"مالوہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

7,549 بائٹ کا ازالہ ،  2 سال پہلے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
'''مالوہ''' (Malwa) وسطی شمالی ہندوستان کا ایک قدرتی خطہ ہے جو ایک [[آتش فشاں|آتش فشانی]] [[سطح مرتفع]] پر واقع ہے۔ [[ارضیات]]ی طور پر مالوہ سے مراد [[وندھیہ سلسلہ کوہ]] کی [[آتش فشاں|آتش فشانی]] [[سطح مرتفع]] ہے۔ سیاسی اور انتظامی طور تاریخی خطہ مالوہ مغربی [[مدھیہ پردیش]] کے اضلاع اور جنوب مشرقی [[راجستھان]] کے حصوں پر مشتممل ہے۔
 
{4} مسعودی کے تقریبا 125 سال بعد 441ھ میں سرتاج ابدالاں حضرت عبد اللہ چنگال راجا بھوج کی راجدھانی دھارا نگرمیں جلوہ افروز ہوئے اور اس خطے کو ایمانی شعاعوں سے منور فرمایا۔
 
{5} پھر سلطان سما بوم مصری افواج قاہرہ کے ساتھ زبردست لشکر لے کر مالوہ آئے ، اس وقت راجا رام دیو مانڈو کا راج تھا ، باہمی سخت مقابلہ ہوا اس معرکہ جنگ میں بالآخر راجا کو شکست فاش ہوئی ، مانڈو پر سید سلطان بوم مصری کا قبضہ ہوا اور ستر برس تک اس پر مسلمانوں کی حکمرانی رہی۔
 
{6} پھر چوہان خاندان بر سر اقتدار آیا ، مالو دیو چوہان کے دور میں شیخ سلطان غزنوی نے مغرب سے آکر مالوہ فتح کیا اور انہوں نے بھی ستر سال حکومت کی ، ان کے مرنے کے بعد ان کے لڑکے علاوالدین کی کم سنی و نابالغی کی وجہ سے ان کا وزیر دحرم راج نے مختار کل بن کر زمام اقتدار ہاتھ میں لے لی ، جب علاوالدین بالغ ہوا تو کشمکش کا آغاز ہوا 20 سال کی حکمرانی کے بعد دھرم راج لڑائی میں مارا گیا اور سلطان علاو الدین تخت نشین ہوا ، 20 سال حکومت کے بعد جب اس نے رحلت کی تو اس کا لڑکا سلطان کمال الدین مسند نشین مالوہ ہوا ، 12 سال حکمرانی کے بعد سلطان کما الدین جیت مل چوہان کے ہاتھوں قتل ہوا اور جیت مل راجا بن گیا۔
 
{7} پھر راجا بیر سین کے دور حکومت میں ایک افغان مالوہ آیا اور س نے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملاکر راجا کو شکار گاہ میں ختم کیا اور جلال الدین لقب اختیار کرکے 22 سال تک مالوہ پر داد حکمرانی دی ، اس کے بعد اس کا لڑکا سلطان عالم شاہ تخت نشین مالوہ ہوا ، راجا بیر سین نے اپنے لڑکے کی شادی راجا کامرو کے یہاں کی تھی جس نے کھڑک سین کو اپنا ولیعہد بنایا تھا ، راجا کامرو کے بعد کھڑک سین نے مالوہ پر چڑھائی کی اور سلطان اعظم ش
 
 
 
 
شہنشاہ فیروز تغلق کے دور میں ملک نظام دھار کا صوبیدار مقرر ہوا، اس کے دور میں دہلی سلطنت کمزور ہونے لگی۔ غیاث الدین بلبن کے 1365ء-1387ء اور محمد بن فیروز شاہ تغلق کے دور 1389ء-1394ء تک مالوہ دہلی سلطنت کے ماتحت رہا ۔ 1390 ء میں دلاور خان غوری کو دھار کا صوبیدار مقرر کیا۔ اس وقت مالوہ کی راجدھانی دھارتھی۔ 30 جنوری 1394 ء کو شہنشاہ تغلق کی موت ہو گئی تو چھوٹا بیٹا محمود شاہ 23 مارچ 1394 ء کو بر سر اقتدار ہوا ۔ اس دوران بھارت پرتیمور نے حملہ کر کے 18 ڈسمبر 1398 ء کو سلطان محمود کو شکست دے کر برخاست کر دیا ۔ سلطان محمود فرار ہوکر دھار آگیا ۔ جہاں دلاور خاں غوری نے پناہ دی ۔ 1401 ء تک برخاست سلطان محمود دھار میں رہتا رہا ۔ کچھ عرصہ بعد سلطان محمود دھار سے چلا گیا ۔ 1401 ء میں دلاور خان غوری نے دھار پرخود مختار حکومت قائم کر کے عمیدہ شاہ نام سے 1406 ء تک حاکم رہ کر دہلی سلطنت سے آزاد رہا ۔ 1562 ء میں مغلوں کے حملے کے بعد مالوہ دوبارہ دہلی سلطنت کا صوبہ بن گیا جو مغلیہ سلطنت کے برخاست ہوجانے پر مراٹھوں کے قبضہ میں چلاگیا اور مراٹھوں کا اقتدار قائم ہوجانے پر مالوہ مختلف صوبوں میں تقسیم ہو گیا۔
 
مالوہ ایک مدت تک دہلی سلطنت کا ایک صوبہ تھا اس لیے خود مختاری کے دور میں بھی یہاں کا طرز حکومت دہلی کی طرح تھا،مالوہ کا سلطان بھی مطلق العنان ہوا کرتا تھا ، اپنی مشاورت کے لیے امرا٫ و وزرا کا تقرر کرتا ، جو امور سلطنت میں اس کے معاون ہوتے، جن درباروں میں رعایا کو بھی آنے کی اجازت ہوتی انہیں "دربارعام" یا "مجلس عام "کہا جاتااور ایسے ہی درباروں میں ولیعہد کا اعلان ہوتا تھا، نیز سفارتی معاملات بھی ان ہی درباروں میں طے ہوتے تھے ، جنگ و صلح جیسے اہم امور کے لیے جو دربار منعقد ہوتا اسے "دربار خاص"کہتے ، اورجن درباروں میں صرف بادشاہ کے ذاتی امور انجام پاتے انہیں "محفل انس " کہا جاتا،سلطنت کے امور وزیر انجام دیتا جسے "عارض ممالک" کہاجاتا، مذہبی امور کا انتظام "شیخ الاسلام" کے ہاتھ میں ہوتے اور عدلیہ "قاضی " کے حوالہ تھا جس میں وہ آزاد تھا ، سب کا مختار اعلی سلطان ہوا کرتا،سلطان کے ذاتی عملہ میں حاجب، دبیر ، دولت دار ،اسیرآخور{اصطبل} میر شکار وغیرہ ہوتے تھے ، اس کے علاوہ ایک ذاتی حرم بھی ہوتا، امرائے سلطنت کے پانچ سو سے بیس ہزاری تک منصب ہوتے تھے، سلطنت کے امور میں علما٫ و مشائخ کا بڑا مقام تھا ، سلطان ہوشنگ سید اشرف جہانگیر سمنانی کے مشورہ پر سلطنت انجام دیتا تھا، آپ کے خطوط "مکتوبات اشرفیہ" کے نام سے مشہور ہیں، اس کے بعد سلطان محمود خلجی بھی حضرت کے مکتوبات کے مطابق سلطنت انجام دیتا رہا اور سلطان غیاث الدین بھی اسی پر عمل کرتا رہا، سلطان ناصر الدین خلجی کی اپنے لڑکے محمود کو وصیت آپ ہی کے خطوط کے مطابق تھی۔
 
 
 
 
 
مالوہ میں موسم نہ صرف خوشگوار رہتا ہے بلکہ مقیاس الحرارۃ کا چڑھاو اتار غیر معمولی طور پر باکل خفیف ہوتاہے ، البتہ سال کے آخر دو مہینوں میں اچانک موسمی تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور ہندوستان کے دیگر مقامات کی طرح اس صوبہ میں بھی موسم باراں کے بعد دو ماہ کے دوران میں تپ ولرزہ کی شکایت پیداہو جاتی ہے، لیکن جو حضرات ہندوستان کے نشیبی اور زیادہ گرم مقامات میں عرصہ دراز تک قیام کرنے کی وجہ سے کمزور ہو گئے ہیں ، ان کے لیے مالوہ کی آب و ہوا نہایت خوشگوار اور صح بخش ہے ، مغربی ہندوستان کی طرح یہاں بھی برسات ، جاڑا اور گرمی تین موسم ہوتے ہیں ، جون ،جولائی ،اگست اور ستمبر کے مہینوں میں یہاں پر بارش عام طور پر ہلکی اور باققاعدہ ہوتی ہے اور معمولا بارش کا اوسط تقریبا 50 انچ رہتا ہے، اگرچہ برسات ختم ہونے بعد ہی سے صبح کے وقت زیادۃ خنکی ہونے لگتی ہے ، لیکن دسمبر کے آخر تک موسم زیادہ سرد نہیں ہوتا ہے اور جنوری کے مہینہ اور فروری کے ایک حصہ تک سردی پڑتی رہتی ہے، گرمی کے موسم میں تمام ہندوستان کے شمال اور مغرب کی طرف سے نہایت گرم ہوا چلتی ہے س، لیکن اس صوبہ میں گرمی معمولی ہوتی ہے اور صرف چند روز تک پڑتی ہے، گرمی میں دن کے وقت مقیاس الحرارہ یہاں پر 98 درجہ سے اونچا نہیں ہوتا، لیکن مالوہ کی راتیں موسم گرما میں بالعموم سرد اور خوش گوار ہوتی ہیں
 
ابن بطوطہ لکھتا ہے : دھار میں گیہوں کی فصل خوب ہوتی ہے اور وہاں کے  پان  بڑے خوشبودار ، خوش ذائقہ  ہوتے ہیں اور دہلی تک بھیجے جاتے ہیں ، خربوذوں کو بھی ذکر کیا ہے
اجین ، اندور ، دھار ، رتلام ، نولی یا بڑھ نگر ، کچروڈ{ کھاچرود} ادنیل ، منڈیسر ، جاور ، بام پورہ ، مناسا ، آگشاہجہاں پور {شاجاپور} ، دیواس ، ڈگ ، تال ، منڈاول ، ماہد پور ،بھوپال ، دوحد{داہود} ،
 
گزشتہ ادوار میں اجین ، دھار ، مانڈو اور سارنگپور مختلف اوقات میں مالوہ کے پایہ تخت رہے۔
 
 
316

ترامیم