"افطار" کے نسخوں کے درمیان فرق

16 بائٹ کا اضافہ ،  2 مہینے پہلے
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
 
== افطار میں مستحب ==
روزہ، [[کھجور]] اور پانی سے افطار کرنا مستحب اور سنت ہے۔ افطاریافطار کے دسترخوان پر کھجور ایک بابرکت کھانا تصور کیا جاتا ہے۔ [[پیغمبر اسلام]] [[محمد]] {{ص}} کا فرمان ہے:<ref>خرجه أحمد (4/17)، والترمذي رقم: (658)، وقال: حديث حسن، والنسائي في الكبرى رقم: (3319)، وابن ماجه رقم: (1699)، وصححه ابن خزيمة، وابن حبان، والحاكم، وضعفه الألباني في الضعيفة رقم: (6383)، وقال: "والصحيح من فعله صلى الله عليه وسلم".</ref> {{اقتباس|تم جب افطار کرو تو کجھور سے افطار کرو اس لیے وہ برکت والی غذا ہے، اگر کھجور موجود نہ ہو تو پانی سے افطار کرو اس لیے بھیکہ پانی پاک غذا ہے۔}}
 
رسول اللہ {{ص}} نماز سے پہلے کجھور اور پانی سے روزہ افطار کیا کرتے تھے۔<ref>أخرجه أحمد (3/164) وقال شعيب الأرناؤوط: "إسناده صحيح على شرط مسلم, رجاله ثقات رجال الشيخين غير جعفر بن سليمان فمن رجال مسلم"، والترمذي رقم: (696) وقال: هذا حديث حسن غريب، وأبو داود رقم: (2358)، وصححه المناوي في التيسير بشرح الجامع الصغير (2/546)، والألباني.</ref>
کجھور اور پانی سے افطار کرنا طبی اعتبار سے بھی بہت مفید بتایا جاتا ہے، طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق دن بھر بھوکا رہنے کے بعد فطری طور پر جن غذاؤں کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے کجھور اور پانی میں وہ غذائیت بھر پور ہوتی ہے۔<ref>التيسير بشرح الجامع الصغير (1/886)، وفيض القدير شرح الجامع الصغير (3/209).</ref><ref>'''وصفات طبية من الكتاب والسنة (ص: 15).'''</ref>
 
بہتر بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ پہلے کجھور اور پانی سے یا جو کچھ ہلکی غذا موجود ہو اس سے روزہ افطار کر لیا جائے اور [[مغرب]] کی نماز ادا کی جائے اور نماز کے بعد پیٹ بھر کھانا کھایا جائے۔ مغرب کا وقت بہت کم ہوتا ہے، رسول اللہ {{ص}} مغرب میں جلدی کیا کرتے تھے اور افطار بھی جلدی کرتے تھے۔ ماہرین طب بھی ہلکی غذا کی تاکید کرتے ہیں۔ عالم اسلام میں عموما یہی رواج ہے کہ کجھور اور پانی سے افطار کر کے نماز ادا کی جاتی ہے اور نماز کے بعد افطار کا دسترخوان تناول کیا جاتا ہے۔
 
== افطار کے پکوان ==