اس کے ثبوت کے متعدد طریق ہیں [[محدث]] [[ابن سعد]] نے اس کو نقل کیا ہے، بغوی، ابویعلی اور نسائی نے اس کو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے، حاکم، ابن حثیمہ، ابن مندہ اور صاحبِ غیلانیات نے اسے مقبول مانا ہے۔ اور سب سے بڑھکر یہ کہ اس کو [[امام بخاری]] نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور اس کو صحیح کہا ہے۔
 
اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شعب ابو طالب میں تھیں۔
تین سال تک [[بنو ہاشم]] نے اس حصار میں بسر کی یہ زمانہ ایسا سخت گزرا کہ طلح کے پتے کھا کھا کر رہتے تھے تاہم اس زمانہ میں بھی حجرتحضرت خدیجہ کے اثر سے کبھی کبھی کھانا پہنچ جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دن [[حکیم بن حزام]] نے جو خدیجہ کا بھتیجا تھا۔ تھوڑے سے گیہوں اپنے غلام کے ہاتھ حضرے خدیجہ کے پاس بھیجے، راہ میں [[ابو جہل]] نے دیکھ لیا، اتفاق سے ابو البختری کہیں سے آ گیا، وہ اگرچہ کافر تھا، لیکن اس کو رحم آیا، ابو جہل سے کہا ایک شخص اپنی [[پھوپھی]] کو کھانے کے لیے کچھ بھیجتا ہے تو کیوں روکتا ہے۔<ref>سیرت ابن ہشام، ج 1 ص 192</ref>
 
== فضائل و مناقب ==