"صہیونیت" کے نسخوں کے درمیان فرق

36 بائٹ کا اضافہ ،  6 مہینے پہلے
[[جنگ عظیم|<bdi></bdi>]]
 
[[مملکت متحدہ]] کے ساتھ  اتحاد بنانے اور فلسطین کی جانب ہجرت کرنے کے لیے اس کی حمایت حاصل کرلینے کے بعد، صہیونیوں نے یورپی یہود کو وہاں جانے کے لیے بھرتی بھی کیے، خاصکر وہ یہود جو روسی سلطنت کے ان علاقوں میں رہے جہاں سام دشمنی عروج پر تھی۔ جیسے جیسے برطانیہ کو یہودی تحریک کے عربوں پر اثرات کا احساس ہوتا گیا یہ اتحاد کشیدہ رہا   تاہم صہیونی پھر بھی غالب رہے۔ یہ تحریک بالاخر  14 مئی 1948ء کو اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی اور <bdi>[[یہودیوں کا وطن|یہودی قوم کے لیے ایک ریاست]]</bdi> قائم کی۔ اسرائیل میں یہودی آبادی کا تناسب اس تحریک کے ابھرنے کے بعد سے  مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایکیسویں صدی  کے آغاز سے تمام دنیا کے% 40 یہود  اسرائیل میں رہ رہے ہیں جو کسی بھی <bdi>[[یہودی آبادی بلحاظ ملک|ملک کے یہود]]</bdi> کی تعداد سے زیادہ ہے۔ ان دو نتائج  سے صہیونی تحریک کی کامیابی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہےجسکی مثال پچھلے دو ہزار سال کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اکادمی تعلیم کے  مطابق  صہیونی تحریک کو [[جلاوطنی سیاست]] کے تناظر میں  بطور جدید [[قومی آزادی کی جنگیں|قومی آزادی کی تحریک]] دیکھا جاتا ہے۔<ref>A.R. Taylor, "Vision and intent in Zionist Thought", in ''The Transformation of Palestine'', ed. by I. Abu-Lughod, 1971, {{ISBN|0-8101-0345-1}}, p. 10</ref>
 
صہیونیت  کا ایک مقصد  انجذاب یہود یعنی یورپی و دیگرمعاشروں میں یہود کی قبولیت تھی۔اس جلاوطنی کی وجہ سے بہت سے یہود اپنے اختیار کردہ ممالک میں  پردیسی بنکر رہتے رہے چنانچہ وہ جدیدیت اور نئے تصورات سے منفصل و بے بہرہ رہے۔ نام نہاد انجذاب پسند یہودیوں کی یورپی معاشرے میں مکمل جذب ہو جانے کی تمنی کرتے رہے اور جدیدیت اور انجذاب معاشرہ کے لیے وہ اپنی یہودیت ، یہودی روایات و تمدن میں تخفیف کرنے پر  بھی آمادہ تھے۔ تاہم ثقافتی ترکیب (معتدل قسم کی انجذاب کو ثقافتی ترکیب کہتے ہیں) کے تسلسل اور دھیمی ارتقا کےحامیین کو یہ بھی فکر لاحق رہا کہ یہود اپنی جداگانہ شناخت ہی نہ کھو دیں۔ ثقافتی ترکیب نے روایتی یہودی اقدار و عقائدکو برقرار رکھنے اور جدید معاشرے سے ہم آہنگی  کی ضرورت دونوں ہی پر زور دیا  مثلاّ [[سبت|ہفتے]] سے  اتوار کے دن کی چھٹی  و دیگرآداب معاشرت۔<ref>Tesler, Mark. ''Jewish History and the Emergence of Modern Political Zionism.'' Bloomington, IN: Indiana University Printing Press, 1994.</ref>