"ملا عمر" کے نسخوں کے درمیان فرق

431 بائٹ کا ازالہ ،  7 مہینے پہلے
م (خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب (14.9 core): + زمرہ:افغان سنی مسلم)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
 
== سوچ میں تبدیلی ==
شاید ان کی عمر درس وتدریس اور ترغیب و تبلیغ میں گزر جاتی۔ اور تاریخ میں انکا نام کبھی ثبت نہ ہو پاتا مگر 1994ء کے موسمِ خزان میں ایک لرزہ خیز واقعے نے ان کی زندگی اور افغانستان ک تاریخ کا دھارہ بدل دیا۔ انہیں اطلاع ملی کہ ایک ظالم کمانڈر نے دو نو عمر لڑکیوں کو اغواہ کر لیا ہے، ان کے سر مونڈ دۓ ہیں اور انہیں مردانہ لباس پہنا کر اپنے فوجی کیمپ لے گیا ہے جہاں کٸی بار ان کی عصمت دری کی گٸی ہیں۔ یہ درد ناک واقعہ سن کر ملا محمد عمر سے برداشت نہ ہو سکا۔ انہوں نے اپنے مدرسے کے طلبہ کو جمع کیا جو تیس کے لگ بھگ تھے۔ ان میں سے صرف 16 کے پاس راٸفلیں تھیں۔ ملا عمر ان طلبہ کو لے کر اس ظالم کمانڈر کی چوکی پر ٹوٹ پڑے۔ لڑکیوں کو چھڑوا لیا گیا۔ کمانڈر کو توپ کے دہانے سے لٹکا کر پھانسی دی گٸی اور چوکی پر قبضہ کر لیا۔ طلبہ کی یہ چھوٹی سی جماعت بعد میں ”طالبان“ کہلاٸی۔
یہاں پر یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ [[1989ء]] میں روسی افواج کی واپسی سے [[1994ء]] تک ملا محمد عمر کی زندگی اپنے گا ؤں تک محدود رہتی ہے- لیکن 1994 میں ہونے والا ایک واقعہ محمد عمر کو افغانستان کی سیاست میں جھونک دیتا ہے۔ ان کو یہ خبر ملتی ہے کہ کچھ شر پسند عناصر نے گاؤں کی لڑکیوں کو اغوا کر لیا ہے- ان کی اجتماعی عصمت دری کی خبر سن کر ملا محمد عمر اپنے چند طالب علموں کو جمع کرتے ہوئے ان لڑکیوں کی جان بچاتے ہیں- ان کے یہی ساتھی بعد میں چل کر طالبان کہلاتے ہیں۔
 
دوسرا واقعہ جس نے شاید ملا محمد عمر کو طالبان کی سربراہی کے لیے مجبور کر دیا وہ یہ ہے کہ دو سابق جنگجوؤں نے قندھار کے مرکز میں ایک خوبصورت لڑکے کے لیے ٹینکوں سے جنگ لڑی- لاقانونیت کے اس ماحول کی وجہ سے ملا محمد عمر نے طالبان کو منظم کرنا شروع کیا- رفتہ رفتہ ان کی اہمیت بھی بڑھتی گئی- اور پہلی دفعہ ان کی ضرورت پاکستان کو اس وقت پڑی جب پاکستانی ٹرکوں کے ایک قافلے کو مقامی جنگجوؤں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ ٹرکوں کا یہ قافلہ افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا کے لیے ایک تجارتی راہ کی تلاش میں تھا- بعد میں ملا محمد عمر کی حمایت سے ان ٹرکوں کو چھڑایا گیا-
 
== کابل پر قبضہ ==
215

ترامیم