"جنگ یرموک" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا اضافہ ،  2 سال پہلے
(ٹیگ: ترمیم ماخذ 2017ء)
(ٹیگ: ترمیم ماخذ 2017ء)
== میدان جنگ ==
 
یرموک کا میدان ہے رومیوں کا بہت بڑا لشکر سامنے ہے ابوعبیدہ کو اطلاح ملی کے رومیوں کا ساٹھ ہزار نصرانی عرب کا لشکر جنگ کے لیے آ گیا ہے ابو عبید ہ بن جراح نے لشکر کو تیاری کا حکم دیا پر خالد بن ولید نے پکارا اے مسلمانوں ٹھہر جاو توقف کرو رومیوں نے ساٹھ ہزار عرب بھیجے ہیں میں آج ان کی ناک خاک آلود کروں گا میں تیس 30 آدمیوں کے ساتھ اس کا مقابلہ کروں گا یہ بات سن کر سب مجاہد تعجب میں پڑ گئے کہ شاید خالد خوش طبعی کے طور پر بات کر رہے ہیں ابو سفیان نے پوچھا کیا واقعی آپ 30 آدمی لے کر جائیں گے تو خالد نے کہا ہاں واقعی میرا یہی ارادہ ہے ابو سفیان نے کہا مجاہدوں سے میری محبت کی وجہ سے میری درخواست ہے تم 30 کی بجائے 60 آدمی لے جا ابو عبید ہ نے بھی تائید کی تو خالد مان گئے اب یہ 60 کا لشکر 60000 کے لشکر سے جنگ کرنے جا رہا ہے جبلہ بن ایہم غسانی نے جب دیکھا کے مسلمانوں کا ایک گروہ آ رہا ہے تو سمجھا مسلمان ڈر کے صلح کرنے آ رہے ہیں اور خالد بن ولیدسے کہتا ہے کہ میں اپنی شرائط پر صلح کروں گا مگر خالد نے جواب دیا ہم تجھ سے جنگ کرنے آے ہیں صلح نہیں جبلہ بن ایہم بولا جا اپنا لشکر لے کر آ خالد نے مجاہدوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ ہے میرا 60 افراد کا لشکر جبلہ بن ایہم نے کہا میں نہیں چاہتا عرب کی مائیں طعنہ دیں کہ جبلہ بن ایہم نے 60000 کے لشکر سے 60 آدمیوں پر چڑھائی کر دی خالد بن ولید نے کہا ہمارا ایک مرد تیرے ایک ہزار کے برابر ہے تو حملہ کر پھر دیکھ تیراکیا حشر ہوتاہوگا۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے یہ بات سن کر جبلہ آگ بگولہ ہو گیا اور اس نے لشکر کو حملے کا حکم دیا
60000 کا لشکر 60 افراد پر ٹوٹ پڑا اور چاروں طرف سے گھیر لیا لگتا تھا یہ سمندر ان کو بہا کر لے جائے گا لیکن اسلام کے یہ شیر دل بہادر مجاہد اس سیلاب کے سامنے ڈٹے رہے اور تیز رفتار تلوار زنی کر کے دشمن کو پاس نہ آنے دیا مجاہدین نعرہِ تکبیر بلند کر کے ساتھیوں کو جوش دلاتے مگر اس رومی لشکر کے شور میں یہ آواز دب جاتی خالد بن ولید اور ان کے ساتھیوں ضرار بن ازور۔ زبیر بن عوام۔ عبد اللہ بن عمر۔ عبد الرحمٰن بن ابی بکر۔ فضل ابن عباس نے حصار کی صورت گھوڑے ملا لیے اس طرح ایک دوسری کی حفاظت کرتے خود کو اور اپنے ساتھی کو دشمن کے وار سے بچاتے اور دشمن کو قتل کرتے رہے صبح سے شام ہو گئی رومی سپاہی نڈھال ہو گئے مگر مجاہدین تازہ دم لگ رہے تھے
جب شام تک ابو عبید ہ کو کچھ خبر نہ آئی تو لشکر کو حملے کا حکم دینے لگے تو ابو سفیان نے کہا اے ابو عبید ہ اب رک جا اور اللہ کے فیصلے کا انتظار کر انشااللہ وہ دشمن پر غلبہ پا لیں گے