"خلیق ملتانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
== شادی ==
1935 میں اپنے ماموں میاں اللہ دتہ کے گھر ہوئی ،جس سے  صرف  محمد حیات متولد ہوا ،چونکہ بہاول بخش تلاش معاش اور طلب ادب و شعرشاعری اکثر باہر رہے اور گھر کا رخ کم ہی کیا کرتے تھے
 
== تعلیم : ==
  پرائمری تعلیم امیر پور کنکا  موضع امیر پور سربانہ داخلی  سب تحصیل  رنگپور تحصیل و ضلع مظفر گڑھ میں حاصل کی ۔ مڈل تعلیم گورئمینٹ ہائی سکول [[ملتان]] میں اپنے والد گہنہ خان کے پاس رہ کر حاصل کی ۔ ہائی تعلیم اسلامیہ سکول لدھیانہ میں راقم الحروف میاں نبی بخش پروفیسر گورئمینٹ کالج لدھیانہ کے پاس رہ کر شروع کی ۔ لیکن جماعت دہم سے کتابی علم کو خیر باد کہہ کر دہلی کا رخ کیا  ہوٹل پر کام کر کے نان ونفقع کا انتظام کیا اور باقی وقت شعر وشاعری میں لگانا شروع کیا ۔ کچھ عرصہ بعد دہلی سے خط لکھا کہ مجھے زادراہ بھیجیں  تاکہ میں گھر آسکوں  ۔اس پر ان کے ماموں میاں اللہ دتہ نے دہلی جا کے انہیں واپس لے آئے ، واپسی پر ملتان رہائش رکھی  ان کے احباب میں نوابزادہ نصراللہ خان اور صوفی الم شامل ہیں ۔ کبھی راقم الحروف کے ہاں جمع ہوتے تو معرفت اور صاحبدل ہستیوں کا ذکر ہوتا  ۔جس میں سید اسماعیل شاہ المعروف باوا کرمانوالہ جو اس وفت فیروز پور اسٹیشن پر رہتے تھے  ، اور پاکستان بننے پر اوکاڑہ سے آگے باوا کرمانوالہ اسٹیشن کو موسوم کیا۔
 
== ادبی خدمات ==
ملتان میں اللہ بخش کشفی ملتانی کی معیت میں ہفتہ روزہ ۔   پنچ   ۔رسالہ جاری کیا ۔ تنقیدی صحافت کی  ۔کشفی ملتانی کے پریس اور رسالہ    پیغام    میں تین سال تک کام کیا ۔ اور اسی دوران اپنے استاد محترم حفیظ جالندھری کی تصویر کشمیر کی نظیر میں تصویر ملتان لکھی ۔جو بہت ہی شہرت یافتہ نظم تھی ، ملٹری میں بطور سویلین  ٹیچر رہے  اور رزمق (وزیرستان ) کے حلقہ میں ملٹری  خدمات سر انجام دیں ،  بہاول پور کے زیر اثر مسلم لیگی حضرات سے ملکر لیگ کی خدمات کرتے رہے ،
 
انجمن یاراں  خلیق بہاولپور میں قائم کی ،  کچھ وقت کراچی میں سیاسی معاشرتی   نظمیں لکھ کر دائرہ احباب وسیع کیا ۔ آخری ادبی قیام رحیم یار خان تھا۔  
 
== تعلیم : ==
  پرائمری تعلیم امیر پور کنکا  موضع امیر پور سربانہ داخلی  سب تحصیل  رنگپور تحصیل و ضلع مظفر گڑھ میں حاصل کی ۔ مڈل تعلیم گورئمینٹ ہائی سکول [[ملتان]] میں اپنے والد گہنہ خان کے پاس رہ کر حاصل کی ۔ ہائی تعلیم اسلامیہ سکول لدھیانہ میں راقم الحروف میاں نبی بخش پروفیسر گورئمینٹ کالج لدھیانہ کے پاس رہ کر شروع کی ۔ لیکن جماعت دہم سے کتابی علم کو خیر باد کہہ کر دہلی کا رخ کیا  ہوٹل پر کام کر کے نان ونفقع کا انتظام کیا اور باقی وقت شعر وشاعری میں لگانا شروع کیا ۔ کچھ عرصہ بعد دہلی سے خط لکھا کہ مجھے زادراہ بھیجیں  تاکہ میں گھر آسکوں  ۔اس پر ان کے ماموں میاں اللہ دتہ نے دہلی جا کے انہیں واپس لے آئے ، واپسی پر ملتان رہائش رکھی  ان کے احباب میں نوابزادہ نصراللہ خان اور صوفی الم شامل ہیں ۔ کبھی راقم الحروف کے ہاں جمع ہوتے تو معرفت اور صاحبدل ہستیوں کا ذکر ہوتا  ۔جس میں سید اسماعیل شاہ المعروف باوا کرمانوالہ جو اس وفت فیروز پور اسٹیشن پر رہتے تھے  ، اور پاکستان بننے پر اوکاڑہ سے آگے باوا کرمانوالہ اسٹیشن کو موسوم کیا۔
 
== مرض اور موت : ==
72

ترامیم