"حدیث قدسی" کے نسخوں کے درمیان فرق

8 بائٹ کا اضافہ ،  1 سال پہلے
م
خودکار: درستی املا ← لیے، ہی، ہیں، ہے؛ تزئینی تبدیلیاں
م (خودکار: درستی املا ← لیے، ہی، ہیں، ہے؛ تزئینی تبدیلیاں)
# قرآن کی تلاوت بطور عبادت کی جاتی ہے، جبکہ حدیث قدسی کی تلاوت بطور عبادت نہیں کی جاتی۔
# قرآن مجید کی تمام آیات [[متواتر]] حدیث ہیں، جبکہ حدیث قدسی [[احاد]] حدیث بھی ہو سکتی ہے۔
# قرآن کے الفاظ معجز ھیںہیں جبکہ حدیث قدسی میں اعجاز نہیں
# قرآن صرف جبرائیل کے واسطے سے نازل ھوا ھےہے جبکہ احادیث قدسی بلا واسطہ بھی نازل ھوئی
# قرآن میں تواتر شرط ھےہے جبکہ حدیث قدسی میں نہیں..
# قرآن کی روایت بالمعنی جائز نہیں احادیث قدسی کی جائز ھےہے.
# قرآن بلاطہارت چونا اور حائضہ جنبی کے لئےلیے تلاوت بھی جائز نہیں جبکہ احادیث قدسی کے لئےلیے یە احکام علی اللزوم نہیں
# نماز میں قرآن کی تلاوت ھوتی ھےہے حدیث قدسی کی تلاوت جائز میں
# قرآن کی نسبت صرف اللہ ھیہی کی طرف جبکہ احادیث قسی کی رسول اللہ کی طرف بھی ھوتی ھ
# ےقرآن کی کتابت دور نبویﷺ میں ھوئی جبکہ احادیث کی بعد میں<ref>الطحان، ڈاکٹر،محمود، تیسیرمصطلح الحدیث: 130، مکتبہ قدوسیہ</ref>
 
=== الفاظ روایت ===
104,333

ترامیم