"اسلام" کے نسخوں کے درمیان فرق

23 بائٹ کا ازالہ ،  6 مہینے پہلے
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
== لغوی مطلب ==
لفظ اسلام لغوی اعتبار سے سلم سے ماخوذ ہے، جس کے معنی اطاعت اور امن، دونوں کے ہوتے ہیں۔ ایسا در حقیقت [[عربی زبان|عربی]] زبان میں اعراب کے نہایت حساس استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں کہ اردو و فارسی کے برعکس اعراب کے معمولی رد و بدل سے معنی میں نہایت فرق آجاتا ہے۔ اصل لفظ جس سے اسلام کا لفظ ماخوذ ہے، یعنی سلم، س پر زبر اور یا پھر زیر لگا کر دو انداز میں پڑھا جاتا ہے۔
* سَلم (salm) جس کے معنی امن و سلامتی کے آتے ہیں۔
* سِلم (silm) جس کے معنی اطاعت، داخل ہو جانے اور بندگی کے آتے ہیں۔
=== قرآنی حوالہ ===
* اسلام کا ماخذ سلم ''(salm)''سَلم اپنے امن و صلح کے معنوں میں [[قرآن]] کی [[سورۃ|سورت]] [[الانفال]] کی [[آیت]] 61 میں ان الفاظ میں آیا ہے: {{ع}} وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ {{ڑ}} (ترجمہ: اور اگر جھکیں وہ صلح (امن) کی طرف تو تم بھی جھک جاؤ اس کی طرف اور بھروسا کرو اللہ پر۔ بے شک وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے)۔<ref>اردو ترجمے کے ساتھ ایک موقع بنام [http://www.asanquran.com/Quran.cfm آسان قرآن]</ref>
* سلم ''(silm)'' کا لفظ اپنے اطاعت کے معنوں میں قرآن کی سورت [[البقرہ]] کی آیت 208 میں ان الفاظ میں آیا ہے : {{ع}} يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ {{ڑ}} (ترجمہ: اے ایمان والو! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے پورے اور نہ چلو شیطان کے نقش{{زیر}} قدم پر بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے)۔ حوالے کے لیے دیکھیے حوالہ برائے امن و صلح۔
 
354

ترامیم