"تعدد شوہری" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,074 بائٹ کا اضافہ ،  9 مہینے پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب (14.9 core): + زمرہ:شادی+زمرہ:تزویج کے نظام)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
'''تعدد شوہری''' ایسی شادی ہوتی ہے جس میں ایک بیوی کے کئی شوہر ہوتے۔ یہ قدیم زمانے برصغیر اور تبت کی اقوام عام رائج تھی۔ گو یہ اب کم ہوچکی ہے مگر اب بھی لداخ، بھوٹان، نیپال اور ہمالیہ کی قوموں میں ملتی ہے۔ مہابھارت میں پانچ پانڈو کی بیوی [[دروپدی]] اسی شادی کی مثال سامنے ہے۔ فرشتہ پنجاب کی قدیم قوموں میں اس طرح کی شادی کا ذکر کرتا ہے۔ سلطنت خدادا میسور کے ٹیپوسلطان نے اپنا آخری فرمان 1788ء میں جاری کیا جس کہ مطابق ایک عورت کو جو دس شوہر تک کرتی تھی کی ممانیت فرمائی تھی۔ 1910ء میں شملہ کے تعلیم یافتہ جماعت بودہنی سبہا قائم کرکے تعدد شوہری طریقہ کے بیاہ کو ناجائز قرار دیا اور اس طریقہ کے مسدود کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اب اس شادی کا کچھ ذکر ہوجائے۔
 
قوموں میں دستور تھا کہ ایک عورت بیک وقت ایک سے زیادہ شوہر رکھ سکتی تھی۔ جیسے [[مہابھارت]] کے زمانے میں رانی دروپدی پانچ بھائیوں کی بیوی تھی۔ آج بھی [[مڈغاسکر]] اور ملایا کے بعض حصوں اور [[بحر الکاہل|بحرالکاہل]] کے جزیروں کی عورتیں ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ شادیاں کر سکتی ہیں۔ اسکیمو اور [[جنوبی امریکا]] کی عورتیں بھی تعدد شوہری کی قائل ہیں۔ تبت اور شاید [[ہندوستان]] کے بعض پرانے قبائل میں بھی تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ یہ رسم رائج ہے۔ لیکن اہل [[اسلام]] اور [[اہل کتاب]] یعنی [[مسیحی]] و [[یہودی]] قوموں کے ہاں تعدد شوہری قطعاً ناجائز ہے بلکہ اگر کوئی عورت ایسا کرتی ہے تو وہ صریح زنا کی مرتکب سمجھی جاتی ہے۔
 
== رواج ==