"صہیونیت" کے نسخوں کے درمیان فرق

66 بائٹ کا اضافہ ،  10 مہینے پہلے
[[علیا]]ہ (لفظی معنی:  چڑھنا) ارض اسرائیل کی جانب  ہجرت ایک موضوع  ہے جو یہودی دعاؤں میں تواتر   سے ملتا ہے۔  صہیونیت میں [[ترک وطن سے انکار|جلاوطنی کی زندگی کی  تردید]](مسترد کرنا) ایک مرکزی پہلو ہے۔<ref>E. Schweid, "Rejection of the Diaspora in Zionist Thought", in ''Essential Papers on Zionism'', ed. By Reinharz & Shapira, 1996, {{ISBN|0-8147-7449-0}}, p.133</ref> حامیین  صہیونیت کا ماننا تھا کہ یہودقوم کو مکمل نشو و نما ، قومی اور انفرادی زندگی  سے محروم رکھا جارہا ہے۔{{citation needed|date=May 2015}}
 
صہیونی عموماً [[عبرانی زبان]] بولنے کو ترجیح دیتے  ہیں، ایک ایسی [[سامی زبانیں|سامی زبان]] جو قدیم [[مملکت یہوداہ|یہوداہ]] میں یہودی آزادی کے دوران وجود میں آئی،جسے انہوں نے جدت دی اور روزمرہ استعمال کے لیے قابلِ [[گفتاری زبان|گفتار]] بنایا۔ صہیونی  <bdi>[[یدیش زبان|یدیش]]</bdi>  بولنے کا انکار بھی کرتے ہیں، جسے وہ ایسی زبان سمجھتے ہیں جو  [[یورپی سام دشمنی|یورپی عقوبت]] میں پروان چڑھی۔ وہ جب اسرائیل منتقل ہوئے  بہت سے اسرائیلیوں نے اپنی جلاوطنی کی [[مادری زبان]] بولنے سے انکار کر دیا اور نئی عبرانی زبان اور نام اختیار کیے۔عبرانی نہ صرف نظریاتی وجوہ سے اپنائی گئی بلکہ اس زبان کی وجہ سے نئی ریاست کے مختلف زبان بولنے والےشہریوں کو ایک زبان پر مجتمع ہونے کا موقع ملا۔یوں  انہوں نے اپنے سیاسی اور [[پگھلاتی ہنڈیا|ثقافتی  بندھن کو مضبوط]] کیا۔{{citation needed|date=May 2015}}
 
صہیونی نظریات میں سے اہم جو [[اسرائیلی اعلان آزادی|اسرائیلی قرارداد آزادی]] میں پیش کی گئیں۔
1903ء میں ، برطانونی  نوآبادیاتی سیکریٹری [[یوسف چیمبرلین]] نے  ھرتزل کو یہودی آبادکاری کے لیے [[زیر حمایت|زیر حمایت مستعمر]] یوگنڈا کا 5000 [[مربع میل]] علاقہ دینے کی پیشکش کی<ref name="PasachoffLittman2005">{{cite book|author1=Naomi E. Pasachoff|author2=Robert J. Littman|title=A Concise History of the Jewish People|url=https://books.google.com/books?id=z4eaj09hscAC&pg=PA240|year=2005|publisher=Rowman & Littlefield|isbn=978-0-7425-4366-9|pages=240–242}}</ref> جو [[یوگنڈا منصوبہ|یوگنڈا سکیم]] کہلائی۔ عالمی صہیونی تنظیم کی چھٹی نشست میں اسی سال  اس پیشکش کو متعرف کرایا گیا جس پر ایک غضب ناک بحث واقع ہوئی۔ کچھ گروہوں کا خیال تھا کہ اس پیشکش کی منظوری [[فلسطین]] میں یہودی ریاست کے قیام کو  مزید دشوار کردیگا۔ ارض افریقہ کو [[ارض مقدسہ]] کیلئے بطور [[پیش کمرہ]] بیان کیا گیا۔ یہ رائے شماری کے ذریعے یہ فیصلہ کیا گیا کہ  تفتیش کے لیے زیر غورافریقی میدان مرتفعی علاقے میں ایک وفد بھیجا جائے۔ آمدہ سال  مجلس نے ایک وفد تفتیش کے لیے  بھیجا ،  وفد کے مطابق معتدل  [[آب و ہوا]] یورپی آبادکاروں کے لیے تومناسب تھی تاہم  مقامی [[ماسائی]] آبادی کیلئےاتنے زیادہ یورپی لوگوں کا ان کے علاقے میں امڈ آنا  قابل قبول نہ تھا۔ مزید برآں  وفد کو وہ خطہ [[ببر شیر]]وں اور دیگر جنگلی جانور کی بہتات کی وجہ سے نامناسب معلوم ہوا۔
 
1904ء میں ہرتزل کی موت کے بعد  جولائی 1905ء میں ساتویں نشست کے  چوتھے دن مجلس نے فیصلہ کیا کہ   برطانوی پیشکش کو مسترد کیا جائے اور آدم رونورکے مطابق’’ '''آئندہ کی تمام تر جدوجہدکا رخ   فقط خطہ فلسطین پر مرکوز رکھاجائےگا'''‘‘۔<ref name="PasachoffLittman20052" /> [[یہودی اقلیمی تنظیم]] کا حامی  [[اسرائیل زینگوئیل|اسرائیل زنگویل]]  کی آرزو تھی کہ  یوگنڈا تجویز کے جواب میں ریاست کہیں بھی  بنائیبنالی جائے جسے بہت سے مندوبین مجلس کی حمایت حاصل ہوئی۔   رائے شماری کے بعد ، جسے [[ماکس نورڈاؤ]] نے پیش کیا ، زنگویل   نے نورڈاؤ پر الزام لگایا کہ ’’ تاریخ  کی عدالت میں نورڈاؤ اس کا ذمہ دار ٹھرایا جائے گا‘‘ جبکہ اس کے حامیوں نے  [[میناکھیم اسشکن]] کے  روس نواز اتحاد کورائے شماری کے نتیجہ کا ذمہ دار ٹھرایا۔<ref name="Rovner2014n2">{{cite book|author=Adam Rovner|title=In the Shadow of Zion: Promised Lands Before Israel|url=https://books.google.com/books?id=Ej_UBAAAQBAJ&pg=PA45|date=December 12, 2014|publisher=NYU Press|isbn=978-1-4798-1748-1|page=81|quote=On the afternoon of the fourth day of the Congress a weary Nordau brought three resolutions before the delegates: (1) that the Zionist Organization direct all future settlement efforts solely to Palestine; (2) that the Zionist Organization thank the British government for its other of an autonomous territory in East Africa; and (3) that only those Jews who declare their allegiance to the Basel Program may become members of the Zionist Organization." Zangwill objected… When Nordau insisted on the Congress’s right to pass the resolutions regardless, Zangwill was outraged. “You will be charged before the bar of history,” he challenged Nordau… From approximately 1:30 p.m. on Sunday, July 30, 1905, a Zionist would henceforth he defined as someone who adhered to the Basel Program and the only “authentic interpretation” of that program restricted settlement activity exclusively to Palestine. Zangwill and his supporters could not accept Nordau’s “authentic interpretation" which they believed would lead to an abandonment of the Jewish masses and of Herzl’s vision. One territorialist claimed that Ussishkin’s voting bloc had in fact “buried political Zionism”.}}</ref>
 
یہودی جاگیردارانہ تنظیم کا مجلس سے رخصتی کا بہت کم اثر  پڑا۔ <ref name="PasachoffLittman20053" /><ref name="Epstein2016">{{cite book|author=Lawrence J. Epstein|title=The Dream of Zion: The Story of the First Zionist Congress|url=https://books.google.com/books?id=OLxnCgAAQBAJ&pg=PA97&dq=uganda+zionist+maasai+lions|date=January 14, 2016|publisher=Rowman & Littlefield Publishers|isbn=978-1-4422-5467-1|page=97}}</ref><ref name="Mendes-FlohrReinharz1995">{{cite book|author1=Paul R. Mendes-Flohr|author2=Jehuda Reinharz|title=The Jew in the Modern World: A Documentary History|url=https://books.google.com/books?id=0Bu5GnLZCw0C&pg=PA552&dq=jewish+zionist+territorial+organization|accessdate=January 22, 2016|year=1995|publisher=Oxford University Press|isbn=978-0-19-507453-6|page=552}}</ref>[[صہیونی اشتراکی عمالی جماعت]] نے بھی خارج از فلسطین خود مختار خطہ یہودکی یہودی جاگیردارانہ تنظیم کے نظریے کی حمایت کی تھی۔<ref name="harn">Ėstraĭkh, G. ''In Harness: Yiddish Writers' Romance with Communism. Judaic traditions in literature, music, and art.'' [[سیراکیوز، نیو یارک]]: Syracuse University Press, 2005. p. 30</ref> صہیونیت کے متبادل کے طور پر ،پر، سوویت حکام نے 1934ء میں <bdi>[[خود مختار یہودی اوبلاست]]</bdi> قائم کی ،  جو  روس میں ابھی تک باقی روسی خود مختار اوبلاسٹ ہے۔<ref name="Gessen2016">{{cite book|author=Masha Gessen|title=Where the Jews Aren't: The Sad and Absurd Story of Birobidzhan, Russia's Jewish Autonomous Region|url=https://books.google.com/books?id=j3YkCwAAQBAJ|date=August 23, 2016|publisher=Knopf Doubleday Publishing Group|isbn=978-0-8052-4341-3}}</ref>
 
=== قرارداد بالفور اور تعہد  فلسطین ===