"خلیق ملتانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
== خاندان اور والدین ==
<nowiki>:</nowiki>جٹ کلاسن پیشہ کاشتکاری تھا مگر تنگی روزگار اوراراضی ملکیت نہ ہونے کی وجہ پر گہنہ خان نے وطن اور پیشہ کو  خیر باد کہہ دیا ،دیہات سے بھیڑ بکریاں خرید کر ملتان میں سلی خانہ کے قریب واحد بخش وینس کے ساتھ مل کر بیچ دیا کرتے تھے راقم الحروف  میں نبی بخش اس وقت اسلامیہ ہائی سکول دولت گیٹ ملتان میں متعلم تھا اور گہنہ خان فروخت کا حساب مجھ سے لکھوایا کرتے تھے اور یہی رقم ان کی جان لیوا ثابت ہوئی ۔ [[مظفر گڑھ]] کے دیہات کے دو بدمعاش جو ان کے ہاں ملازم تھے  ،تنور کی روٹی میں دھتورہ  ملا دیا جس سے شدت پیاس سے گہنہ خان کی موت واقع ہوئی اور ان بدمعاشوں نے رقم صاف کر لی ۔راقم الحروف نے مظفر گڑھ سے لاش وصول کی ،اور وہی دفن کر دیا ۔
 
== شادی ==
 
== تعلیم : ==
  پرائمری تعلیم امیر پور کنکا  موضع امیر پور سربانہ داخلی  سب تحصیل  رنگپور تحصیل و ضلع مظفر گڑھ میں حاصل کی ۔ مڈل تعلیم گورئمینٹ ہائی سکول [[ملتان]] میں اپنے والد گہنہ خان کے پاس رہ کر حاصل کی ۔ ہائی تعلیم اسلامیہ سکول لدھیانہ میں راقم الحروف میاں نبی بخش پروفیسر گورئمینٹ کالج لدھیانہ کے پاس رہ کر شروع کی ۔ لیکن جماعت دہم سے کتابی علم کو خیر باد کہہ کر دہلی کا رخ کیا  ہوٹل پر کام کر کے نان ونفقع کا انتظام کیا اور باقی وقت شعر وشاعری میں لگانا شروع کیا ۔ کچھ عرصہ بعد [[دہلی]] سے خط لکھا کہ مجھے زادراہ بھیجیں  تاکہ میں گھر آسکوں  ۔اس پر ان کے ماموں میاں اللہ دتہ نے دہلی جا کے انہیں واپس لے آئے ، واپسی پر [[ملتان]] رہائش رکھی  ان کے احباب میں نوابزادہ نصراللہ خان اور صوفی الم شامل ہیں ۔ کبھی راقم الحروف کے ہاں جمع ہوتے تو معرفت اور صاحبدل ہستیوں کا ذکر ہوتا  ۔جس میں سید اسماعیل شاہ المعروف باوا کرمانوالہ جو اس وفت فیروز پور اسٹیشن پر رہتے تھے  ، اور پاکستان بننے پر اوکاڑہ سے آگے باوا کرمانوالہ اسٹیشن کو موسوم کیا۔
 
== ادبی خدمات ==
ملتان میں اللہ بخش کشفی ملتانی کی معیت میں ہفتہ روزہ ۔   پنچ   ۔رسالہ جاری کیا ۔ تنقیدی صحافت کی  ۔کشفی ملتانی کے پریس اور رسالہ    پیغام    میں تین سال تک کام کیا ۔ اور اسی دوران اپنے استاد محترم حفیظ جالندھری کی تصویر کشمیر کی نظیر میں تصویر ملتان لکھی ۔جو بہت ہی شہرت یافتہ نظم تھی ، ملٹری میں بطور سویلین  ٹیچر رہے  اور رزمق (وزیرستان ) کے حلقہ میں ملٹری  خدمات سر انجام دیں ،  [[بہاولپور|بہاول پور]] کے زیر اثر مسلم لیگی حضرات سے ملکر لیگ کی خدمات کرتے رہے ،
 
انجمن یاراں  خلیق بہاولپور میں قائم کی ،  کچھ وقت [[کراچی]] میں سیاسی معاشرتی   نظمیں لکھ کر دائرہ احباب وسیع کیا ۔ آخری ادبی قیام رحیم یار خان تھا۔  
 
== مرض اور موت : ==
تماکو نوشی جس کا شوق لکھنو کے خمیرہ تماکو سے 1931 میں ہوا  تھا  شاعری میں مئے نوشی  بھی ہو گیا جس سے کینسر کا مرض پیدا ہو گیا  ، شروع شروع میں علاج کی طرف توجہ نہ دی مگر جب مرض کافی بڑھ گیا تو حلقہ احباب رحیم یار خان میں خاص طور پر ڈاکٹر عبدالغفور صاحب  ریلوے روڈ رحیم یار خان نے اپنے زیر علاج رکھا  ۔ مگر ڈاکٹر صاحب کی بے لوث خدمات بھی کارگر ثابت نہ ہو سکی ، محمد ساجد قوریجہ کی معرفت نشتر ہسپتال ملتان میں داخل  ہوئے ، بعد میں ان کے عم زادہ  میاں غلام حسین تیمارداری کے فرائض سر انجام دیتے رہے ، باوجود توجہ خاص کے   زائد المعیاد مرض نے مہلت نہ دی اور 66سال کی عمر میں 5دسمبر 1982 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ، اور اپنے نئے آبائی گاؤں چک نمبر4/5 آر   رنگ پور تحصیل وضلعو[[ضلع مظفر گڑھ]] میں سپرد خاک ہوئے ۔
 
انٰا اللہ وانٰاالیہٰ راجیعونِ
72

ترامیم