"پورس" کے نسخوں کے درمیان فرق

395 بائٹ کا ازالہ ،  1 سال پہلے
(ٹیگ: ترمیم از موبائل ترمیم از موبائل ایپ اینڈرائیڈ ایپ ترمیم)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل ترمیم از موبائل ایپ اینڈرائیڈ ایپ ترمیم)
دوم: راجہ پورس اس جنگ کے چالیس سال بعد تک نا صرف زندہ رہا بلکہ پنجاب کا حاکم بھی رہا اور اُسکے بعد اُسکی نسل بھی حاکم رہی اور سلطنت کی سرحدوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ مگر سکندر یونانی کی زندگی کی یہ آخری جنگ تھی اور اس جنگ کے چند دن بعد ہی اُسکی موت ہوگئ ۔سکندر کی موت کے ساتھ ہی یونانی سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ یونانی سپہ سالاروں میں خانہ جنگی شروع ہوگئ اور وہ سب علاقہ بشمول ایران افغانستان تُرکی جو سکندر نے فتح کیا تھا۔ چند ماہ کے اندر ہی یونان کی مرکزی حکومت کے ہاتھ سے نکل گیا۔
 
== مختصرپورس ریاستکی سلطنت ==
سکندر یونانی سے جنگ میں راجہ پورس کا بڑا بیٹا راجہ امر شہید ہو گیا۔ شہزادے کی موت پر چند درباریوں نے راجہ پورس سے افسوس کا اظہار کیا تو مہاراجہ نے وہ تاریخی جملہ کہا کہ پنجاب کی حفاظت کے لیے لڑنے والا ہر سپاہی میرا بیٹا ہے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ یونانی فوج کی پسپائ کے بعد جنوب مغرب میں یونانیوں کے زیرقبضہ تینتیس شہر بھی راجہ پورس کی ریاست میں شامل ہوگئے۔
یہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے ایک مختصر سی ریاست جس کی آبادی بھی اتنی نہیں ہوگی جتنی کے اس کی فوج کی تعداد بتائی جاتی ہے ۔ اس کی مختصر ریاست کے وسائل کیا اتنے تھے کہ وہ اتنی بڑی فوج رکھ سکے ۔ بقول سر برٹس کے اگر ہم رتھوں کی جگہ توپیں تصور کر لیں تو اس فوج کی تعداد مہاراجا رنجیت سنگھ کے برابر ہوگی ۔ جب کہ مہاراجا رنجیت سنگھ کے پاس پنجاب کے علاوہ دیگر علاقوں جن میں کشمیر ، ہزارہ ، درہ خیبر اور دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر ڈیرہ اسمعیل خان تک کا حکمران تھا ۔ سکندر نے گلاسی قبیلہ جس کے قبصہ میں سینتس بڑے شہر تھے پورس کو دے دیے ۔ مگر پھر بھی کوئی بڑا علاقہ اس کے زیر دست کبھی نہیں رہا تھا ۔
 
== حقیقت ==
گمنام صارف