"روزہ (اسلام)" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,034 بائٹ کا اضافہ ،  4 مہینے پہلے
* [[سلیمان بن جعفر جعفری]] نے حضرت ابو الحسن [[امام رضا]] علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جس پر [[ماہ]] [[رمضان]] کے چند دنوں کے روزے [[قضا]] ہیں کیا وہ ان کو متفرق طور پر رکھے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا اگر [[ماہ]] [[رمضان]] کے [[قضا]] روزے متفرق طور پر رکھے تو کوئی حرج نہیں ہے اور جو روزے متفرق طور پر نہیں رکھ سکتے وہ [[کفارہِ ظہار]] اور [[کفارہِ قتل]] و [[کفارہِ حلف]] ہیں۔<ref>[[من لا یحضرہ الفقیہ]] جلد 2، صفحہ 104، حدیث نمبر 1998، مترجم سید حسن امداد ممتاز الافضل (غازی پوری)</ref>
====== روزہ فرض ہونے کا سبب ======
ایک مرتبہ [[ہشام بن حکم]] نے حضرت [[امام جعفر صادق]] علیہ السلام سے روزہ کا سبب دریافت کیا تو آپ ع نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے روزہ اس لئے فرض کیا تاکہ امیر و فقیر دونوں برابر ہو جائیں کیونکہ امیر نے کبھی بھوک کا مزا ہی نہیں چکھا تاکہ فقیروں پر ترس کھاۓ اور مہربانی کرے اسکی وجہ یہ ہے کہ امیر شخص کو جس چیز کی خواہش ہو اسکا حصول اسکے بس میں ہے اسی بناء پر اللہ تعالی نے چاہا کہ اس کی مخلوق باہم مساوی ہو جاۓ اسطرح کہ امیر بھی بھوک کا مزا چکھے تاکہ کمزوروں کے لئے اسکا دل نرم ہو اور بھوکوں پر رحم کرے.<ref>[[من لا یحضرہ الفقیہ]] حدیث نمبر 1766</ref>
[[علی رضا|حضرت ابو الحسن امام علی ابن الرضا]] علیہ السلام نے [[محمد بن سنان]] کے مسائل کے جواب میں جو کچھ تحریر کیا اسکے اندر روزہ کا یہ سبب بھی تحریر فرمایا کہ انسان بھوک اور پیاس کا مزا چکھ کر خود کو ذلیل و مسکین سمجھے تو اسے اسکا ثواب دیا جاۓ اسکا احتساب ہو وہ اس روزے کی تکلیف کو برداشت کرے اور یہ چیز اسکے لئے آخرت کی سختیوں کی طرف راہنما ہو. نیز اسکی خواہشات میں کمی ہو اور عاجزی پیدا ہو. دنیا میں اسکو نصیحت ملتی رہے اور آخرت کی سختیوں کی نشاندہی ہوتی رہے اور اسے علم ہو کہ دنیا اور آخرت میں فقیر و مسکین کیا کیا سختیاں برداشت کرتے ہیں.<ref>[[من لا یحضرہ الفقیہ]] حدیث نمبر 1767</ref>
 
==== اصولی ====
===== فاضل لنکرانی کے فتاویٰ کے مطابق =====
903

ترامیم