"تعدد شوہری" کے نسخوں کے درمیان فرق

4 بائٹ کا ازالہ ،  9 مہینے پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(ویکائی)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
تعدد شوہری طریقہ پنجاب کے کنیٹ، جاٹ، راجپوت، کشمیر کے ٹھاکروں میں بھی رائج تھی۔ پنجاب میں تعدد شوہری طریقہ کئی بھائی یا کئی لوگ مل کر تعدد شوہری شادی کرتے تھے۔ اس کے لیے وہ مکان کے دو حصہ کرتے تھے۔ پچھلے حصہ میں ان کی مشترکہ بیوی رہتی ہے اور اگلے حصہ میں سارے بھائی رہتے ہیں۔ جب کوئی بھائی بیوی کا پاس جاتا ہے تو دروازے پر اپنا جوتا یا ٹوپی رکھ دیتا ہے اور اس سے دوسرے بھائیوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اندر بھائی گیا ہوا ہے۔ جو لوگ ملازمت یا تجارت کی غرض سے باہر جاتے ہیں تو وہ باری باری گھر آتے تھے۔ سب سے بڑا بھائی گھر پر رہتا ہے اور چھوٹے بھائیوں کو بیوی کے پاس جانے دیتا ہے۔ اس عورت سے جو اولاد پیدا ہوتی وہ بڑے بھائی کی کہلاتی تھی۔ ان کے بچے بھی اپنی ماں کے شوہروں کی زیادہ تعداد پر فخر کرتے تھے اور ماں کے تمام شوہروں کو اپنا باپ سمجھتے تھے۔ بعض مقامات پر پہلا لڑکا بڑے بھائی کا، دوسرا دوسرے بھائی کا، تیسرا تیسرے بھائی کا اور چوتھا چوتھے بھائی کا کہلاتا تھا۔ خواہ ان میں سے کوئی بیوی پاس نہیں گیا ہو مگر بچوں کو سلسلہ وار نامزد کیا جاتا ہے۔ پنجاب میں جن لوگوں کے بھائی نہیں ہوتے تھے وہ دوسروں کے ساتھ مل شادی کرلیتے تھے۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو دھرم بھائی کہتے تھے۔
 
== ٍٍپہاڑیپہاڑی قوموں میں ==
تبت، لداخ اور ڈیرہ وون کی پہاڑی قوموں میں صرف بڑا بھائی اپنی شادی کرتا ہے۔ یہ عورت تمام بھائیوں کی بیوی بن جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے اس سے اتفاق قائم رہتا ہے اور زمین بھی تقسیم نہیں ہوتی ہے اور تمام بھائی ایک بیوی پر مطمعین رہتے ہیں۔ یہی رواج تبت اور بھوٹان میں بھی ہے۔ بڑے بھائی کی بیوی تمام بھائیوں کی بیوی بن جاتی ہے۔ ان بھائیوں میں میں اگر کوئی بھائی اپنا علحیدہ بیاہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو علحیدہ مکان لینا پڑتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کسی بھائی کو پرانی بیوی پسند نہ کرے یا وہ اسے پسند نہ کرے تو وہ اس بھائی پاس آجاتا ہے جس نے نئی شادی کی ہو اور بھاوج اس کی بھی بیوی بن جاتی ہے۔ مالابار اور ٹرانکور میں قوم نیر بالادت آباد ہیں۔ اسی طرح ساحلی علاقہ جو ان سے ہٹ کر ہے بونٹ اور کورگ آباد ہیں۔ ان میں بھی ہر عورت کے کئی شوہر ہوتے تھے۔ اس لیے باپ کا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے وراثت عورت کے سلسلہ میں ہوتی ہے۔ یعنی نواسہ اور بھانجہ وغیرہ بہ نسبت پوتا یا بھتیجا کے زیادہ حق رکھتے ہیں۔