"جنگ جمل" کے نسخوں کے درمیان فرق

961 بائٹ کا اضافہ ،  2 مہینے پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (←‏قاتلان عثمان کون؟: "یہ 100 بکواسیات پر مشتمل ہے" یہ فقرہ حذف کیا کیونکہ کسی نے اس سارے مضمون کی مخالفت میں یہ فقرہ آخر میں شامل کیا تھا۔)
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
 
 
== پس منظر ==
حضرت عثمان ایک شریف ترین اور صالح ترین خلیفہ تھے۔ مروان بن الحکم جیسا بد طینت آدمی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تھا کو حضرت عثمان واپس لے آئے اور داماد بنا لیا۔
 
وہ قصر خلافت میں ہی رہتا تھا اور حضرت عثمان کے دستخطوں اور مہر سے قبائلی عصبیت کے بے شمار کام کرتا تھا۔
 
اس نے مملکت کا نظام اتنا خراب کر دیا تھا کہ لوگ گورنروں کی معزولی کے لیے احتجاج کرنے لگے۔
 
مروان نے سنی ان سنی کر دی اور بزور تشدد تحریک کو دبانا چاہا۔ فتنہ پرور بھی موقع کی تلاش میں تھے۔ انھون نے حملہ کر دیا اور حضرت عثمان کو شہید کر دیا۔
 
حضرت عثمان اسلام کے تیسرے خلیفہ مقرر ہوئے تو آپ کے دور میں یہودیوں نے "منافقت " کا راستہ بڑے پرعزم طریقے اور منصوبہ بندی سے اختیار کیا۔ طبری کی روایت ہے کہ 33-35 ہجری کے برسوں میں ایک یمنی یہودی [[عبداللہ بن سبا]] نے، جو ابن السودا کے نام سے مشہور تھا، اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ظاہری تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ نمازِ فجر کے لیے مسجد میں داخل ہونے والا وہ پہلا شخص ہوتا اور عشاء کے بعد مسجد سے رخصت ہونے والا بھی وہ آخری شخص ہوتا۔ ہر وقت نوافل کی ادائیگی میں مصروف رہتا۔ اکثر روزہ رکھتا اور ورد و وظائف کا تو شمار ہی نہ تھا۔
جب اس نے دیکھا کہ علی نبی {{درود}} کے بہت قریبی رشتہ دار ہیں اگر ان کے نام پر عثمان کے خلاف کام کیا جائے تو بڑا کامیاب ہوگا۔ عرب میں عبد ﷲ بن سبا اپنا کام نہ کرسکا کیونکہ یہاں صحابہ کی کافی بڑی تعداد موجود تھی اس لیے اس نے عراق کے علاقے کا انتخاب کیا کیونکہ یہ علاقہ مسلمانوں نے فتح کر لیا تھا لیکن یہاں پر اب بھی وہاں کے لوگوں کے دلوں میں ایرانی بادشاہ کی محبت اور مسلمانوں کے خلا ف نفرت تھی۔ وہاں جاکر عبد اﷲ بن سبا نے لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ یہ کیا بات کہ نبی {{درود}} کے رشتہ دار یعنی علی تو یوں ہی بیٹھے رہیں اور اِدھراُدھر کے لوگ خلیفہ بن جائیں۔ ابھی وقت ہے کہ عثمان کو ہٹا کر علی کو خلیفہ بنادو۔ لیکن چونکہ بصرہ عراق میں صحابہ کی بہت ہی تھوڑی تعداد تھی جو نہ ہونے کے برابر تھی اس لیے کوئی عبد ﷲ بن سبا کی باتوں کا جواب نہ دے سکتا اگر وہ ہوتے تو کچھ جواب دیتے لوگ آہستہ آہستہ اس کی باتوں سے متاثر ہوکر عثمان کے خلاف ہوتے گئے۔ جب بصرہ کے گورنر عبد ﷲ بن عامر کو عبد ﷲ بن سبا کی منافقت کی خبر ملی تو اس کو بصرہ سے نکال دیا اور یہ پھر کوفہ پہنچ گیا۔ وہاں سے بھی نکلوادیا گیا پھر یہ شام پہنچا لیکن وہاں معاویہ گورنر تھے جنھوں نے اس کو وہاں سے بھی نکال دیا۔ عبد ﷲ بن سبا کو چونکہ تمام اسلام دشمن لوگوں کی پشت پناہی حاصل تھی اس لیے وہ اس کام کو چلانے کے لیے پروپیگنڈہ کرتا رہا۔ عبد ﷲ بن سبا شام سے نکالے جانے کے بعد مصر پہنچا اور وہاں کام شروع کیا اور ایک اچھی خاصی جماعت بنالی جو عثمان کے خلاف ہو گئے۔
عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے فوری طور پر باغیوں کا مطالبہ تسلیم کیا اور نئے گورنر کی تقرری کا خط لکھ کر محمد بن ابی بکر کے حوالے کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ فوراً مصر پہنچیں۔ باغیوں کو ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ ان کا یہ مطالبہ اتنی آسانی سے تسلیم کر لیا جائے گا۔ اب ان کے لیے مصر واپسی کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہ گیا تھا۔ پھر اس بدنام کہانی کا آغاز ہوا کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے خفیہ طور پر ایک ایلچی مصر بھیجا جس میں گورنر کو مبینہ طور پر ہدایت کی گئی تھی کہ نئے نامزد گورنر محمد بن ابی بکر جونہی مصر پہنچے انہیں قتل کر دیا جائے۔<ref>طبری، ابن حجر، زوائد، مسند البزار، مسودات پیر جھنڈو پاکستان، المطالب العالیہ ایڈیشن کویت پیرا 4438، ابن العربی، عواصم من القواسم صفحہ 96</ref>
مصری دستہ نے مطمئن ہوکر واپسی کا سفر اختیار کیا۔ نامزد گورنر محمد بن ابی بکر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ راستے میں ایک تیز رفتار اونٹ سوار ان کے پاس سے گزر کر آگے گیا۔ اس کا رخ مصر کی جانب تھا۔ ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ وہی اونٹ واپس مدینہ کی طرف جاتا نظر آیا۔ اور ایک بار پھر دیکھا گیا کہ وہی اونٹ سوار دوبارہ مصر کی جانب عازمِ سفر ہے۔ مگر کسی نے اس سے تعرض نہ کیا پھر اچانک اس نے قافلہ والوں پر دشنام طرازی شروع کردی۔ انہوں نے پوچھا "تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟" اس نے بڑے متکبرانہ انداز میں جواب دیا "میں خلیفہ کا قاصد ہوں اور گورنر مصر کے لیے ان کا خط لے کر جا رہا ہوں۔" اور خط بھی انہیں دکھا دیا۔ متجسس ہوکر محمد بن ابی بکر نے وہ خط کھول لیا اور پڑھا جس میں مبینہ طور پر گورنر مصر کو ہدایت کی گئی تھی کہ جونہی نامزد گورنر محمد بن ابی بکر اپنا تقرر نامہ لے کر آپ کے پاس پہنچیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے ساتھیوں کو دیگر سزائیں دی جائیں۔ یہ خط بھی ابن سبا کی ایک اور [[جعل سازی]] تھی۔ سازشیوں کی توقع کے عین مطابق خط پڑھ کر محمد بن ابی بکر برافروختہ ہو گئے۔ انہوں نے فی الفور مدینہ واپسی کا سفر اختیار کیا اور دار الحکومت پہنچ کر طوفان کھڑا کر دیا اور اگرچہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے قسم اٹھا کر انہیں یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ خط انہوں نے نہیں لکھا مگر محمد بن ابی بکر نہ مانے۔
مصری باغی پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچے اور مطالبہ کیا کہ خلیفہ کے قتل کے لیے ان کا ساتھ دیں جنہوں نے بلاوجہ ہمارے قتل کا حکم دیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا" آپ ہمیں کس طرح انکار کرسکتے ہیں؟ آپ ہی نے تو خط لکھ کر ہمیں بلوایا ہے۔" انہوں نے کہا "خدا کی قسم! میں نے کبھی کوئی ایسا خط نہیں لکھا۔" باغی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا "تم مصر کے راستے سے عثمانؓ کے ایک جعلی خط کا بہانہ بنا کر واپس آ گئے ہو مگر بصرہ اور کوفہ جانے والے دستے جو اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہوچکے تھے وہ بھی تمہارے ساتھ ہی مدینہ واپس پہنچ چکے ہیں۔ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ تم لوگوں کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟ یقیناً یہ سازش کا شاخسانہ ہے" <ref name="طبری" />۔
حج کا زمانہ قریب آ رہا تھا۔ خلیفہ نے مدینہ گریژن کے فوجی دستوں کو حج پر جانے کی اجازت دے دی اور مدینہ امن و امان قائم رکھنے والی فوج سے خالی ہو گیا۔ باغیوں نے خلیفہ کی رہائش گاہ کا محاصرہ کر لیا اور انہیں مسجدِ نبوی میں نمازیوں کی امامت سے روک دیا۔ غفیقی نامی ایک یمنی نے، جو ابن سبا کا نائب تھا، خلیفہ کی جگہ نمازوں کی امامت شروع کردی۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ابن سبا کی طرح وہ بھی یہودی تھا کیونکہ شہادتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد اس نے اس قرآن کو پاؤں سے ٹھوکر ماری جسے شہادت کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ پڑھ رہے تھے اور یہ الٹ کر خلیفہ کے گھٹنوں پر گر پڑا۔
باغیوں نے خلیفہ کی رہائش گاہ کا گیٹ جلادیا تاہم وہ اندر نہ جاسکے۔ اس پر حملہ آور محمد(بن ابو بکرؓ) کے ہمراہ پیچھے کی گلی سے ہوکر مکان کی عقبی دیوار پر چڑھ گئے اور اندر کود کر قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے خلیفہ کو شہید کرڈالا۔ ان کی اہلیہ شوہر کو بچانے کی کوشش میں شدید زخمی ہوگئیں۔ ان کے ہاتھ کی انگلیاں بھی کٹ گئیں۔ باغیوں نے گھر میں لوٹ مار بھی کی۔ حملہ سے قبل محمد بن ابی بکرنے معمر خلیفہ کی داڑھی پکڑلی۔ جب خلیفہ نے انہیں شرم دلائی کہ "اگر آپ کے والد(ابوبکرؓ ) یہاں ہوتے اور آپ کو اس حالت میں دیکھتے ۔۔۔" تو انہوں نے داڑھی چھوڑ دی اور واپس چلے گئے تاہم دوسروں نے اپنا کام مکمل کر دیا۔ شومیٔ قسمت دیکھیے کہ باغیوں نے خلیفہ کے جسدِ خاکی کو جنت البقیع میں دفن کرنے سے بھی روک دیا اور کہا کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ یہودی ہیں (استغفراللہ) اور یہ حقیقت ہے کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو جس قطعہ اراضی پر دفن کیا گیا وہ ایک یہودی کی ملکیت تھی۔ بعد میں جب معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے وہ قطعہ اراضی جس میں معصوم خلیفہ کی قبر تھی خرید کر جنت البقیع میں شامل کر دیا۔