"صہیونیت" کے نسخوں کے درمیان فرق

1 بائٹ کا ازالہ ،  4 مہینے پہلے
اس قرارداد نے فلسطین میں [[اسرائیل|یہودی  وطن]] کی توثیق کچھ یوں کی:<blockquote><small>
{{اقتباس|بادشاہ کی حکومت  فلسطین میں یہود کے لیے قومی وطن کے قیام کو التفات سے دیکھتی ہے اور اپنی بہترین کاوش کے استعمال سے اس مقصد  کے حصول کے لیے تسہیل مہیا  کریں گے-یہ وضاحت سے سمجھا جائے کہ کچھ ایسا نہ کیا جائے گا  جس سے غیر یہودی فلسطینی طبقات کے شہری اورمذہبی حقوق صلب  ہوں اور نہ ہی دیگر ممالک کے یہود کے سیاسی حیثیت اور حقوق  جو انکو حاصل ہوں}}-<ref>{{cite book| author-link=Malcolm Yapp| last=Yapp| first=M.E.| title=The Making of the Modern Near East 1792-1923| date=September 1, 1987| publisher=Longman| location=Harlow, England| isbn=978-0-582-49380-3| page=290}}</ref>
</small></blockquote>[[فائل:King Crane Commission 1919 Summary of Arguments Presented to the Commission For and Against Zionism.jpg|دائیں|تصغیر|1919ء [[پیرس امن کانفرنس 1919ء|پیرس امن اجتماع]] میں بین الحلفاء وفد مقامی آبادی کے تاثرات کے تعین کیلئے فلسطین بھیجا گیا ، وفد نے مدعیوں کے صہیونیت کی حمایت اور مخالفت دونوں کے دلائل پر مبنی درج بالا روداد تخلیص کی-]]1922ء میں ،  [[جمیعت اقوام]]  نے قرارداد منظور کرکے برطانیہ کو [[تعہدی فلسطین|تعہد فلسطین]]  عطا کیا۔<blockquote><small>
اس  تعہد کا مقصد یہودی قومی وطن کے قیام کا تحفظ ،خود مختار ادارےکھڑےکرنا اور فلسطینی شہریوں کے بلا لحاظ مذہبی اور [[شہری حقوق]] کا تحفظ تھا -<ref>{{cite web|url=http://www.stateofisrael.com/mandate|title=League of Nations Palestine Mandate: July 24, 1922|website=www.stateofisrael.com|accessdate=March 12, 2018}}</ref>
</small></blockquote>ویزمین کو <bdi>[[اعلانِ بالفور|بالفور قرارداد]]</bdi> میں اس کے کردار کی وجہ سے صہیونی تحریک کا رہنما چنا گیا جو وہ 1948ء تک رہا اور  بعد ازاں آزادی ملنے کے بعد اسرائیل کا پہلا [[وزیر اعظم]]  بنا۔
[[فائل:King Crane Commission 1919 Summary of Arguments Presented to the Commission For and Against Zionism.jpg|دائیں|تصغیر|1919ء [[پیرس امن کانفرنس 1919ء|پیرس امن اجتماع]] میں بین الحلفاء وفد مقامی آبادی کے تاثرات کے تعین کیلئے فلسطین بھیجا گیا ، وفد نے مدعیوں کے صہیونیت کی حمایت اور مخالفت دونوں کے دلائل پر مبنی درج بالا روداد تخلیص کی-]]
خواتین کی [[بین الاقوامی]] یہودی خواہری (برادری) کی متعدد اعلی درجے کی ترجمانوں نے [[خواتین کی پہلی یہودی مجلس]] میں شرکت کی، جو [[ویانا]]  [[آسٹریا]] میں مئی 1923ء کو منعقد ہوئی۔ قراردوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ '''<big>’’</big>''' لہٰذا معلوم ہوتا  ہے کہ تمام یہود کی ذمہ داری ہےکہ   فلسطینی سماجی اقتصادی  تعمیر نو میں  اعانت اور اس ملک میں یہودی آبادکاری میں مدد دیں'''<big>‘‘</big>''' ۔<ref name="jwa">{{cite web|url=https://jwa.org/encyclopedia/article/international-council-of-jewish-women|title=International Council of Jewish Women|author=Las, Nelly|publisher=International Council of Jewish Women|accessdate=20 November 2018|language=}}</ref>