"فرہنگ آصفیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

6 بائٹ کا اضافہ ،  1 سال پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
1878 میں انھوں نے ارمغانِ دہلی کے نام سے رسالے کی شکل میں لغت طبع کرنے کا آغاز کیا۔ بعد میں [[نظام حیدرآباد|نظام دکن]] [[محبوب علی خان]] کی سرپرستی میسر آگئی تو انھوں نے اس لغت کو نظام دکن کے لقب آصف کی نسبت سے فرہنگِ آصفیہ کے نام سے چھاپنا شروع کیا۔
 
فرہنگِ آصفیہ صرف لغت ہی نہیں ہے بلکہ سید احمد دہلوی نے بعض اندارجات کے تحت بے حد تفصیل سے انسائیکلوپیڈیا کے انداز میں معلومات فراہم کی ہیں۔ مثال کے طور اولیائے ہند کے تحت 43 مختلف صوفیا کے تفصیلی حالاتِ زندگی درج ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لغت انیسویں صدی کی [[گنگا جمنی تہذیب]] کا مرقع ہے جس میں اساُس دور کے رسم و رواج، ملبوسات، شعری، ادبی و علمی اصطلاحات، زیوارت، خوراک و مشروبات، نشست و برخاست وغیرہ سے متعلق الفاظ کا ایسا ذخیرہ ملتا ہے جو کہیں اور دستیاب نہیں۔
 
اس عظیم الشان لغت کی پہلی دو جلدیں 1888ء میں، تیسری جلد 1898 میں، جب کہ چوتھی اور آخری جلد 1902ء میں شائع ہوئی۔