"رکھما بائی" کے نسخوں کے درمیان فرق

8 بائٹ کا ازالہ ،  5 مہینے پہلے
م
خودکار: درستی املا ← جائداد، کر دیا، ہو گئی، لیے، کی بجائے، ہو گئے، وکلا، اور، ہو گیا؛ تزئینی تبدیلیاں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
 
م (خودکار: درستی املا ← جائداد، کر دیا، ہو گئی، لیے، کی بجائے، ہو گئے، وکلا، اور، ہو گیا؛ تزئینی تبدیلیاں)
'''رکھما بائی راوت''' [[بھارت]] کی پہلی خاتون [[طبیب|ڈاکٹر]] تھیں۔ بچپن ہی میں جب ان کی عمر دو سال تھی ان کے والد جناردھن باندو راجن کی وفات ہو گئی، شوہر کی وفات کے بعد ان کی والدہ نے ممبئی کے ایک سماجی کارکن اور سرجن سخارام ارجن سے شادی کر لی۔ ان کے خاندان میں دوسری شادی کی اجازت تھی۔
 
جب وہ صرف گیارہ سال کی تھی ان کی شادی دادا بھکجی سے ہو گئی، تاہم وہ اپنی بیوہ والدہ جینتی بائی کے گھر رہتی تھیں، جو اپنے دوسرے شوہر سخارام ارجن کے ساتھ تھی۔ جب دادا اور اس کے اہل خانہ نے رکھما بائی کو گھر لے جانے پر زور دیا تو انہوں نے انکار کردیاکر دیا اور ان کے سوتیلے والد نے اس فیصلے کی حمایت کی۔ اس کے نتیجے میں 1884ء سے عدالتی مقدمات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں بچوں کی شادی اور خواتین کے حقوق پر ایک بڑی عوامی بحث ہوئی۔ رکھما بائی نے اس دوران اپنی تعلیم جاری رکھی۔ اس معاملے میں انہیں بہت سارے لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی اور جب انہوں نے اپنی طب کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو [[لندن]] کے اسکول آف میڈیسن میں بھیجنے اور تعلیم حاصل کرنے کے لئےلیے ایک فنڈ تیار کیا گیا۔ وہاں انھوں نے 1895ء میں گریجویشن مکمل کیا اور [[بھارت]] واپس آ گئی۔ [[بھارت]] کی پہلی خاتون ڈاکٹروں میں سے ایک بن گئیں،گئیں اور انہوں نے [[سورت]] کے خواتین اسپتال میں اپنی خدمات انجام دی۔
 
== ابتدائی زندگی ==
رکھما بائی [[نجارت]] سے وابستہ ایک متوسط گھرانہ میں جناردھن بھاندو راجن اور جینتی بائی کے ہاں پیدا ہوئی، دو سال عمر ہوئی تو ان کے والد جناردھن کی موت ہوگئی۔ہو گئی۔ والدہ جینتی بائی نے ساری جائیدادجائداد رکھما بائی کے نام کر دی۔ جینتی بائی نے ایک ڈاکٹر سخارام ارجن سے شادی کر لی۔ جب وہ گیارہ سال کی ہوئی تو ان کی ماں نے اپنی بیٹی کا نکاح دادا بھکاجی سے کر دیا۔ لیکن رکھما بائی والدہ کے ساتھ انھیں کے گھر میں رہتی تھی،تھی اور فری چرچ مشن لائبریری کی کتابیں استعمال کر کے گھر میں تعلیم حاصل کرتی تھی۔ ایک سال بعد جب رکھما بائی بارہ سال کی ہوئی تو دادا (ان کے شوہر) کے اہل خانہ سسرال لے جانے پر بضد ہو گئے، لیکن رکھما بائی نے دادا کے ساتھ رہنے سے انکار کردیا،کر دیا اور سخارام ارجن نے ان کے فیصلے کی حمایت کی اور پورا ساتھ دیا۔<ref name="consent">{{cite journal|doi=10.1177/026272809201200202|title=The Age of Consent Act (1891) Reconsidered: Women's Perspectives and Participation in the Child-Marriage Controversy in India|journal=South Asia Research|volume=12|issue=2|pages=100–118|year=1992|last1=Anagol-Mcginn|first1=Padma}}</ref> مارچ 1884 میں داداجی نے اپنے وکیلوں کے توسط سے ایک عدالتی نوٹس بھیجا، جس میں سخارام ارجن پر رکھما بائی کو روکنے اور منع کرنے کا الزام بھی تھا۔ سخارام ارجن نے سماجی خطوط کے ذریعہ جواب دیا کہ وہ اسے روک نہیں رہے ہیں، لیکن جلد ہی وہ بھی قانونی امداد لینے پر مجبور ہوگئے۔ہو گئے۔ وکلاءوکلا کے توسط سے رکھما بائی نے دادا کے ساتھ رہنے سے انکار کرنے کی وجوہات پر مبنی خط لکھا۔ دادا کا دعوی تھا کہ رکھما بائی کو اس لئےلیے منع کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے والد کی املاک کی مالک ہیں۔<ref name="case">{{cite book|doi=10.1093/acprof:oso/9780195695731.003.0001|chapter=Rukhmabai and Her Case|publisher=Oxford University Press|author=Chandra, Sudhir|title=Enslaved Daughters|year=2008|editor=Chandra, Sudhir}}</ref>
 
== عدالتی چارہ جوئی ==
بالآخر سنہ 1885 میں "ازدواجی حقوق کی بحالی" کے مطالبہ پر عدالتی چارہ جوئی کا آغاز ہوا اور اس مقدمہ کو جسٹس جج رابرٹ ہل پنہے نے منظور کیا۔ پنہے نے واضح کیا کہ انگریزی مثالوں کا اطلاق یہاں نہیں ہوتا کیوں کہ انگریزی قانون کا اطلاق بالغوں پر ہوتا ہے۔ انہوں نے فیصلہ سنایا کہ: "رکھما بائی کی شادی اس کے "بے بس بچپن" میں ہوئی ہے اور وہ کسی جوان عورت کو زبردستی مجبور نہیں کرسکتے ہیں۔" پِنہے اس آخری معاملے کی سماعت بعد ریٹائر ہو گئے۔ پھر 1886ء میں یہ کیس ٹرائل کے لئےلیے سامنے آیا۔ رکھما بائی کے وکلا میں جے ڈی انورٹی جونیئر اور تلنگ شامل تھے، کچھ ہندو مذہبی لوگوں کادعوی تھا کہ جسٹس پنہے کے ذریعہ سنایا گیا موجودہ فیصلہ ہندو حدود کے تقدس کا احترام نہیں کرتا ہے، پنہے کے فیصلے پر کڑی تنقید ایک ہفتہ واری مقامی مراٹھی اخبار میں وشوناتھ نارائن منڈلک (1833–89) کے ذریعہ شائع ہوئی جس میں دادا جی کی حمایت تھی، اس میں لکھا تھا کہ پنہے ہندو قوانین کی روح کو نہیں سمجھتے اور "متشدد طریقوں" سے اصلاح چاہتے ہیں۔ دریں اثنا ، ٹائمس آف انڈیا میں ایک ہندو خاتون کے کالمی نام کے تحت مضامین کا ایک سلسلہ اس معاملے کے دوران (اور اس سے پہلے) "عوامی رد عمل کا اظہار" شائع ہونے لگا، بعد میں انکشاف ہوا کہ کالم نگار کوئی اور نہیں بلکہ رکھما بائی ہی تھی۔ بہت حال رکھما بائی نے پوری جرأت اور بہادری سے لکھا کہ وہ اس فیصلے پر عمل نہیں کر سکتی، اس کےکی بجائے زیادہ سے زیادہ جرمانہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، اس سے مزید ہنگامہ آرائی اور بحث و مباحثہ ہوا۔ بالگنگادھر تلک نے کیسری میں لکھا کہ رکھما بائی کی نافرمانی، انگریزی تعلیم کا نتیجہ تھی اور اس نے اعلان کیا کہ ہندو مذہب کو خطرہ ہے۔<ref name="oxford_journal1">{{مرجع كتاب|first=Sudhir|last=Chandra|title=Enslaved Daughters: Colonialism, Law and Women's Rights|url= http://www.oxfordscholarship.com/view/10.1093/acprof:oso/9780195695731.001.0001/acprof-9780195695731|language=en|doi=10.1093/acprof:oso/9780195695731.001.0001|isbn=978-0-19-569573-1|year=2008|publisher=Oxford University Press|archive-url= https://web.archive.org/web/20190414232719/http://www.oxfordscholarship.com/view/10.1093/acprof:oso/9780195695731.001.0001/acprof-9780195695731|archive-date=2019-04-14}}</ref>
 
بالآخر کئی مقدمات اور فیصلے کے بعد رکھما بائی نے [[ملکہ وکٹوریہ]] کو ایک خط لکھا، پھر ملکہ نے اپنے اختیارات کا استعمال کر کے عدالت کو برخاست کرنے اور شادی کو تحلیل کرنے کا فرمان جاری کیا۔ جولائی 1888ء میں داداجی کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا اور دادا نے دو ہزار روپے کی ادائیگی کی شرط پر رکھما بائی پر اپنا دعوی چھوڑ دیا۔ تاہم رکھما بائی تعلیم حاصل کرنے کے لئےلیے [[انگلینڈ]] روانہ ہوگئی۔ہو گئی۔ اس معاملے نے بہرامجی مالاباری (1853–1912) جیسے اصلاح پسندوں کو بہت متاثر کیا جنھوں نے اس موضوع پر بڑے پیمانے پر لکھا تھا۔ خواتین کے رسائل و اخبار میں حقوق نسواں کے مباحثے خوب ہونے لگے، ساتھ ساتھ اس کو [[برطانیہ]] میں بڑی دلچسپی کے ساتھ اٹھایا جا رہا تھا۔ اس مقدمے کی وجہ سے ایج کانسنٹ ایکٹ 1891ء کی منظوری میں مدد ملی، جس کے تحت بچوں کی شادی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔<ref name="oxford_journal1" /><ref>{{مرجع كتاب|url= https://books.google.co.uk/books?id=KCdeI2FMsp0C|title=At the Heart of the Empire: Indians and the Colonial Encounter in Late-Victorian Britain|last=Burton|first=Antoinette|date=1998-03-30|publisher=University of California Press|isbn=978-0-520-91945-7|language=en|archive-url= https://web.archive.org/web/20190306044745/https://books.google.co.uk/books?id=KCdeI2FMsp0C|archive-date=2019-03-06}}</ref><ref name="consent">{{cite journal|doi=10.1177/026272809201200202|title=The Age of Consent Act (1891) Reconsidered: Women's Perspectives and Participation in the Child-Marriage Controversy in India|journal=South Asia Research|volume=12|issue=2|pages=100–118|year=1992|last1=Anagol-Mcginn|first1=Padma|authorlink=Padma Anagol}}</ref>
 
 
== خدمات ==
[[ممبئی]] کے مشہور "کیم ہاسپٹل" کے ڈاکٹر اڈتھ پیچے نے رکھما بائی کی خوب حوصلہ افزائی کی، انھوں نے ہی ان کی تعلیم کے لئےلیے فنڈ جمع کرنے میں مدد کی۔ رکھما بائی 1889ء میں "اسکول آف میڈیسن برائے خواتین" [[لندن]] میں تعلیم حاصل کرنے [[انگلینڈ]] چلی گئیں۔ رکھما بائی کو بھارت میں خواتین کو طبی امداد فراہم کرنے کے لئےلیے بہت سے دوسرے لوگوں نے فنڈ قائم کرنے میں مدد کی۔ شراکت کرنے والوں میں شیوجی راؤ ہولکر بھی شامل تھے۔ رکھما بائی پھر اپنے آخری امتحان کے لئےلیے گئیں پھر 1894ء میں [[سورت]] کے ایک اسپتال میں داخل ہونے کے لئےلیے ہندوستان واپس آئیں۔ 1904ء میں بھکاجی کا انتقال ہوگیاہو گیا اور رکھمابائی نے ہندو روایت کے مطابق بیوہ خواتین کی سفید ساڑیاں پہنیں۔ [[راجکوٹ]] میں خواتین کے سرکاری اسپتال میں خدمات انجام دی۔ 1929 یا 1930 میں ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے [[ممبئی]] میں پینتیس سال چیف میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اصلاحات عام کرنے،کرنے اور غلط روایات کو ختم کرنے کی تحریک کو جاری رکھا۔<ref name="Encyclopedia of Women Social Reformers">{{مرجع كتاب|url= https://books.google.co.uk/books?id=rpuSzowmIkgC|title=Encyclopedia of Women Social Reformers|last=Rappaport|first=Helen|تاريخ=2001|publisher=ABC-CLIO|isbn=9781576071014|language=en|pages=599|archive-url= https://web.archive.org/web/20171201055214/https://books.google.co.uk/books?id=rpuSzowmIkgC|archive-date=2017-12-01}}</ref>
 
== مقبولیت ==
102,784

ترامیم