"تعدد شوہری" کے نسخوں کے درمیان فرق

66 بائٹ کا اضافہ ،  9 مہینے پہلے
م
خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب (14.9 core): + زمرہ:شادی+زمرہ:تزویج کے نظام
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
م (خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب (14.9 core): + زمرہ:شادی+زمرہ:تزویج کے نظام)
"اس بات پر فقہا امت کا اجماع ہے کہ اس آیت ٍ(سورہ نساء آیت 3)کی رو سے تعدد ازواج کو محدود کیا گیا ہے اور بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کو ممنوع کر دیا گیا ہے۔ روایات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ چنانچہ احادیث میں آیا ہے کہ طائف کا رئیس غیلا جب اسلام لایا تو اس کی نو بیویاں تھیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حکم دیا کہ چار بیویاں رکھ لے اور باقی کو چھوڑ دے۔ اسی طرح ایک دوسرے شخص (نَوفَل بن معاویہ) کی پانچ بیویاں تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ان میں سے ایک کو چھوڑ دے"۔<ref>تفسیر تفہیم القرآن سید ابوالاعلی مودودی سورہ نساء آیت 3</ref>
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
== ماخذ ==
* تلقین مذہب۔ جے بہادر شا صوفی
* پنجاب کی ذاتیں۔ سر ڈیزل ایپسن
* احمد یار خان : رات کا راز
 
[[زمرہ:تزویج کے نظام]]
[[زمرہ:شادی]]