"میمونہ بنت حارث" کے نسخوں کے درمیان فرق

*مزید پڑھیے: '''[[محمد بن عبد اللہ]]'''، '''[[عمرۃ القضا]]'''، '''[[لبابہ بنت حارث|اُم الفضل لبابہ بنت حارث]]'''، '''[[عباس بن عبد المطلب]]'''، '''[[جعفر بن ابی طالب]]'''، '''[[الاحزاب|سورۃ الاحزاب]]'''
سنہ [[7ھ]] مطابق [[628ء]] میں [[محمد بن عبد اللہ|رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم]] [[عمرۃ القضا]] کی ادائیگی کے لئے [[مکہ مکرمہ]] تشریف لائے <ref>[[ابن جریر طبری|امام ابن جریر طبری]]: [[تاریخ الرسل والملوک]]، جلد 3، صفحہ 25 </ref> تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا مسلمانوں کی اِس ہیبت کو دیکھ کر حیران ہوئیں اور اُنہیں [[محمد بن عبد اللہ|رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم]] سے قلبی لگاؤ پیدا ہوگیا۔ <ref>دکتور عائشہ بنت الشاطی: نساء النبی، مطبوعہ دارالکتب العربی، [[بیروت]]، [[لبنان]]، [[1985ء]]</ref>
اُنہوں نے اِس موضوع کو اپنی بہن [[لبابہ بنت حارث|اُم الفضل لبابہ بنت حارث]]کے سامنے رکھا (جو کہ [[محمد بن عبد اللہ|رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم]] کی چچی بھی تھیں)۔ تو اُنہوں نے اپنے شوہر [[عباس بن عبد المطلب]] سے اِس رشتہ کے لیے درخواست کی۔ [[عباس بن عبد المطلب]] نے [[محمد بن عبد اللہ|رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم]] کے سامنے اِس بات کا اِظہار کیا تو [[محمد بن عبد اللہ|رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم]] نے [[جعفر بن ابی طالب]] کو اِس خواستگاری کے لیے بھیجا۔ <ref>[[بلاذری|احمد بن یحیٰ البلاذری]]: [[انساب الاشراف]]، جلد 1، صفحہ 446، تحقیق: سہیل زکار/ریاض زِرکلی، مطبوعہ اول، دارالفکر، [[بیروت]]، [[لبنان]]، [[1996ء]]</ref> جب [[محمد بن عبد اللہ|رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم]] کی جانب سے اُنہیں [[نکاح]] کا پیغام پہنچا تو وہ اُس وقت [[اونٹ]] پر سوار تھیں۔ اُس وقت اُنہوں نے خوشی سے کہا: '''’’اونٹ اور اُس کا سوار، اُن کے خدا اور اُن کے رسول کی یاد میں ہیں‘‘'''۔
اِس موقع پر [[الاحزاب|سورۃ الاحزاب]] کی پچاسویں [[آیت]] نازل ہوئی:
*{{قرآن مصور|سورة الأحزاب|50}}