"من لا یحضره الفقیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7))
'''من لایحضرہ الفقیہ'''، [[اہل تشیع]] کی [[كتب اربعہ|کتب احادیث]] میں سے ایک اہم بنیادی حدیث کی کتاب ہے۔ اسے ''ابوجعفر محمد بن علی بن حسن بن موسی بن بابویہ قمی''، معروف بہ [[شیخ صدوق]] (306 تا 381 ق) نے ترتیب دیا۔ شیخ صدوق کا چوتھی صدی میں [[ایران]]،[[خراسان]]، [[عراق]] اور[[شام]] کے بہترین علما میں شمار ہوتا تھا۔ اس کتاب کو اصول اربعہ میں موجود معتبر روایات اور تین سو سے زائد روایان سے روایت کیا گيا ہے۔ یہ تمام راوی شیخ صدوق کے استاد شمار ہوتے ہیں۔<br/>
اس کتاب میں تقریبا چھ ہزار احادیث مسائل اور فقہی مباحث کے متعلق موجود ہیں، یہ کتاب بھی [[کتاب الکافی|کتاب کافی]] کی طرح اپنی تالیف کے زمانہ سے لے کر آج تک شعیہ علما کے نزدیک مستند رہی ہے اور شروع سے ہی اس کی شروحات لکھی جاتی رہی ہیں۔ اور اس اسے درس و تدریس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ من لایحضرہ الفقیہ اور اس کے مصنف کوعلمائے [[اہل سنت]] نے بھی سراہا ہے ۔{{حوالہ درکار}}
== پیش لفظ اردو ترجمہ ==
 
پروردگار عالم نے اپنی رحمت بےپایاں کے تحت اپنے بندوں کی ہدایت کیلئے تقریباَ [[124000]] انبہاء علیہم السلام مبعوث فرمائے اور جناب ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ائمہ طاہرین علیہم السلام کا سلسلہ قائم کیا جن کی طرف سے ہدایت تا قیامت رہے گی۔ چونکہ ائمہ طاہرین علیہم السلام علم لدنی کے حامل تھے اس لئے ان ذوات مقدسہ کے طفیل مختلف النواع علوم کے بے شمار باب کھلے۔ ان علوم کو عام کرنے کے لئے ہمارے بزرگوں نے بیش بہا کاوشیں کیں اور علوم و ارشادات معصومین علیہم السلام پر مبنی ان گنت کتب و رسائل تالیف و تصنیف کئے۔ جن میں سر فہرست کتب اربعہ ہیں یعنی الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب الاحکام اور استبصار۔ بلاشبہ ان میں من لا یحضرہ الفقیہ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ کتاب [[1100]] برس پہلے مرتب کی گئی تھی لیکن مذہب اثنا عشری کی بنیادی کتاب ہونے کے باوجود اس کا ابھی تک کسی بھی زبان میں ترجمہ نہیں کیا گیا۔<ref>من لایحضرہ الفقیہ جلد اول ادارہ نشر معارف اسلامی لاہور (رجسٹرڈ) مترجم سید حسن امداد ممتاز الافاضل (غازی پوری)</ref>
== مزید دیکھیے ==
* [[كتب اربعہ]]
903

ترامیم