"موسیقی اور اسلام" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
1ـ عبد اللہ بن ابی سرح کے مقابلہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رد عمل:
 
مشہور ہے کہ عبد اللہ بن ابی سرح مسمان تھا اور ایک ایسے کام کا مرتکب ہوا جس کے سبب وہ مرتد ہوا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا خون بہانا جائز قرار دیا، وہ حضرت عثمان(رض) کا دودھ شریک بھائی تھا، اس لیے حضرت عثمان(رضی) نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر مداخلت کرکے اسے معاف کرانا چاہا ـ حضرت عثمان(رض) اپنے اس بھائی کے ہمراہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہوکر کہا : یہ شخص (عبد اللہ بن سعد) میرا دودھ کا شریک بھائی ہے ـ اس کی ماں نے میرے حق میں مہربانی کی ہے، جب ہم بچے تھے، تو ہمیں اپنی آغوش میں لیتی تھیں اور ..... انھیں میرےبخش واسطے بخشدیں، دنیا اورمیں اس کا خون بہانے سے درگزر کرنا، پیغمبر (ص) نے حضرت عثمان(رض) کے سامنے منہ موڑ لیا ـ عثمان نے دوسری جانب جاکر آنحضرت (ص) سے مخاطب ہو کر پھر وہی جملات دہرائے ـ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر حضرت عثمان(رضی) سے منہ موڑ لیا تاکہ کوئی اٹھـ کر حکم خدا پر عمل کرے اور عبد اللہ بن سعد کا سر تن سے جدا کرے پیغمبر (ص) نے جب دیکھا کہ کوئی اٹھـ کر حکم خدا کو جاری نہیں کر رہا ہے اور ادھر سے
حضرت عثمان(رض) نے دوسری جانب جاکر آنحضرت (ص) سے مخاطب ہو کر پھر وہی جملات دہرائے ـ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر حضرت عثمان(رضی) سے منہ موڑ لیا تاکہ کوئی اٹھـ کر حکم خدا پر عمل کرے اور عبد اللہ بن سعد کا سر تن سے جدا کرے پیغمبر (ص) نے جب دیکھا کہ کوئی اٹھـ کر حکم خدا کو جاری نہیں کر رہا ہے اور ادھر سے
حضرت عثمان(رضی) بھی مسلسل آنحضرت (ص) کے سر مبارک کو بوسہ دیتے ہوئے کہتے ہیں : یا رسول اللہ (ص) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجایئں اس کے مسلمان ہونے کی بیعت کو قبول فرما، تو حضرت نے اس کی بیعت قبول کی ـ