"عزیز میاں" کے نسخوں کے درمیان فرق

885 بائٹ کا اضافہ ،  2 سال پہلے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(گروہ زمرہ بندی: حذف از زمرہ:تمغائے حسن کارکردگی)
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
{{خانہ معلومات موسیقار/عربی}}
'''عزیز میاں''' (ولادت: [[17 اپریل]]، [[1942ء]]، وفات: [[6 دسمبر]]، [[2000ء]]) [[پاکستان]] کے چند مقبول ترین قوالوں میں سے ہیں۔ ان کی پیدائش [[بھارت]] کے شہر [[دلی|دہلی]] میں ہوئی۔
انہوں نے دس برس کی عمر میں قوالی سیکھنا شروع کی اور سولہ سال کی عمر تک قوالی کی تربیت حاصل کرتے رہے۔
عزیزمیاں نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو اور عربی میں ایم اے کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی مشہور قوالیوں میں تیری صورت، مجھے آزمانے والے، میں شرابی شرابی، اللہ ہی جانے کون بشر ہے، نبی نبی یا نبی شامل ہیں۔ طویل قوالی اور حشر کے روز ہی پوچھوں گا۔ انھوں نے خود لکھی‘ خود کمپوز کی۔
ان کی قوالیاں سننے والوں پرآج بھی وجد طاری کر دیتی ہے۔ حکومت نے ان کو کئی اعزازات سے نوازا۔ 1989ء میں پرائڈ آف پرفارمنس بھی دیا۔
 
عزیز میاں کا شمار قدرے روایتی قوالوں میں ہوتا تھا۔ ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی۔ لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی۔ عزیز میاں نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے، جو اکثر اپنے لیے شاعری خود کرتے تھے۔ عزیز میاں نے [[جامعۂ پنجاب|پنجاب یونیورسٹی]]، [[لاہور]] سے [[اردو]] اور [[عربی زبان|عربی]] میں ایم اے کیا ہوا تھا۔
گمنام صارف