"فاطمہ خاتون" کے نسخوں کے درمیان فرق

27 بائٹ کا ازالہ ،  2 مہینے پہلے
م
خودکار: درستی املا ← اور، جس کو؛ تزئینی تبدیلیاں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
 
م (خودکار: درستی املا ← اور، جس کو؛ تزئینی تبدیلیاں)
'''فاطمہ خاتون بنت نجم الدین ابی الشکور ایوب بن شادی بن مروان'''، '''ست الشام''' ([[شام]] کی سب سے بہترین خاتون) کے لقب سے مشہور تھیں، [[صلاح الدین ایوبی]] کی بہن ہیں۔ بعض مؤرخین ان کا نام "زمرد" بھی بتاتے ہیں جوغلط ہے۔ یہ ان کے والد [[نجم الدین ایوب]] کا لقب تھا جو اپنے بھائی اسد الدین شیر کوہ کے ساتھ [[نور الدین زنگی]] وزرا میں سے تھے،تھے اور یہ لقب انھیں سلطان نے ہی دیا تھا۔<ref>سيرة صلاح الدين من كتاب النوادر السلطانية والمحاسن اليوسفية، لبهاء الدين بن شداد </ref>
 
فاطمہ کی پہلی شادی '''عمر بن لاجین''' سے ہوئی تھی، لیکن کچھ ہی عرصہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ پھر دوسری شادی ان کے چچا زاد بھائی [[محمد بن شیر کوہ]] سے ہوئی جو [[حمص]] کے حاکم تھے۔
 
== کارنامے ==
فاطمہ خاتون [[دمشق]] میں بیمارستان نوری کے سامنے ایک بڑے گھر میں رہتی تھیں جسکوجس کو انھوں نے [[صلیبی|صلیبیوں]]وں اور [[فرنگی|فرنگیوں]]وں سے بچنے کے لیے ایک محفوظ مقام بنایا تھا، فقرا ومساکین کو صدقات و عطایا بہت دیا کرتی تھیں۔ ابن قاضی شہبہ نے ان کے مناقب و کارنامے پر ایک رسالہ تحریر کیا ہے۔
 
ابو شامہ مقدسی کہتے ہیں: [[سبط ابن جوزی]] کہتے ہیں: «فاطمہ خواتین کی سردار، خوب احسان و صدقات کرنے والی اور عاقلہ صالحہ خاتون تھیں، اپنے گھر میں شربت، معجون اور دیگر کھآنے کی اشیا ہر سال ہزاروں دینار کی بناتی تھیں۔ ہم کہتے تھے واقعی یہ "ست الشام" ہیں»۔
 
== الکرک کا حادثہ ==
فاطمہ خاتون نے اپنے بیٹے محمد بن لاجین کے ساتھ ایک قافلہ کے ہمراہ حج کے لیے روانہ ہوئی، جب [[الکرک]] کے علاقہ میں پہونچی تو وہان کرک صلیبی گورنر ارناط نے قافلہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی، جب اس واقعی کی اطلاع [[صلاح الدین ایوبی]] کو ملی تو انھوں نے انتقام کی اوراپنے ہاتھ سے ارناط کو قتل کرنے کی قسم کھائی اور اپنی قسم کو پورا کر دکھایا۔
 
== وفات ==
فاطمہ ست االشام کی وفات جمعہ کے روز 16 ذی قعدہ سنہ 616 ہجری میں [[دمشق]] میں بیمارستان نوری کے سامنے ان کے گھر میں ہوئی،ہوئی اور مدرسہ حسامیہ میں دفن کیا گیا۔ ان کے جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک تھے زور زورسے دعائیں کر رہے تھے، کہا جاتا ہے کہ اس سے پہلے کسی خاتون کے جنازہ میں اتنی تعداد نہیں دیکھِی گئی۔<ref>مجلة رأس الخيمة - العدد 354 - عفت وصال حمزة. </ref>
 
== حوالہ جات ==
102,778

ترامیم