"مالوہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

2,731 بائٹ کا ازالہ ،  2 سال پہلے
م
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
}}
 
'''مالوہ''' (Malwa) وسطی شمالی ہندوستان کا ایک قدرتی خطہ ہے جو ایک [[آتش فشاں|آتش فشانی]] [[سطح مرتفع]] پر واقع ہے۔ [[ارضیات]]ی طور پر مالوہ سے مراد [[وندھیہ سلسلہ کوہ]] کی [[آتش فشاں|آتش فشانی]] [[سطح مرتفع]] ہے۔ سیاسی اور انتظامی طور تاریخی خطہ مالوہ مغربی [[مدھیہ پردیش]] کے اضلاع اور جنوب مشرقی [[راجستھان]] کے حصوں پرپرر مشتممل ہے۔
 
 
{5} پھر سلطان سما بوم مصری افواج قاہرہ کے ساتھ زبردست لشکر لے کر مالوہ آئے ، اس وقت راجا رام دیو مانڈو کا راج تھا ، باہمی سخت مقابلہ ہوا اس معرکہ جنگ میں بالآخر راجا کو شکست فاش ہوئی ، مانڈو پر سید سلطان بوم مصری کا قبضہ ہوا اور ستر برس تک اس پر مسلمانوں کی حکمرانی رہی۔
 
 
{7} پھر راجا بیر سین کے دور حکومت میں ایک افغان مالوہ آیا اور س نے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملاکر راجا کو شکار گاہ میں ختم کیا اور جلال الدین لقب اختیار کرکے 22 سال تک مالوہ پر داد حکمرانی دی ، اس کے بعد اس کا لڑکا سلطان عالم شاہ تخت نشین مالوہ ہوا ، راجا بیر سین نے اپنے لڑکے کی شادی راجا کامرو کے یہاں کی تھی جس نے کھڑک سین کو اپنا ولیعہد بنایا تھا ، راجا کامرو کے بعد کھڑک سین نے مالوہ پر چڑھائی کی اور سلطان اعظم ش
 
<nowiki>*</nowiki>  سن 700 ء میں وکرم آدتیہ کی آزاد اور دہلی سلطنت کے ماتحت حکمرانی
 
<nowiki>*</nowiki> سن 712 ء میں عبدالرحمان المروئی کی دہلی سلطنت کے ماتحت حکمرانی
1555 ء میں سلطان ملک بایزید عرف باز بہادر کی آخری حکمرانی دہلی سلطنت کے ماتحت
 
 
گ
 
 
ابن بطوطہ لکھتا ہے : دھار میں گیہوں کی فصل خوب ہوتی ہے اور وہاں کے  پان  بڑے خوشبودار ، خوش ذائقہ  ہوتے ہیں اور دہلی تک بھیجے جاتے ہیں ، خربوذوں کو بھی ذکر کیا ہے
 
ابو الفضل لکھتا ہے: مالوہ میں خریف اور ربیع دونوں فصلیں خوب پکتی ہیں ، یہاں پر گیہوں افیون، گنا، دھان ، مٹر ، کپاس ، جوار ، باجرہ ، چنا ، مونگ ، اڑد ، السی ، تلی اور نیل کی کاشت ہوتی ہے، آم خربوذہ اور انگور خوب پکتے ہیں
 
جہانگیر لکھتاہے: یہاں بارش کا موسم برا خوش گوار ہوتا ہے اور رات میں لحاف اوڑھنا پڑتا ہے ، آم کے بارے میں لکھتا ہے کہ : بڑے خوش ذائقہ ، رس دار اور بَیر ریشے کے ہوتے ہیں<br />
 
اجین ، اندور ، دھار ، رتلام ، نولی یا بڑھ نگر ، کچروڈ{ کھاچرود} ادنیل ، منڈیسر ، جاور ، بام پورہ ، مناسا ، آگشاہجہاں پور {شاجاپور} ، دیواس ، ڈگ ، تال ، منڈاول ، ماہد پور ،بھوپال ، دوحد{داہود} ،
 
گزشتہ ادوار میں اجین ، دھار ، مانڈو اور
 
 
316

ترامیم