"پیل وفد" کے نسخوں کے درمیان فرق

261 بائٹ کا ازالہ ،  8 مہینے پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
Peel Commission» کے ترجمے پر مشتمل نیا مضمون تحریر کیا)
 
 
{{خانہ معلومات دستاویز|document_name=روداد از شاہی وفد برائے فلسطین کی روداد|Image=PeelMap.png|image_size=|image_alt=|caption=پیل وفد کا تقسیمی منصوبہ , جولائی 1937ء|date_created=جولائی 1937ء|date_ratified=7 جولائی 1937ء <ref name=vote>[http://hansard.millbanksystems.com/commons/1939/may/23/palestine#S5CV0347P0_19390523_HOC_302 Debate and vote on 23 May 1939; Hansard. Downloaded 10 December 2011]</ref>|date_effective=|date_repeal=|location_of_document=|writer=|signers=|purpose=تحقیات برائے وجوہات [[1936–39 Arab revolt in Palestine|1936 فلسطینی عرب بغاوت]]}}<nowiki> </nowiki>'''پیل وفد'''، جو باضابطہ طور پر '''فلسطین رائل کمیشن کے''' نام سے جانا جاتا ہے، تحقیقات کا ایک برطانوی [[ رائل کمیشن |شاہی وفد]] تھا ، جو [[ ولیم ویلزلی پیل ، اول ارل پیل |لارڈ پیل]] کی سربراہی میں ، 1936ء میں برطانوی زیر انتظام [[انتداب فلسطین]] میں بدامنی کی وجوہات کی تحقیقات کے لئے مقرر کیا گیا تھا، ،جسے چھ ماہ طویل انتداب فلسطین میں عام ہڑتال، کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔
 
7 جولائی 1937ء کو ، کمیشن نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں ، پہلی بار کہا گیا کہ [[جمیعت اقوام|جمعیت اقوام]] [[ برطانوی مینڈیٹ برائے فلسطین (قانونی آلہ) |حکمنامہ]] ناقابل عمل بن ہوگیا ہے اور تقسیم کی سفارش کی گئی ۔ <ref name="avalon">[http://avalon.law.yale.edu/20th_century/angap04.asp Anglo-American Committee of Inquiry - Appendix IV] Palestine: Historical Background</ref> برطانوی کابینہ نے تقسیم کے منصوبے کی اصولی طور پر توثیق کی، لیکن مزید معلومات کی بھی درخواست کی۔ <ref name="Mandated Landscape">Mandated Landscape: British Imperial Rule in Palestine 1929-1948</ref> اشاعت کے بعد، 1938ء میں [[ ووڈ ہیڈ کمیشن |وڈہیڈوفد]] مقرر کیا گیا تاکہ اس کی تفصیلات سے جانچ اور تقسیم کے اصل منصوبے کی سفارشات مرتب کی جاسکیں۔
 
یروشلم کے [[مفتی]] ، حاجی [[امین الحسینی مفتی اعظم|امین الحسینی]] ، نے کمیشن کے سامنے گواہی دیتے ہوئے یہود کے ساتھ عرب سرزمین کی کسی بھی تقسیم کی مخالفت کی۔ انہوں نے یہودی نقل مکانی کو مکمل طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ اگرچہ عربوں نے باضابطہ طور پر وفد کا مقاطعہ(بائیکاٹ)جاری رکھا ، تاہم ویزمان کے دعوے کا فوری جواب دینے کی قطعیت و ناگزیریت کا احساس پیدا ہوا۔ یروشلم کے سابق ناظم [[ رغیب النشاشیبی |راغب بے النشاشبی]] - جو اندرونی فلسطینی میدان میں مفتی کے حریف تھے، اس طرح بےضابطہ ذرائع سے عرب نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے بھیجا گیا۔ {{حوالہ درکار|date=July 2018}}
 
<sup class="noprint Inline-Template Template-Fact" data-ve-ignore="true" style="white-space:nowrap;">&#x5B; ''[[ویکیپیڈیا:حوالہ درکار|<span title="This claim needs references to reliable sources. (July 2018)">حوالہ کی ضرورت</span>]]'' &#x5D;</sup>
1981ء میں یہ انکشاف ہوا کہ [[یہودی ایجنسی]] کے سیاسی شعبہ کے اعلی مختارکار نے اس کمرے میں مائکروفون نصب کیے تھے جس میں وفد اجلاس کررہا تھا اور بن گوریان کیمرے میں رکھے شواہد کی نقلیں پڑھنے کے قابل تھے۔